لاہور (ایجنسیاں) وزیر اعلیٰ کے سینئر مشیر سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ نے کہا کہ گورنر پنجاب فرقہ وارانہ جذبات کو ہوا دے کر دہشت گردی کے خلاف عوام کے اتحاد میں دراڑ ڈالنا چاہتے ہیں مگر وہ اپنے عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ گورنر پنجاب کے حالیہ بیانات پر اظہار خیال کرتے ہوئے سردار ذوالفقار کھوسہ نے کہا کہ گورنر پنجاب جھنگ کے ضمنی الیکشن کے حوالے سے جن افراد پر تنقید کر رہے ہیں ان تمام افراد نے فروری 2008ءمیں اس وقت کی حکومت کی اجازت سے الیکشن میں حصہ لیا جس میں سلمان تاثیر ایک فوجی آمر کے دست راست کے طور نگران وزیر تھے۔ انہوں نے سوال کیا کہ پنجاب حکومت کے خلاف تنقید کرنے والے گورنر نے اس وقت ان افراد کو انتخاب میں حصہ لینے کی اجازت دی؟ انہوں نے کہا کہ صرف یہی نہیں بلکہ اس سے پہلے 2002ءمیں اسی گورنر کے سیاسی آقا جنرل مشرف کے سائے میں مرضی کا وزیراعظم منتخب کرانے کے لئے مولانا اعظم طارق کو جیل سے خصوصی طور پر رہا کر کے پارلیمنٹ لے جایا گیا اور ان سے ووٹ ڈلوایا گیا تھا جس کی پاکستان کی تاریخ میں کوئی اور نظیر نہیں ملتی۔ آن لائن کے مطابق نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے ذوالفقار خان کھوسہ نے کہا ہے کہ گورنر پنجاب آئین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں‘ چیف الیکشن کمشنر سوموٹو نوٹس لیں‘ سلمان تاثیر کو نہ صرف عہدہ سے ہٹا دیا جائے بلکہ سزا بھی دی جائے۔ آئین کے تحت گورنر سیاست میں حصہ نہیں لے سکتا لیکن وہ آئینی کردار سے باہر نکل کر ضمنی انتخابات میں ووٹ مانگ رہے ہیں جو کہ آئین کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور میں کئی جانیں ضائع ہوئی ہیں لیکن گورنر کی باتیں اس موقع پر شرمناک ہیں یہ موقع ہمدردی کا ہے اس قسم کی باتوں کا نہیں۔ ثناءنیوز کے مطابق ذوالفقار کھوسہ نے گورنر پنجاب کے رانا ثناءاللہ پر لگائے گئے الزمات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مولانا احمد علی لدھیانوی پر دہشت گردی کا کوئی الزام ثابت نہیں ہوا۔ وہی مولانا پیپلز پارٹی کے وزیر مملکت تسنیم قریشی کی دعوت پر ان کے گھر کھانے پر جائیں تو وہ دہشت گرد نہیں ہیں اور اگر وہ انہیں ووٹ نہیں دیتے تو گورنر پنجاب انہیں دہشت گرد قرار دینے لگتے ہیں۔ گورنر کو ماضی کو نہیں بھولنا چاہئے اور اپنے باس پرویز مشرف کے اقدامات کو بھی یاد رکھنا چاہئے۔ شاید ان کی یاد داشت بہت کمزور ہو چکی ہے کہ انہیں نہ صرف مشرف دور میں انتخابی مہم میں شامل رکھا گیا بلکہ وزیر بھی بنایا گیا۔
لاہور (خبر نگار خصوصی + نامہ نگار) صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ خان نے دعویٰ کیا ہے کہ فورٹ عباس میں جلسہ کے دوران کالعدم سپاہ صحابہ کے نائب صدر را¶ جاوید نے گورنر کی موجودگی میں پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی‘ اس عمل پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھ پر انتہا پسند تنظیموں کے عہدےداران کو ساتھ لے کر چلنے کا الزام لگانے والے گورنر کے اس اقدام کے بعد اب انہیں یہ جرا¿ت کرنی چاہئے کہ وہ اور میں مل کر استعفے دیں۔ انہوں نے کہا کہ گورنر پنجاب کو دراصل مسلم لیگ (ن) فوبیا ہے اور وہ خواہ مخواہ کی الزام تراشی کر کے سیاسی طور پر زندہ رہنا چاہتے ہیں لیکن دنیا جانتی ہے کہ انہیں جنرل مشرف نے اپنے مذموم مقاصد کے لئے پنجاب میں گورنر لگایا تھا۔ لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناءاللہ نے کہا ہے کہ گورنر پنجاب ہمیشہ بے سروپا باتیں کرتے ہیں۔ دکھ کے موقع پر گورنر پنجاب کے بیان کا جواب دینا مناسب نہیں سمجھتا۔ وہ بے تکی باتیں کرتے رہتے ہیں۔ گورنر پنجاب کو گورنر راج کے دوران شرمناک شکست ہوئی اسی وجہ سے وہ سکتے میں ہیں۔ ادھر رانا ثناءاللہ خان نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے اس واقعہ مےں بےرونی ہاتھ ملوث ہے اور اس مےں بھارتی خفےہ اےجنسی ”را“ ےا پھر اسرائےلی اےجنسی ”موساد“ ملوث ہو سکتی ہے۔ وہ گذشتہ روز ماڈل ٹاﺅن میں جائے وقوعہ اور جناح ہسپتال مےں صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور میں دہشت گردی کا واقعہ کسی بھی ادارے یا حکومت کی ناکامی نہیں‘ دہشت گردوں کے خلاف متحد ہو کر پوری قوم کو لڑنا ہو گا یہی ہماری کامیابی ہو گی۔ جہاں تک سکیورٹی انتظامات کا تعلق ہے تو پنجاب میں دہشت گردی کے خدشات کے پیش نظر سکیورٹی کے سخت انتظامات ہی کئے جاتے ہیں‘ امید ہے کہ جلد دہشت گردوں تک پہنچ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے حساس اداروں کے دفاتر رہائشی اور رش والے علاقوں سے باہر منتقل کرنے کا پروگرام ترتیب دیا ہوا ہے اور بہت جلد اس پر باقاعدہ کام شروع کر دیا جائے گا۔ مختلف سوالات کے جواب دےتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حافظ سعید کو ہم نے نہیں عدالت نے بری کیا اور بھارت آج تک ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں دے سکا۔
رانا ثناءاللہ
Post New Comment