اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی) آئینی اصلاحات پر پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 45‘ 46 اور 50 کے تمام اختیارات صوبوں کو منتقل کرنے پر اتفاق رائے ہو گیا ہے۔ ان اختیارات کی منتقلی کے بعد صوبے پراپرٹی ٹیکس اور غیر منقولہ جائےداد پر کیپیٹل گین ٹیکس لگا سکیں گے۔ کمیٹی کا اجلاس رضا ربانی کی زیر صدارت ہوا‘ خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں جنرل سیلز ٹیکس کی وصولی پر اختلاف رائے پایا جاتا ہے‘ مسلم لیگ (ن) اور (ق) کا موقف یکساں ہے‘ دونوں جماعتیں اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ جنرل سیلز ٹیکس کی وصولی کا کام وفاق کے پاس رہنا چاہئے۔ اجلاس میں فیڈرل لیجسلیٹو لسٹ کے تحت مرکز اور صوبوں میں قانون سازی کے لئے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا‘ کمیٹی کا اجلاس آج بھی ہو گا۔ آئینی اصلاحات کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علماءاسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے موجودہ چیف جسٹس کو مجوزہ جوڈیشل کمشن کا چیئرمین بنانے کے فیصلے کو میثاق جمہوریت کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جمعیت علماءاسلام (ف) نے پی سی او جج کو جوڈیشل کمشن کا سربراہ مقرر کرنے کے خلاف اختلافی نوٹ لکھنے کا فیصلہ کیا ہے‘ آئینی اصلاحات پر پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم آئین میں 17ویں ترمیم کا مکمل طور پر خاتمہ چاہتے ہیں‘ اس میں سے کچھ حصے برقرار رکھنے کے حق میں نہیں‘ انہوں نے کہا کہ کمیٹی پر دباو نہ ڈالا جائے اس سے کمیٹی کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے‘ پارلیمنٹ کا کام قانون سازی ہے باہر سے دباو ڈالا جائے گا تو عوام یہ کہہ سکیں گے کہ دباو میں فیصلے ہو رہے ہیں۔
Post New Comment