اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت + ریڈیو نیوز + ایجنسیاں) طیارہ سازش کیس میں سزائوں کے خلاف اپیل کی سماعت کے دوران سندھ حکومت نے نواز شریف کی سزا معاف کرنے اور ملک سے باہر جانے کے حوالے سے معاہدے کی دستاویزات سپریم کورٹ میں جمع کرا دی ہیں۔ معافی نامہ پر سابق صدر پرویز مشرف کے دستخط اور یکم دسمبر 2000ء کی تاریخ درج ہے۔ جسٹس تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں قائم پانچ رکنی لارجر بنچ نے منگل کے روز سماعت شروع کی تو ایڈووکیٹ جنرل سندھ یوسف لغاری پیش ہوئے اور معافی نامہ کے حوالے سے دستاویزات عدالت میں پیش کیں جس کے مطابق اس وقت کے چیف ایگزیکٹو پرویز مشرف نے صدر رفیق تارڑ کو سفارش کی تھی کہ وہ نواز شریف کی سندھ ہائی کورٹ اور انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کی جانب سے سنائی گئی عمر قید اور نیب عدالت کی جانب سے 14 سال قید بامشقت کی سزائوں کو معاف کر دیں۔ حکومت سندھ کی جانب سے اس موقع پر نواز شریف اور شہباز شریف کے بیرون ملک جانے سے متعلق اس وقت کی حکومت سے کیے گئے معاہدوں کی نقول بھی عدالت میں پیش کی گئیں۔ دوران سماعت نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ نواز شریف نے بطور وزیراعظم پرویز مشرف کو چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے سے آئینی طور پر ہٹایا تھا مگر انہوں نے فیصلہ تسلیم نہیںکیا‘ جس پر نواز شریف نے پرویز مشرف کے طیارے کا رخ موڑنے کا حکم دیا تاکہ جمہوری نظام اور فوج کو تقسیم ہونے سے بچایا جاسکے۔ چیئرمین پی آئی اے نے وزیراعظم کو بتایا کہ طیارے میں تیل کم ہے جس پر اسے نوابشاہ ایئر پورٹ اتارنے کا حکم دیا۔ خواجہ حارث نے کہا کہ اصل حقیقت یہ ہے کہ طیارے پر پرویز مشرف کا قبضہ تھا جبکہ نوابشاہ طیارہ اتارنے کا حکم دینے کے ساتھ ہی اسلام آباد میں وزیراعظم ہائوس و دیگر اہم عمارتوں پر فوج نے قبضہ کر لیا تھا لہٰذا ہائی جیکنگ کا مقدمہ بنتا ہی نہیں تھا۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ یوسف لغاری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی رائے میں نواز شریف کی سزا معاف ہوئی ہے ارتکاب جرم موجود ہے اور جب تک ان کی طیارہ کیس میں اپیلوں کا فیصلہ نہیں ہو جاتا وہ الیکشن میں حصہ لینے کے لیے اہل نہیں۔ بی بی سی کے مطابق ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے دستاویزات کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنانے کیلئے بھی درخواست دائر کی ہے۔ آئی این پی کے مطابق خواجہ حارث نے مزید کہا کہ سابق آرمی چیف کو طیارے میں ہی یقین دلا دیا گیا تھا کہ تمام معاملات کنٹرول میں ہیں‘ سب اہم جگہوں پر آرمی نے ٹیک اوور کر لیا ہے‘ اب آپ طیارہ اتار سکتے ہیں۔ صرف ایک ڈاکومنٹ پیش کیا گیا جو ایک گواہ نے پیش کیا تھا لیکن یہ ڈاکومنٹ بھی نامکمل تھا لیکن جس نے یہ ڈاکومنٹ دیا تھا وہ کبھی بھی گواہ کے طور پر پیش نہیں ہوا۔ ڈاکومنٹ ٹمپر تھا۔ جسٹس تصدق جیلانی نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ نے اس ڈاکومنٹ پر انحصار کیا تھا۔ اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ جی ہاں انہوں نے اس ڈاکومنٹ کے تحت ہی سزا دی تھی حالاناکہ یہ سب کچھ نواز شریف کی جانب سے نہیں خالی شور مچایا گیا تھا لیکن یہ ڈاکومنٹ یہ ظاہر نہیں کرتا کہ طیارے کے اترنے میں تاخیر کیوں ہوئی تھی۔ وزیراعظم نے سابق آرمی چیف کی گرفتاری کے احکامات جاری نہیں کئے بلکہ انہیں امن سے گھر جانے کی اجازت دینے کا کہا تھا۔ سماعت آج تک ملتوی کر دی گئی۔
Post New Comment