واشنگٹن (نمائندہ خصوصی + ریڈیو نیوز + ایجنسیاں) امریکی محکمہ دفاع پنٹاگون نے کہا ہے کہ پاکستان ایک خودمختار اور آزاد ملک ہے جو اپنے فیصلے خود اپنے مفاد میں کرتا ہے تاہم انتہا پسندوں کے خلاف آپریشن جاری رہنا چاہئے‘ پاکستانی فورسز کو آپریشن کو جنوبی اور شمالی وزیرستان تک توسیع دینا چاہئے‘ آپریشن کے کامیاب نتائج کے لئے ہر قسم کی مدد کو تیار ہیں۔ ادھر امریکی نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر ڈینس بلیئر نے کہا ہے کہ آج پاکستان ان شعبوں میں بھی امریکہ کے ساتھ چلنے کیلئے تیار ہے جن میں پہلے اکٹھے چلنا ناممکن تھا‘ یہ ایک مثبت تبدیلی ہے۔ پاکستان و افغانستان کے لئے امریکی نمائندے رچرڈ ہالبروک نے کہا ہے کہ پاکستان ہمیشہ امریکی توجہ کا مرکز رہے گا۔ پاک فوج اور سیاسی قیادت دہشتگردوں کے خلاف کارروائی میں یکسو ہیں تاہم عالمی برادری نے اس معاملے میں پاکستان کی خاطر خواہ مدد نہیں کی۔ تفصیلات کے مطابق صحافیوں کو بریفنگ کے دوران پنٹاگون کے ترجمان جیف مورل نے کہا کہ امید ہے سوات میں شدت پسندوں کیخلاف آپریشن ان کی مکمل شکست تک جاری رہیگا۔ ہم اس سلسلے میں پاکستان کی سکیورٹی فورسز کو اس کام پر مجبور نہیں کر رہے‘ ہمارے لئے یہ بات باعث اطمینان اور حوصلہ افزا ہے کہ پاکستانی فورسز بہتر انداز میں شدت پسندوں کیخلاف آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں‘ انہوں نے ثابت قدمی دکھائی ہے۔ امریکہ انتہا پسندوں کو تلاش کرکے ان کو شکست دینے کے لئے پاک فوج کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتا رہے گا جبکہ پاکستان کے پڑوسی ملک افغانستان میں بھی فوجی حکمت عملی کی تبدیلی پر سنجیدگی سے غور کیا جارہا ہے ترجمان کا کہنا تھا کہ پنٹاگون نے پاک فوج پر زور دیا ہے کہ وہ انتہا پسندوں کو تلاش کرکے ان کو شکست دے او اس مرحلے پر کمزوری نہ دکھائی جائے۔ آن لائن کے مطابق انہوں نے شمالی اور جنوبی وزیرستان تک فوجی آپریشن کا دائرہ بڑھانے کے حوالے سے سوال پر کہا کہ وہ اس حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے تاہم یہ ضرور کہیں گے کہ ان انتہا پسند عناصر کے خلاف آپریشن کا اگلا مرحلہ شروع ہونا چاہئے۔ دریں اثنا ڈینس بلیئر نے انٹیلی جنس ماہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ فوجی آپریشن کو سرکاری اور عوامی حمایت حاصل ہے اور لوگ معاملے کی سنگینی کو سمجھ رہے ہیں‘ عوامی حمایت کی بڑی وجہ طالبان کی جانب سے حالیہ بم دھماکے ہیں اور عوام نے یہ سمجھ لیا ہے کہ طالبان کی کارروائیاں ان کیلئے بڑا خطرہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم بے گھر افراد کی واپسی کے منصوبوں میں پاکستان کی بھرپور مدد کر سکتے ہیں۔ رچرڈ ہالبروک نے جرمن میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری نے ابھی تک پاکستان کی مطلوبہ امداد نہیں کی۔ 25 لاکھ بے گھر افراد محفوظ طریقے سے واپس جانے چاہئیں۔ سوات آپریشن میں کامیابیوں کے بعد مقامی لوگوں کی حمایت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دریں اثنا امریکی جریدے سے گفتگو کرتے ہوئے ہالبروک نے کہا کہ پاکستان میں حالات تبدیل نہ ہوئے تو افغانستان میں بھی استحکام نہیں آسکتا۔ افغانستان میں بہترین حکومت کے قیام‘ منشیات اور بدعنوانی سے پاک کلچر کے فروغ کے باوجود افغانستان میں استحکام ممکن نہیں۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ امریکی حکمت عملی میں پاکستان حکومت کی حمایت کے ساتھ اندرونی بدعنوانی کو برداشت کرنا بھی شامل ہے۔ برطانوی نیوز ایجنسی کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی طرف سے آپریشن کی حمایت آگے کی طرف ایک بڑا قدم ہے‘ بے گھر افراد کی اپنے گھروں کو واپسی سیاسی اعتبار سے ضروری ہے تاکہ مزید مسائل سے بچا جا سکے اگر ایسا نہ ہوا تو یہ بڑی سیاسی ناکامی ہو گی۔مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے کہا ہے کہ ایران کی وجہ سے اسرائیل کو بھی تحفظات ہیں شدت پسندوں کے خلاف پاکستان کا فوجی آپریشن اہم ہے طالبان کے خلاف آپریشن اب تک کی اہم کامیابی ہے افغانستان میں ہمارے پاس طالبان کو روکنے کی صلاحیت کم ہے۔ پاکستان میں ہونے والے معاہدوں کی وجہ سے طالبان سرحد پار کر رہے تھے۔
Post New Comment