ملتان (اے پی پی + بی بی سی ڈاٹ کام + آن لائن + نمائندہ نوائے وقت) وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ اگر کالا باغ ڈیم پر اتفاق رائے ہو جائے تو حکومت اس ڈیم کو تعمیر کرنے کا کام شروع کر دے گی۔ یہ بات انہوں نے ملتان میں کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ کالا باغ ڈیم کے ہونے سے اس سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکتا تھا۔ خبررساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ متاثرین کی مدد کریں‘ میں یقین دہانی کراتا ہوں کہ حکومت ہر ممکن متاثرین کی مدد کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب میں ایک کروڑ چالیس لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ لاکھوں مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ وزیر مملکت برائے خرانہ حنا ربانی کھر نے کہا کہ پاکستان کی عوام میں متاثرین کی مدد کرنے کا وہ جذبہ دیکھنے میں نہیں آیا جو جذبہ 2005ءمیں زلزلے کے وقت دیکھنے میں آیا تھا۔ آن لائن کے مطابق وزےراعظم نے کالا باغ ڈےم کی تعمےر کےلئے اےک بار پھر اتفاق رائے کو ناگزےر قرار دےتے ہوئے کہا ہے کہ اگر قوم اور تمام سےاسی جماعتےں اس ڈےم کی تعمےر پر متفق ہو جائےں تو پھر کسی کو اس پر اعتراض نہےں ہو گا، جنوبی پنجاب مےں سےلاب کی تباہ کارےوں کے حوالے سے ملتان مےں اےک برےفنگ کے موقع پر وزےراعظم نے وفاقی وصوبائی وزراءاور ارکان پارلےمنٹ کے سوالوں کے جواب دےتے ہوئے کہا کہ کالا باغ ڈےم کو 1985ءمےں اس وقت سےاسی اےشو بنا دےا گےا جب پہلی مرتبہ صوبہ خیبر پی کے کے اےک وزےر نے کہا کہ کالا باغ ڈےم ان کی لاش پر ہی بنے گا‘ اس وقت سے لےکر اب تک ےہ مسئلہ سےاسی ہے، اس وقت ہمےں اتحاد کی ضرورت ہے تاکہ ہم اےک مضبوط ملک بن کر ابھرےں، کالا باغ ڈےم کی تعمےر کی خواہشات بھی اسی وقت پوری ہو سکتی ہےں جب اتحاد ہو گا‘ انہوں نے کہا کہ کالا باغ ڈےم کی تعمےر مےں اتفاق رائے پےدا کرنے کےلئے تکنےکی ماہرےن اپنا کردار ادا کرےں‘ اگر ےہ ڈےم اتفاق رائے سے بن جاتا ہے تو بہت مددگار ثابت ہو گا۔ ان کا ےہ بھی کہنا تھا کہ سےلاب کی تباہ کارےوں سے نمٹنے کےلئے وفاقی اور صوبائی حکومت کو مل کر مشترکہ حکمت عملی کے تحت امدادی سرگرمےوں کو آگے بڑھانا ہو گا ےہ نہےں ہونا چاہئے کہ اےک حکومت امدادی سرگرمےاں شروع کرے اور دوسری اس کو روک دے۔ متاثرین سیلاب کے بارے میں ایک تقریب سے خطاب اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ اگست 1947ءمیں ہمیں ملک چاہئے تھا آج ہمیں اس مشکل گھڑی میں جذبے والی قوم چاہئے سیلاب کی تباہی گذشتہ عشرے کی تمام تباہیوں سے زیادہ ہے۔ یہ ملکی تاریخ کا بدترین سیلاب ہے لیکن مجھے امید ہے کہ ہم اس چیلنج سے عوام کی مدد سے نمٹ لیں گے آج اس مشکل آفت میں 2005ءوالے زلزلے میں جس طرح عوام نے اپنے بھائیوں کی خدمت کی اور مشکل کا سیسہ پلائی دیوار کی طرح مقابلہ کیا اسی طرح قوم ایک ہو جائے تو چیلنج سے آسانی سے نمٹا جا سکتا ہے۔ میں تمام اختلافات بھلا کر چیلنج کا سامنا کروں گا سیلاب متاثرین کیلئے تین سے چار ہیلی کاپٹر مختص کئے ہیں جو کہ ان کیلئے کام کر رہے ہیں۔ میں چاہتا تو ہیلی کاپٹر پر صرف فوٹو سیشن کیلئے آتا لیکن میں نے فوٹو سیشن کیلئے دورہ نہیں کیا میں نے عملی طور پر دورہ کیا ہے۔ متاثرین سیلاب کیلئے امدادی سامان کے چار سے پانچ سی 130 طیارے بھجوا دیئے ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنت کو ہدایت کی ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کریں اور وہ 2005ءکے زلزلے کی طرح اسی جذبے سے متاثرین سیلاب کی مدد کر رہی ہے۔ انہوں نے مخیر حضرات سے اپیل کی ہے کہ وہ سیلاب متاثرین کیلئے مقدس مہینے میں اپنے بھائیوں کے کھانے اور قیام کا بندوبست کریں۔ میں نے ایم پی ایز اور ایم این ایز کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے حلقوں میں رہیں اور امدادی سرگرمیوں میں مصروف رہیں۔ میڈیا سیلاب متاثرین کے مسائل اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے‘ میڈیا اگر ہماری خامیاں نکال سکتی ہے تو اس میں ہماری اصلاح بھی ہوتی ہے۔ میڈیا کی تنقید کو ہمیں برداشت کرنا ہو گا اور ہمارے اندر برداشت کرنے کی صلاحیت ہے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرین کیلئے ریلیف فنڈ قائم کیا ہے‘ مخیر حضرات دل کھول کر اس میں فنڈ جمع کرائیں یہ فنڈ میں نے اپنے لئے نہیں کھولا۔ آج قوم کو یکجا اور قومی جذبے کی ضرورت ہے تب ہی ہم ان قدرتی آفات سے نمٹ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سیاسی اختلافات بھلا کر اس چیلنج کا سامنا کرنا ہو گا اس سلسلہ میں وہ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سے بھی بات کرینگے کہ وفاقی اور صوبائی حکومت مل کر متاثرین کی بحالی کیلئے ریلیف پیکج کا اعلان کریں گے۔ اس موقع پر وزیراعظم نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی امدادی کارروائیوں میں معاونت کیلئے پیپلز پارٹی مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) کے اراکین پر مشتمل تین تین رکنی کمیٹیاں تشکیل دینے کی بھی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت دیگر منصوبوں کے فنڈز میں کٹوتی کر کے پہلے متاثرین کی بحالی کے لئے فنڈز فراہم کرے گی۔ ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پنجاب سے تعصب نہیں برتا جا رہا این ایف سی ایوارڈ کے بعد وفاق کے وسائل صوبوں کو منتقل ہو گئے ہیں سیلاب جاری ہے ابھی نقصانات کا تخمینہ نہیں لگایا گیا نقصان کا تخمینہ لگانے کیلئے ورلڈ بنک اور ایشیائی ترقیاتی بنک سے مدد کی جائے گی۔ وزیراعظم نے مظفرگڑھ شہر کے لئے یسلاب کے خطرہ کا باعث بننے والے تونسہ پنجند کینال میں ہیڈ محمدوالہ کے قریب پڑنے والے شگافوں کو فوری بند کرنے کے لئے این ایچ اے کو مطلوبہ مشینری فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔
Post New Comment