لاہور (رپورٹ سلمان غنی) ملک کے آئندہ سیاسی مستقبل خصوصاً آئین‘ قانون اور پارلیمنٹ کی بالادستی یقینی بنانے اور بلوچستان پر پیکج سمیت دیگر ایشوز کیلئے اقدامات کے حوالہ سے 12 نومبر اہم ہے۔ اس روز اسلام آباد میں جہاں صدر زرداری‘ وزیراعظم گیلانی اور مسلح افواج کے چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی ڈنر پر ملاقات کریں گے وہاں اس روز لنچ پر وزیراعظم گیلانی سے مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف ملاقات کریں گے۔ پاکستان کے تین بڑوں کی ملاقات سے قبل مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف سے ملاقات نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم گیلانی اور نواز شریف کے درمیان ملاقات میں جہاں 17ویں ترمیم کے خاتمہ سمیت بلوچستان کے حوالہ سے اہم پیشرفت اور وقت کے تعین کا فیصلہ ہو گا وہاں بعض اہم معاملات پر نواز شریف وزیراعظم کو اپنی آراء اور بعض ایشوز پر اپنے تحفظات کا اظہار کریں گے اور وزیراعظم گیلانی مذکورہ ملاقات کے بعد اسی روز شام کو صدر زرداری اور مسلح افواج کے چیف کو مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف سے ملاقات کے حوالہ سے اعتماد میں لیں گے۔ معلوم ہوا ہے کہ مسلم لیگ ن نے چارٹر آف ڈیموکریسی میں طے شدہ معاملات پر عملدرآمد کیلئے وزیراعظم گیلانی کو سگنل دیا ہے اور کہا ہے کہ اس حوالہ سے تمام فیصلوں پر آپکو ہمارا اعتماد حاصل ہو گا۔ مسلم لیگ ن کے ذرائع کے مطابق وزیراعظم سے کہا ہے کہ چارٹر پر عملدرآمد سمیت اہم ایشوز پر ہمیشہ سیاسی طرزعمل اختیار کیا اور ہم سمجھتے ہیں کہ اگر آج کی صورتحال میں پارلیمنٹ کو اس کے اصل اختیارات واپس لوٹا دیئے جائیں اور آئین کی بحالی ممکن ہو جائے تو مایوسی‘ بے یقینی کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کسی مائنس ون فارمولا کی حمایتی نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ صدر زرداری کی ایوان صدر میں موجودگی کا جواز چارٹر آف ڈیموکریسی پر عملدرآمد ہے اور اگر وہ اس پر عمل درآمد کرتے ہیں تو ہمیں ان کے ایوان صدر میں براجمان رہنے پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم مسلم لیگ ن کو بعض اہم معاملات پر پیشرفت کا عندیہ دے چکے ہیں البتہ انہیں فائنل شکل وزیراعظم اور نواز شریف کے درمیان ملاقات میں ملے گی۔ دوسری جانب حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ 17ویں ترمیم کے خاتمہ پر اتفاق رائے ہو چکا ہے البتہ بعض سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینے اور انہیں آئینی تحفظ ملنے کے حوالہ سے اعتماد میں لیا جا رہا ہے۔ اعلیٰ حکومتی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ 17ویں آئینی ترمیم کے خاتمہ سمیت بعض اہم امور پر ہونے والی مشاورت اور ان پر پیشرفت کے فیصلوں کے حوالہ سے بعض غیرسیاسی قوتوں کی جانب سے گارنٹی فراہم کی جا رہی ہے۔
Post New Comment