پیپلز پارٹی صدر پر جوتا پھینکنے کا الزام لگانے سے پہلے فیصلہ کر لے واقعہ ہوا بھی ہے یا نہیں : چودھری نثار

ـ 10 اگست ، 2010
  • Adjust Font Size

اسلام آباد (مانیٹرنگ نیوز+ ایجنسیاں) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی مسلم لیگ (ن) پر الزام لگانے سے پہلے یہ فیصلہ کر لے کہ صدر زرداری پر جوتا پھینکنے کا واقعہ ہوا بھی ہے یا نہیں مسلم لیگ (ن) جوتے پھینکنے کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی، ہم اپنے سیاسی مخالفین سے ایسا نہیں کرتے۔ مسلم لیگ (ن) صدر زرداری اور پیپلزپارٹی کے حواس پر سوار ہے، ملک سیلاب میں ڈوب گیا اور زرداری فرانس، برطانیہ کی سیر کرتے رہے جب قوم پر بحران آتا ہے تو پارلیمنٹ کے اجلاس بلائے جاتے ہیں، ملتوی نہیں کئے جاتے۔ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع حکومتی اور انتظامی فیصلہ ہے اسے سیاسی رنگ نہیں دینا چاہئے، پنجاب حکومت کی درخواست کے باوجود متاثرین کی مدد کیلئے 10ارب روپے فوری امداد نہیں دی جا رہی صدر زرداری نے سلمان تاثیر کے بعد بابر اعوان کو جھوٹے بیانات پر لگا دیا ہے۔ پاکستان کی قومی سلامتی کے ایشوز قومی اسمبلی کے اجلاس میں زیربحث لائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز پارلیمنٹ ہاﺅس میں واقع اپنے چیمبر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ چودھری نثار نے کہا کہ وزیر اطلاعات، صدارتی ترجمان اور تمام حکومتی عہدیدار کہہ رہے ہیں کہ صدر پر جوتا نہیں پھینکا گیا پھر مسلم لیگ (ن) پر الزام کیوں لگایا جا رہا ہے۔ پی پی پی آزاد میڈیا پر غصہ نکالنا چاہتی ہے۔ ٹی وی چینلز کیخلاف کارروائی قبول نہیں کریں گے، ہم اس مشکل گھڑی میں میڈیا کیساتھ ہیں۔ حاکم علی زرداری پر بھی کرپشن کے الزامات ہیں، قومی اسمبلی کا اجلاس 16اگست کو بلایا جائے، سلمان تاثیر سے لیکر تمام وزراء جو ان کے منہ پر آ رہا ہے کہہ رہے ہیں، میڈیا پر بندش لگانا غنڈہ گردی کے زمرے میں آتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر واقعہ غلط تھا تو انہیں بی بی سی اور سکائی ٹی وی کیخلاف کارروائی کرنی چاہئے۔ ہماری پارٹی اور اپوزیشن جماعتیں اسمبلی میں اس مسئلے کو اٹھائیں گے مگر اس کے علاوہ میڈیا جو جدوجہد کرے گی ہم اس کا بھی ساتھ دیں گے، ہم مافیا طرز کی سیاست اور جیالوں کی غنڈہ گردی کی سیاست کو ہر گز قبول نہیں کرینگے۔ یہ بھٹو کی سیاست کے عنصر کو یاد دلا رہا ہے اس کا انہیں جواب دینا ہو گا۔ دورے کا بنیادی مقصد زرداری کے غیرملکی اثاثہ جات کی دیکھ بھال کیلئے تھا۔ اس کیلئے انہوں نے فرانس اور برطانیہ سے خود درخواست کی۔ انہوں نے قوم کو یہ بھی نہیں بتایا کہ فرانس میں جس محل کا انہوں نے دورہ کیا یہ کس کی ملکیت ہے اور یہ کس کے پیسوں سے خریدا گیا۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم نے میاں نوازشریف کو فون کرکے بتایا تھا کہ اجلاس 16اگست کو بلایا جائیگا لیکن پھر ملتوی کر دیا گیا۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اجلاس 16اگست کو بلایا جائے اگر حکومت نے نہ بلایا تو ہم سخت ردعمل کا اظہار کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ ہم برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون، مولن اور کرزئی کے بیانات کے متعلق حکومت سے پوچھیں گے۔ انہوں نے کہاکہ لندن میں زرداری کی مصروفیات صرف ایک دن کی تھی لیکن وہ پانچ دن کیا کرتے رہے۔ انہوں نے کہاکہ جوتے کے واقعہ سے عبرت پکڑنی چاہئے اور سبق حاصل کرنا چاہئے۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions