امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا کی جانب سے القاعدہ سربراہ ایمن الظواہری کی پاکستان میں موجودگی کے بیان کے رد عمل میں
آئی ایس پی آر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ القاعدہ پاکستان کی سلامتی کے لیے مستقل خطرہ ہے۔ پاک فوج القاعدہ کی قیادت اور اس کے حامیوں کے خلاف آپریشن جاری رکھے ہوئے ہےاور ٹارگٹڈ آپریشن کے ذریعے ہائی پروفائل دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں کی جارہی ہیں۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ اگر امریکی انٹیلی جنس کے پاس ایمن الظواہری یا دیگر القاعدہ رہنماؤں کی پاکستان میں موجودگی کے حوالے سے معلومات ہیں تو وہ شیئر کرے، پاکستان کارروائی کرے گا۔
Post New Comment