پشاور : پی سی ہوٹل میں خودکش دھماکہ‘ 2 غیر ملکیوں سمیت 13 ہلاک‘ 75 زخمیوں میں صوبائی وزیر‘ سینیٹر بھی شامل

ـ 10 جون ، 2009
  • Adjust Font Size
پشاور : پی سی ہوٹل میں خودکش دھماکہ‘ 2 غیر ملکیوں سمیت 13 ہلاک‘ 75 زخمیوں میں صوبائی وزیر‘ سینیٹر بھی شامل

پشاور (بیورو رپورٹ + ریڈیو مانیٹرنگ) صوبائی دارالحکومت پشاور میں حساس ترین مقام خیبر روڈ پر واقع پرل کانٹینینٹل ہوٹل میں خودکش دھماکے سے 2 غیر ملکیوں سمیت 13 افراد جاںبحق اور 75 زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں صوبائی وزیر زکوٰۃ رشید خان‘ سینیٹر نبی بخش اور غیر ملکی بھی شامل ہیں۔ دھماکے میں 3 خودکش حملہ آور بھی مارے گئے۔ پولیس نے ہوٹل سے ایک مشکوک شخص کو حراست میں لے لیا ہے۔ بم ڈسپوزل سکواڈ کے مطابق دھماکے میں 500 کلوگرام بارودی مواد استعمال کیا تھا اور دھماکے والی جگہ پر 16 فٹ چوڑا اور 6 فٹ گہرا گڑھا پڑ گیا‘ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس کی آواز پورے شہر میں سنی گئی اور دھماکہ ہو تے ہی آسمان پر دھوئیں کے بادل چھا گئے اور شدید گردو غبار پھیل گیا‘ فائیو سٹار ہوٹل کا پشت والا حصہ دھماکے سے مکمل طور پر تباہ ہو گیا جبکہ وہا ں پر موجود 50 سے ذائد گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں جبکہ اس کے قریب واقع سرکاری دفاتر کو بھی نقصان پہنچا، ایک عینی شاہد نے بتایا کہ وہ گیٹ پر کھڑے تھے کہ اس دوران ایک شاہ زور گاڑی آئی جس میں تین افراد سوار تھے اور گیٹ پر پہنچتے ہی انہوں نے فائرنگ شروع کی اور پھر ہوٹل کے اندر گھس گئے جس کے دو تین منٹ بعد ہی ایک زوردار دھماکہ ہوا دھماکے کے بعد قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور بجلی بند ہو گئی جس سے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا کر نا پڑا‘ ذرائع کے مطابق سوات اور مالاکنڈ آپریشن سے متاثر ہو نے والے بے گھر افراد کی امداد کیلئے بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے‘ آپریشن کی کوریج اور مانیٹر نگ کیلئے غیر ملکی صحافی بھی ہوٹل میں مقیم تھے، پشاور کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی‘ دھماکے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور کسی کو ہوٹل میں جانے کی اجازت نہیں دی ہوٹل کے ارد گرد سرحد اسمبلی کی عمارت سمیت دیگر کئی اہم سر کاری عمارتیں اور دفاتر ہیں۔ جی این آئی کے مطابق اقوام متحدہ کے چند ارکان بھی شدید زخمی ہیں۔ آئی این پی کے مطابق بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ دھماکے سے متعدد افراد دب گئے۔ صدر‘ وزیراعظم‘ نوازشریف‘ شجاعت‘ پرویز الٰہی‘ ساجد میر‘ الطاف حسین‘ وزیر اعلیٰ سرحد‘ صوبائی وزیر اطلاعات سمیت دیگر شخصیات نے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے جبکہ صدر و وزیراعظم نے واقعے کی فوری تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ ریڈیو مانیٹرنگ کے مطابق ڈی سی او پشاور نے 11 افراد کے جاںبحق ہونے کی تصدیق کی ہے۔ این این آئی کے مطابق صدر‘ وزیراعظم نے کہا کہ دشمن عناصر ایسی کارروائیوں سے ملک کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں‘ عوام کے ساتھ مل کر ان کے ناپاک عزائم کو ناکام بنا دیا جائے گا‘ صدر زرداری اور وزیراعظم گیلانی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ زخمیوں کے علاج معالجہ پر خصوصی توجہ دی جائے۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions