اسلام آباد + کویت سٹی (ایجنسیاں + عبدالشکور ابی حسن سے) امریکہ میں ائرپورٹ پر باڈی سکریننگ سے انکار کرنے والے فاٹا کے 6 ارکان پارلیمنٹ احتجاجاً دورہ ختم کرکے وطن واپس پہنچ گئے جبکہ 5 ارکان ابھی امریکہ میں ہیں‘ واپس آنے والوں نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنا احتجاج ریکارڈ کرا دیا‘ اب باقی کام حکومت کو کام کرنا ہے۔ اسلام آباد ایئرپورٹ پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے فاٹا ارکان پارلیمنٹ کے چھ رکنی وفد کے قائد سینیٹر عباس آفریدی نے کہا کہ انہوں نے امریکی سینیٹروں سے ملاقاتوں میں پاکستان کو سکیورٹی کے نئے قوانین کی فہرست سے خارج کرنے کا مطالبہ کیا۔ یہ دورہ امریکی حکومت کی دعوت پر تھا‘ وفد کو اس بات کی یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ ان کی باڈی سکریننگ نہیں ہو گی۔ ان کا دورہ 28 فروری کو شروع ہو گیا تھا‘ واشنگٹن میں انہوں نے چھ دن گذارے۔ اس دوران امریکی نمائندے رچرڈ ہالبروک، سینیٹر لوگر سمیت متعدد امریکی عہدیداروں نے ملاقات کی تاہم چھ روز بعد جب وہ واشنگٹن سے دوسری ریاست کیلئے سفر پر روانہ ہوئے تو انہیں سکریننگ کیلئے کہا گیا۔ حالانکہ امریکہ آمد پر ان کی سکریننگ نہیں کی گئی تھی‘ امریکی حکام نے ہمیں یقین دہانی کرائی تھی کہ ان کی سکریننگ نہیں کی جائےگی تاہم بعد میں سکریننگ کیلئے کہا گیا جس پر انہوں نے دورہ منسوخ کر دیا۔ وفد میں شامل رکن قومی اسمبلی اخون زادہ چٹان نے کہا کہ امریکہ میں بھارتی لابی پاکستان کے خلاف پراپیگنڈا کر رہی ہے۔ اس موقع پر ارکان پارلیمنٹ حافظ محمد رشید، ساجد حسین طوری، محمد کامران اور ضواد حسین بھی موجود تھے۔ اس سے پہلے وفد کا استقبال فاٹا کے افراد اور ارکان پارلیمنٹ کے رشتہ داروں نے کیا۔ کویت سے ہمارے نمائندے کے مطابق سینیٹر عباس آفریدی نے فون پرکہا کہ پاکستان میں ڈرون حملوں سے ہمارے شہری شہید ہو رہے ہیں‘ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے اپنا سب کچھ لٹا دیا اور فوج کے نوجوانوں نے جانوں کے نذرانے بھی دئےے پھر بھی ہماری توہین ہو ہم باغیرت پاکستانی کبھی برادشت نہیں کر سکتے۔ ہم نے امریکی ایئرپورٹ پر باڈی سکریننگ نہ کرا کر پاکستان کے وقار قوم کے تقدس کو بحال کیا ہے‘ قوم کی نمائندگی کی ہے‘ باعزت زندگی گذارنا چاہتے ہیں کسی کو پاکستان کی آن سے کھیلنے کی ہر گز اجازت نہیں دی جائےگی۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ اب سینٹ اور قومی اسمبلی میں اٹھایا جائے گا اور بھرپور احتجاج کیا جائے گا‘ حکومت کا دوٹوک مﺅقف قوم کے سامنے لائیں گے۔ امریکی حکام آخری وقت تک کوشش کرتے رہے کہ وفد اپنا دورہ منسوخ نہ کرے اور وہ کسی طرےقے سے باڈی سکریننگ کروانے پر راضی ہو جائیں لیکن ہم نہیں مانے اورہم نے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ عباس آفریدی نے نوائے وقت اور وقت نیوز کا شکریہ ادا کیا کہ ان کی وجہ سے کوےت ایئرپورٹ پران کو عزت ملی اور ایک پاکستانی شہزاد بیگ مرزا نے آپ کی وساطت سے ہماری مدد کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے امریکہ میں واضح کیا ہے کہ پاکستانیوں کی باڈی سکریننگ نہیں ہونی چاہئے۔ ارکان پارلیمنٹ میں میں سینیٹر عباس آفریدی‘ سینیٹر حافظ رشید‘ ارکان قومی اسمبلی اخونزادہ چٹان‘ ساجد حسین طوری‘ محمد کامران اور محمد جواد شامل ہیں۔ جی این آئی کے مطابق شیخ وقاص اسلم‘ بلال یٰسین‘ فیض ٹمن‘ خواجہ شیراز‘ ڈاکٹر روبینہ عزیز‘ ندیم افضل چن سمیت ایم کیو ایم اور اے این پی کے ارکان بھی امریکہ گئے تھے‘ ان ارکان قومی اسمبلی کو امریکی سفارتخانہ میں بلا کر بریفنگ دی جا رہی تھی کہ شیخ وقاص اکرم نے ڈپٹی امبیسیڈر کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ جب تک سکریننگ کی شرط نہیں اٹھائیں گے کسی صورت امریکہ نہیں جا¶ں گا۔ جب تک ہمیں امریکی خکومت وضاحت نہیں دے گی وہ امریکہ میں ہر تقریب کا بائیکاٹ کریں گے۔ امریکی پبلک ریلیشن آفیسر مس جولیا نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ وقاص اکرم آپ کو ہم علیحدہ بریفنگ دیں گے جس پر وقاص اکرم نے کہا کہ جو بات کرنی ہے سب کے سامنے کی جائے۔ ان ارکان اسمبلی کو دو روز بعد دوبارہ بریفنگ کے لئے بلایا گیا تو سکریننگ کے مسئلہ پر سفارتی حکام نے ان ارکان کو بتایا کہ اس بارے میں ابھی حکومت امریکہ کی طرف سے ہمیں کوئی وضاحت نہیں آئی جس پر شیخ وقاص اکرم اور خواجہ شیراز نے کہا کہ ہمارے پاسپورٹ واپس کر دیں‘ ہم سکریننگ کی شرط کی صورت میں امریکہ نہیں جائیں گے۔ بریفنگ کے بعد بھی چند ارکان امریکہ جانے کو تیار ہو گئے‘ انہیں یہ علم تھا کہ ایئرپورٹ پر سکریننگ ہو گی۔ مس جولیا نے ارکان سے کہا تھا کہ ایئرپورٹ سے ہوٹل تک آپ کو لے جانے کے لئے کوئی سرکاری انتظام نہیں‘ اس لئے ہم ہر رکن کو 60 ڈالر نقد دے رہے ہیں۔ اس طرح سفارتی عملے نے تمام ارکان کو 60‘ 60 ڈالر کے لفافے تھمائے جسے خواجہ شیراز‘ شیخ وقاص اکرم اور وہ بلال یٰسین نے لینے سے انکار کر دیا‘ دیگر ایم این ایز نے لے لئے۔ اسی طرح فاٹا کے ارکان کے وفد کو سکریننگ کے متعلق مکمل بریفنگ دی گئی تھی‘ ینگ پارلیمنٹ لیڈر آپ کی تقریب میں شیخ وقاص اکرم اور خواجہ شیراز امریکہ نہیں گئے‘ ارکان فاٹا سکریننگ کی شرط کو جانتے ہوئے بھی وہاں گئے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ فاٹا سے تعلق رکھنے والے 5 ارکان اسمبلی ابھی امریکہ کے دورے پر ہیں صرف 6 ارکان دورہ ادھورا چھوڑ کر واپس وطن آئے۔ امریکہ محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ 6 ارکان اپنا دورہ منسوخ کر کے دوبارہ پاکستان پہنچ گئے ہیں۔
فاٹا ارکان
Post New Comment