سٹیل ملز کرپشن ملکی تاریخ کی سب سے بڑ ی ڈکیتی ہے‘ لوٹی ہوئی رقم ہر صورت برآمد کی جائے : سپریم کورٹ

حوالہ : اسلام آباد (خبر نگار + بی بی سی ڈاٹ کام) ـ 9 مارچ ، 2010
  • Adjust Font Size

اسلام آباد (خبر نگار + بی بی سی ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے سٹیل ملز توہین عدالت کیس میں وزیر داخلہ رحمن ملک کو حاضری سے مستثنی قراردینے کی درخواست منظورکرتے ہوئے سماعت غیرمعینہ مدت کے لئے ملتوی کر دی۔ جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں جسٹس ثائر علی اور جسٹس طارق پرویز پر مشتمل فل بنچ نے پیرکومقدمہ کی سماعت کی۔ اس موقع پر وزیرداخلہ رحمن ملک کے علاوہ اٹارنی جنرل انور منصور خان، ڈپٹی اٹارنی جنرل شاہ خاور اورایف آئی اے حکام عدالت میں پیش ہوئے۔ جسٹس جاوید اقبال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ پاکستان سٹیل ملز کرپشن ملکی تاریخ کی بڑی ڈکیتی ہے۔ جن لوگوں نے کرپشن کی ان سے رقم ہر صورت برآمد کی جائے، اس کے لئے چاہے ان کی جائیدادیں فروخت یا کوئی اور راستہ اختیار کیا جائے۔ سٹیل ملز کرپشن میں صرف سابق چیرمین ہی ذمہ دار نہیں ہو سکتے، اس میں بڑی مچھلیوں کو پکڑیں۔ جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ سٹیل ملز کرپشن کیس میں ملوث افراد کی ضمانتوں کی منسوخی کے لئے ایف آئی اے فوری اقدامات کرے۔ ایف آئی اے میں سزا یافتہ افراد کی تعینا تی کے معاملہ کا بھی رحمن ملک جائزہ لیں۔ وزیر داخلہ رحمن ملک نے مﺅقف اختیار کیا کہ انہوں نے اخبار میں شائع ہونے والی خبر پریہ محسوس کیا تھا کہ کرپشن کیس میں تمام پہلووںسے تحقیقات نہیں ہو رہی اس لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی اور انہوں نے یہ کام نیک نیتی کے ساتھ کیا تھا ،تاہم اگرعدالت یہ سمجھتی ہے کہ اس میں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے تو وہ خود کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑتے ہیں اس موقع پر جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ حکومت جس طرح چاہے اپنے اختیارات استعمال کرے لیکن نوعیت یہاں تک نہیں پہنچنی چاہیے کہ عدالت کو از خود نوٹس لینے پڑیں۔اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کہا کہ ہر کام آئینی طریقے سے کیا جانا چاہئے لیکن بد قسمتی سے ملک میں میرٹ کا کوئی نظام موجود نہیں۔ کیس کی سماعت کے دوران جسٹس طارق پرویز نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تحقیقاتی اداروں کے پاس تحقیقات کے مختلف طریقے ہیں، کہیں چھترول کی جاتی ہے اور کہیں وی آئی پی پروٹو کول دیا جاتا ہے۔ دونوں جانب سے دلائل سننے کے بعد سپریم کورٹ نے آئندہ سماعتوں پر رحمن کو حاضری سے استثنیٰ دیدیا اور سماعت کو غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی گئی۔ بی بی سی ڈاٹ کام کے مطابق سپریم کورٹ نے سٹیل ملز میں ہونے والی اربوں روپے کی بدعنوانی کی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ اس بدعنوانی میں ملوث افراد سے لوٹی ہوئی رقم واپس لائی جائے۔ جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے پاکستان سٹیل ملز میں ہونے و الی بائیس ارب روپے کی بدعنوانی کے ازخود نوٹس کی سماعت کی۔ ایف آئی اے کے حکام نے سٹیل ملز میں ہونے والی بدعنوانی کے متعلق تحقیقاتی رپورٹ عدالت میں پیش کی تو اس بنچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس تحقیقات میں تمام پہلو¶ں کا احاطہ نہیں کیا گیا۔ ایف آئی اے کے اہلکاروں نے عدالت کو بتایا کہ تحقیقات کے حوالہ سے پانچ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے ایف آئی اے کے سابق ڈائریکٹر جنرل طارق کھوسہ کو تبدیل کرنے پر رحمن ملک کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا۔ سابق ڈی جی ایف آئی اے نے پاکستان سٹیل میں ہونے والی بدعنوانی کی تحقیقات کی۔ بنچ میں شامل جسٹس ثائر علی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس مقدمے کی تحقیقات کے حوالے سے عدالتی حکم پر عمل نہیں کیا گیا اور اب تک اس مقدمے کی سماعت کے دوران وقت ہی ضائع کیا گیا ہے۔
سٹیل ملز / سپریم کورٹ

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions