لاہور (خبرنگار + اپنے نمائندے سے) پنجاب اسمبلی میں وزیر قانون رانا ثناءاللہ نے کہا ہے کہ شیخ رشید پر راولپنڈی حملے کی ابتدائی تفتیش میں سامنے آیا ہے کہ یہ ٹارگٹ کلنگ تھا‘ اس واقعے کا تانا بانا لال مسجد آپریشن کی حمایت بھی ہو سکتا ہے۔ شیخ رشید ایک سینئر سیاستدان ہیں اور پنجاب حکومت کو بھی اس واقعے پر اتنا ہی افسوس ہے جتنا اپوزیشن اور شیخ رشید کو ہے۔ ایوان میں سندھ حکومت کے وزراءکی طرف سے پنجاب پر پانی چوری کا الزام لگانے پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا‘ ڈپٹی سپیکر نے ایوان میں معاملے پر بحث کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق رانا ثناءاللہ نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شیخ رشید پر حملے کی تحقیقات کے لئے وزیراعلی نے آئی ایس آئی، آئی بی اور پولیس پر مشتمل جوائنٹ کمیٹی تشکیل جبکہ آر پی او راولپنڈی کو انکوائری کا حکم دیدیا ہے ایف آئی آر شیخ رشید احمد کے ہاتھوں کی لکھی ہوئی تحریر پر کاٹی گئی ہے جس میں انہوں نے واقعہ کو دہشت گردی قرار دیا ہے۔ شیخ رشید احمد تجربہ کار اور منجھے ہوئے سیاستدان ہیں ان کی رہنمائی میں مجرموں تک رسائی حاصل کریں گے۔ چودھری ظہیر الدین نے کہا کہ پنجاب پولیس کی ناکامی کے بعد رینجرز یا فوج کو فوری طور پر طلب کیا جائے وزیر قانون نے کہا کہ اگر شیخ رشید فوج یا رینجر کی نگرانی میں انتخابات کروانے کیلئے الیکشن کمشن کو درخواست دیتے ہیں تو پنجاب حکومت کو اس پر اعتراض نہیں۔ ضمنی الیکشن والے حلقوں میں کسی بھی قسم کے تقرر و تبادلے نہیں کئے جا رہے نہ ہی الیکشن ملتوی کرنے کی درخواست کریں گے۔ اپوزیشن ارکان سندھ حکومت کے پنجاب حکومت پر پانی کے حوالے سے مسلسل حملوں کا جواب دینے کیلئے کھڑے ہوگئے۔ وزیر خزانہ تنویر اشرف کائرہ نے یقین دہانی کرائی کہ بدھ کو وزیر آبپاشی خود ایوان کو اس بارے میں اعتماد میں لیں گے۔ محسن لغاری کا کہنا تھا کہ سندھ اسمبلی میں مسلسل پنجاب پر الزام لگ رہا ہے کہ ہم پانی چرا رہے ہیں‘ گالیاں دی جا رہی ہیں‘ دوسری طرف ہم این ایف سی میں اپنے وسائل انہیں دے رہے ہیں اور گالیاں بھی کھا رہے ہیں۔ ایوان میں اپوزیشن نے میڈیا پر تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف اسمبلی سے واک آﺅٹ کیا۔ سیمل کامران کا کہنا تھا کہ پہلے راولپنڈی میں بے نظیر بھٹو شہید ہسپتال میں میڈیا پر اس وقت تشدد کیا گیا جب میڈیا نے جعلی اور زائد الیمعاد ادویات پر فلم بنائی۔ عظمی بخاری نے کہا کہ میڈیا پر بار بار تشدد حکومت پنجاب کی کارکردگی کے بارے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے‘ وکیلوں کے بعد اب ڈاکٹروں نے بھی میڈیا پر ڈنڈا اٹھا لیا ہے۔شیخ علاﺅ الدین اور دیگر ارکان نے کروڑوں روپے کی شراب فروخت کرنے والے ہوٹلوں سے صرف چھ سو روپے سالانہ پرمٹ فیس لینے اور پراپرٹی ٹیکس برانچ میں کئی کئی سالوں سے تعینات افسران اور اہلکاروں پر احتجاج کیا اور تقرریوں کی مدت کم اور انہیں دیگر محکموں میں بھجوانے کا مطالبہ کیا۔ وزیر ایکسائز مجتبیٰ شجاع کا کہنا تھا کہ شراب کے پرمٹ کی سالانہ فیس چھ سو روپے لی جا رہی ہے اور لاہور میں اس وقت چار ہوٹلوں میں شراب فروخت کی جا رہی ہے۔ وزیر ایکسائز نے کہا کہ شراب کی فروخت پر مامور اے آئی ٹی او کو 2ماہ بعد تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ 5مرلے کے گھروں پر ٹیکس معاف ہے حتیٰ کہ کرائے پر دئیے گئے پانچ مرلہ گھروں پر بھی ٹیکس نہیں عائد ہوتا ہے۔ خبرنگار خصوصی کے مطابق اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو میں رانا ثناءاللہ نے کہا کہ صوبائی حکومت ضمنی انتخابات رکوانے کے لئے دوبارہ عدالت میں جانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ ہم ”بلٹ‘ نہیں ”بیلٹ“ کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) پر حملے کا الزام لگانا محض الزام تراشی ہے۔ مسلم لیگ ق کا ماضی گواہ ہے کہ وہ خود ایسی وارداتوں کے عادی ہیں۔
Post New Comment