اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) پاکستان اور ترکی نے تجارت‘ توانائی اور دیگر اقتصادی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے جبکہ ترکی نے سوات متاثرین کیلئے مزید ایک کروڑ ڈالر امداد کا اعلان کیا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ترک ہم منصب نے ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات‘ خطے کی سکیورٹی کی صورتحال‘ فرینڈز آف پاکستان کے آئندہ اجلاس‘ مالاکنڈ اور سوات متاثرین کی بحالی کے امور پر گفتگو کی گئی۔ ترک وزیر خارجہ احمد دواتوگلو نے وزیر خارجہ شاہ محمود کے ساتھ اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس میں پاکستان کو اپنا سٹرٹیجک پارٹنر قرار دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں موجود تمام فریقوں کو پاکستان کی خودمختاری کا احترام کرنا چاہئے، عالمی ادارے اور تنظیمیں اس حوالے سے پاکستان کی مدد کریں، افغانستان اور اس کے پڑوسی ممالک کے سربراہوں کا اجلاس اس سال نومبر میں ترکی میں ہو گا۔ ترک وزیر خارجہ احمد دواتوگلو نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان انتہائی شاندار روایتی اور برادرانہ تعلقات ہیں اور وزیر خارجہ کا منصب سنبھالنے کے بعد وہ سب سے پہلے پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے ساتھ تین پیغام لے کر آئے ہیں، پہلا پیغام 7 کروڑ ترکوں کی طرف سے اپنے پاکستانی بھائیوں کیلئے محبت، بھائی چارے اور امن کا پیغام ہے۔ دوسرا پیغام ترک قیادت کی طرف سے پاکستانی قیادت کے نام ہے، دونوں ملکوں کے درمیان صرف سیاسی، سفارتی اور جذباتی تعلقات ہی نہیں بلکہ پاکستان ہمارا سٹرٹیجک شراکت دار ہے اور ہم مستقبل میں بھی مل کر کام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ تیسرا پیغام ترکی کے سلامتی کونسل کے موجودہ صدر کی حیثیت سے پاکستان کی حکومت اور عوام کیلئے لے کر آئے ہیں۔ انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی تعلقات کی سطح پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ترکی کا بین الاقوامی ترقی کا ادارہ پاکستان میں جلد اپنا آفس قائم کرے گا۔ پاکستانی سکیورٹی فورسز کی استعداد بڑھانے کے حوالے سے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان سکیورٹی معاملات پر مشترکہ میکنزم موجود ہے اور ہم اس سلسلے میں مل کر کام کرتے رہیں گے، ترکی غیر ملکی جنگجوئوں کے مسئلے سے آگاہ ہے جس پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عسکریت پسندوں کو بیرونی ہتھیار ملے رہے ہیں اور اس کیلئے منشیات کی رقم بھی استعمال ہو رہی ہے۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکی عالمی فورموں پر ایک دوسرے کے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں۔ حال ہی میں او آئی سی کے وزارتی اجلاس میں ترکی نے آئی ڈی پیز کی مدد کیلئے قرارداد پیش کی، 5 جولائی کو ترکی اور خلیج تعاون کونسل کے اجلاس میں اس مسئلے کو اٹھایاجائے گا جبکہ ترکی یہ معاملہ اقوام متحدہ میں بھی اٹھائے گا، اس موقع پر وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان میں غیر ملکی فوجیوں کی تعداد میں اضافے پر پاکستان کے تحفظات ہیں خصوصاً بلوچستان میں اس کے سنگین مضمرات ہوں گے۔ انہوں نے حال ہی میں امریکی ایلچی ہالبروک کے ساتھ اس معاملے پر تبادلہ خیال کیا جبکہ عسکری قیادت بھی نیٹو اور ایساف کی قیادت کے ساتھ ان مضمرات پر بات چیت کر رہی ہے۔ شاہ محمود نے کہا کہ افغان مسائل پاکستان منتقل کرنے سے افغانستان کے مسائل حل نہیں ہوں گے‘ انہوں نے کہا کہ پاکستان مرکی کی یورپی یونین میں شمولیت کا حامی ہے۔
Post New Comment