ریاستی ادارے آئینی حدود میں رہ کر کام کریں‘ دستور سے آمروں کے داغ جلد مٹا دینگے : گیلانی

حوالہ : اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک + ایجنسیاں) ـ 10 فروری ، 2010
  • Adjust Font Size

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک + ایجنسیاں) صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی صدارت میں مقامی حکومتوں سے متعلق اہم بین الصوبائی رابطہ اجلاس ہوا جس میں پنجاب کے سوا باقی تین وزرائے اعلیٰ اور چاروں صوبوں کے وزرائے بلدیات شریک ہوئے۔ اجلاس میں سرحد‘ بلوچستان اور سندھ کے سیاسی اور ترقیاتی امور کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں مقامی حکومتوں اور پولیس آرڈر کے حوالے سے بین الصوبائی رابطہ کمیٹی کا اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ بین الصوبائی ر ابطہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت وزیراعظم کریں گے۔ صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر نے بتایا کہ اجلاس میں سندھ‘ سرحد اور بلوچستان کے وزرائے اعلیٰ نے صوبائی حکومتوں کے نظام پر صدر اور وزیراعظم کو بریفنگ دی۔ اجلاس میں سندھ میں مقامی حکومتوں کے بل سے متعلق غور کیا گیا اور چند اہم فیصلے کئے گئے۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم میں مقامی حکومتوں سے متعلق اتفاق نہیں ہو سکا۔ ذرائع کے مطابق صوبہ سرحد‘ سندھ اور بلوچستان میںآئندہ چار ماہ میں جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی انتخابات کرانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ بعدازاں صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے درمیان ون ٹو ون ملاقات ہوئی جس میں ملکی سیاسی اور امن و امان کی صورت حال‘ بلدیاتی انتخابات اور اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے صدر آصف علی زرداری سے ملاقات میں ملک کی مجموعی صورت حال‘ بھارت کی مذاکرات کی بحالی کی پیشکش سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا، ایوان صدر کے ذرائع کے مطابق دونوں رہنماﺅں نے سابق وفاقی وزیر شیخ رشید پر قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ اس واقعہ میں ملوث ذمہ داروں کو جلد گرفتار کیا جائے۔ ملاقات میں اتحادیوں سے متعلق معاملات، آئندہ مقامی حکومتوں کے اتحاد اور قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ سے متعلق معاملات زیر غور آئے، وزیراعظم نے میاں نوازشریف، اسفندیار ولی اور دیگر سیاسی قائدین سے ٹیلی فون پر ہونے والی بات چیت سے صدر کو آگاہ کیا، اجلاس میں سپریم کورٹ کے این آر او پر تفصیلی فیصلے پر عملدرآمد پر اطمینان کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ حکومت اعلیٰ عدلیہ کا احترام کرتی ہے‘ عدالتی فیصلوں کے تحت 8034 میں سے 8032 کیسز کھل چکے ہیں، ذرائع کے مطابق صدر وزیراعظم نے اس بات پر اتفاق کیا کہ آئین اور قانون کے مطابق اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تقرری کی جائے گی۔ اس حوالے سے حکومت اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی کمی سے پوری طرح آگاہ ہے، صدر وزیراعظم نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ججز کی تقرری کے معاملے کو آئندہ چند روز میں حل کر لیا جائے گا۔ اطلاعات کے مطابق حکومت نے پورے ملک میں یکساں مقامی حکومتوں کا نظام اور نیا پولیس آرڈر لانے کا فیصلہ کیا ہے، اس حوالے سے حتمی منظوری کیلئے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ پر مشتمل بین الصوبائی رابطہ کمیٹی کا جلد اجلاس بلائیں گے۔ صدارتی ترجمان کے مطابق اجلاس میں سندھ، سرحد اور بلوچستان کے سیاسی و ترقیاتی امور کا جائزہ لیا گیا‘ اجلاس میں وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ، وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی، وزیر اعلیٰ سرحد امیر حیدر ہوتی، وفاقی وزیر بلدیات عبدالرزاق تھہیم، صوبائی وزرا بلدیات اور تینوں صوبوں کے چیف سیکرٹریوں نے شرکت کی۔ وزرائے اعلیٰ نے اجلاس کو اپنے اپنے صوبوں میں مقامی حکومتوں کے اداروں کے مستقبل کے حوالے سے کئے جانے والے فیصلوں سے آگاہ کیا اور بتایا کہ 1973ءکے آئین کے مطابق مقامی حکومتوں کا نظام ان کے پاس آ چکا ہے‘ اسے چھٹے شیڈول سے نکال دیا گیا ہے، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ چاروں صوبوں میں یکساں مقامی حکومتوں کا نظام اور یکساں پولیس آرڈر لایا جائے گا اس حوالے سے جلد وزیراعظم چاروں وزرائے اعلیٰ پر مشتمل بین الصوبائی رابطہ کمیٹی کا اجلاس بلائیں گے۔ ذرائع کے مطابق صدر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت صوبوں کو بااختیار بنانے کی پالیسی پر گامزن ہے سابق آمر پرویز مشرف نے مقامی حکومتوں کو اپنے مفادات کیلئے استعمال کیا مگر ہم جمہوریت اور جمہوری قدروں پر یقین رکھتے ہیں۔ ہر صوبہ اپنی مرضی کے مطابق ترامیم کر سکتا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہوں اور پورے ملک میں ایک جیسا بلدیاتی نظام ہو تاہم اس حوالے سے فیصلہ صوبوں کی مشاورت سے ہو گا‘ ہم صوبوں کی مرضی کے خلاف نہیں جائینگے۔ مقامی حکومتوں کے آنے سے لوگوں کے مسائل جلد حل ہونگے۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ نئے بلدیاتی نظام اور پولیس آرڈر کے حوالے سے وقتاً فوقتاً صوبوں سے مشاورت کرتے رہتے ہیں اور اب بھی انہیں اعتماد میں لیں گے۔
صدر / وزیراعظم
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک/ ایجنسیاں) وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ قوم کو دہشت گردی کے کینسر سے نجات دلاکر دم لیں گے‘ تمام ریاستی ادارے آئینی حدود میں رہتے ہوئے اپنے فرائض سرانجام دیں‘ شخصیات کی بجائے اداروں کے استحکام پر یقین رکھتے ہیں‘ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ سیاست میں تعصب کی بجائے مفاہمت پر یقین رکھتے ہیں‘ گڈگورننس کی جانب پیشرفت کر رہے ہیں‘ کوئی الزام ثابت ہوئے بغیر صدر آصف علی زرداری نے جیل کاٹی مگر انہوں نے پارٹی پر آنچ نہیں آنے دی‘ وہ وقت دور نہیں جب آئین پر سے آمروں کے لگائے گئے داغ مٹا دینگے‘ ممبئی حملوں کے بعد اپوزیشن نے مثبت کردار ادا کیا ہے آج کی اپوزیشن کی کل حکومت اور آج کی حکومت کل کی اپوزیشن ہے۔ بھارت سے تعلقات کے معاملے میں اپوزیشن کا رویہ مثبت رہا ہے ہم چاہتے ہیں کہ کوئی صوبہ دوسرے کے وسائل پر قبضہ نہ کرے۔ مسائل ورثہ میں ملے انہیں حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ قومی وسائل کی جائز اور منصفانہ تقسیم چاہتے ہیں‘ دہشت گرد گمراہی کا راستہ چھوڑ دیں‘ دہشت گردوں کی کمرتوڑ دی ہے‘ دہشتگردی کے مسئلے سے غافل نہیں‘ دہشت گردوں کیلئے دو ہی راستے ہیں‘ راہ راست یا پھر موت۔ وہ ہتھیار ڈال دیں یا پھر موت کے لئے تیار ہو جائیں‘ پاکستان کی سرزمین ان کے لئے تنگ ہو چکی ہے‘ عدلیہ پوری آزادی سے کام کر رہی ہے‘ آئینی کمیٹی 1973ء کے آئین کی واپسی کیلئے کام کر رہی ہے‘ بعض عناصر حکومت کیلئے مشکلات پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ گڈگورننس کیلئے عوام کے رویہ میں تبدیلی ضروری ہے‘ جدےد موٹر وے اور رابطہ سڑکیں جنوبی پنجاب تک لے جا رہے ہیں‘ سندھ میں چھوٹے ڈیم بنا کر ہاریوں کو مفت زمینیں دیں گے۔ حکومت نے جو اقدامات کئے ہیں ان کو پروپیگنڈے سے ناکام نہیں بنایا جا سکتا، حقائق گواہی دے رہے ہیں کہ عوام کی بھاری اکثریت پیپلزپارٹی کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتی ہے‘ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں نے غیرجمہوری لوگوں کے خلاف جدوجہد کی ہے، پیپلزپارٹی نے عوام کے ساتھ سیاسی تعلق کی قیمت چکائی ہے، ذوالفقار علی بھٹو شہید عوام سے تعلق چھوڑ کر اپنی زندگی بچا سکتے تھے مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا جبکہ محترمہ نے اپنی آخری سانس تک عوام سے رابطہ رکھا، صدر آصف علی زرداری نے الزام ثابت ہوئے بغیر زندگی کے کئی سال جیل میں کاٹے ، اسی طرح دیگر رہنماﺅں نے بھی عوام کے ساتھ رابطے کیلئے قربانیاں دیں ہیں‘ ملک کے سیاسی حالات ایسی ڈگر پر ہیں کہ معمولی سی لغزش نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے، پارلیمنٹ کے اندر اور باہر عوامی لوگوں کا احترام کرتے ہیں اور ان کے جمہوری حق پر یقین رکھتے ہیں‘ اپوزیشن اپنا کردار درست طریقے سے ادا کر رہی ہے‘ دہشت گردی ممبئی حملوں کے بعد کی صورتحال میں اپوزیشن نے مثبت رویہ دکھایا ہے اگر اپوزیش کی جانب سے ملک کے مسائل کے حل کے لئے کوئی حکمت عملی پیش کی گئی تو میں اس کا خیر مقدم کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ مفاہمت کے فلسفے کے مثبت نتائج حاصل ہوئے ہیں، محترمہ نے اس فلسفے پر چلتے ہوئے میثاق جمہوریت کی شمع روشن کی جس سے آمر کو ناکامی ہوئی موجودہ حکومت جمہوری فضا کو فروغ دے رہی ہے‘ جمہوری ادارے مستحکم ہو رہے ہیں، پارلیمنٹ کی بالادستی قائم ہے ، عدلیہ آزادی سے اپنا کام کررہی ہے ، حکومت عدلیہ کے فیصلوں پر عمل درآمد کر رہی ہے‘ اس دور میں میڈیا کو جتنی آزادی حاصل ہے پہلے کبھی نہ تھی ، آئینی اصلاحاتی کمیٹی کے اب تک 48 اجلاس ہو چکے ہیں وہ دن دور نہیں جب ہم آئین بنانے والوں کے سامنے سرخرو ہو جائیں گے، حکومت صوبوں میں وسائل کی تقسیم خصوصاً پانی کو متوازن طریقے سے حل کرنا چاہتی ہیں‘ خواہش ہے کہ کسی صوبے سے زیادتی نہ ہو اور نہ ہی کوئی صوبہ کسی کے ساتھ زیادتی کرے ، صوبوں کو بھی چاہیے کہ ملک کے مفاد کا خیال رکھا جائے‘ حکومت قومی مسائل کی برابر تقسیم پر یقین رکھتی ہے جس کا ثبوت ساتویں این ایف سی ایوارڈ کا اعلان ہے ہم بلوچستان کے عوام کی محرومیوں کا ازالہ کریں گے‘ سرحد میں دہشت گردی کے متاثرین کے ازالے کے لئے اقدامات کر رہے ہیں اور ان کی مدد کر رہے ہیں‘ سندھ میں چھوٹے ڈیم بنائے جارہے ہیں۔ جنوبی پنجاب میں موٹر وے اور سڑکوں کا سلسلہ پھیلایا جارہا ہے تاکہ وہاں ترقی ہو جائے‘ حکومت گندم کے ساتھ چاول بھی خرید رہی ہے تاکہ کسانوں کو اس کا صحیح معاوضہ مل سکے‘ حکومت دہشت گردی سے غافل نہیں ہے کیونکہ یہ آئندہ نسلوں کی بقاءکا مسئلہ ہے ساری دنیا نے دہشت گردوں کی کمر ٹوٹتے دیکھی دشمنوں کو معلوم نہیں کہ وہ کس سے ٹکرا بیٹھے ہیں ، اب بھی ان سے کہتا ہوں کہ بُرائی کا راستہ چھوڑ دیں، ورنہ ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے گا جو سوات اور مالاکنڈ میں کیا گیا ہے۔
گیلانی

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions