ماڈل ٹاﺅن لاہور میں تفتیشی ایجنسی کے دفتر پر خودکش حملہ‘ 15 جاں بحق‘ 93 زخمی

حوالہ : لاہور (نامہ نگار + نمائندہ خصوصی) ـ 9 مارچ ، 2010
  • Adjust Font Size
ماڈل ٹاﺅن لاہور میں تفتیشی ایجنسی کے دفتر پر خودکش حملہ‘ 15 جاں بحق‘ 93 زخمی

لاہور (نامہ نگار + نمائندہ خصوصی) ماڈل ٹاﺅن لاہور کے علاقہ کے بلاک میں سپیشل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے دفتر پر خودکش حملے میں ایک خاتون‘ ایک بچے اور 9 اہلکاروں سمیت 15 افراد جاںبحق جبکہ 93 افراد زخمی ہو گئے جبکہ کئی کی حالت تشویشناک ہے۔ دھماکے سے ایجنسی کی دو منزلہ عمارت زمین بوس ہو گئی۔ درجنوں گھروں کو شدید نقصان پہنچا۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ پورا علاقہ لرز اٹھا اور اس کی آواز کئی کلومیٹر دور تک سنی گئی۔ تفصیلات کے مطابق ماڈل ٹاﺅن کے رہائشی علاقے کے بلاک میں حساس اداروں نے خیام حیات نامی شخص سے اس کی 4 کنال جگہ پر قائم دو منزلہ کوٹھی کرایہ پر حاصل کر کے وہاں دہشت گردوں سے تفتیش کیلئے خصوصی ادارہ سپیشل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کا دفتر بنا رکھا تھا۔ گذشتہ روز صبح 8 بجکر 15 منٹ پر خودکش حملہ آور نے دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی اس عمارت کی دیوار سے ٹکرا دی۔ دہشت گرد نے دفتر کے مےن گےٹ کی بجائے بائےں دےوار کے درمےان سڑک پر دھماکہ کےا جس سے آگ کے شعلے بلند ہوئے۔ ہر طرف دھواں پھیل گیا۔ دھماکے سے ایس آئی اے دفتر کی عمارت مکمل طور تباہ ہو گئی اور عمارت میں موجود اہلکار ملبے تلے دب گئے جبکہ دھماکہ کی وجہ سے اس بلڈنگ سے ملحقہ کوٹھیوں کے علاوہ دور دور تک واقع عمارتیں بھی شدید متاثر ہوئیں۔ ایس آئی اے کی بلڈنگ سے ملحقہ سڑکوں پر سفر کرنے والوں کی گاڑیاں بھی تباہ ہو گئیں۔ لوگوں کے گھروں میں کھڑکیاں اور شیشے ٹوٹ گئے۔ ملحقہ کوٹھیوں کے دروازے‘ اے سی‘ الیکٹرونکس سامان اور دیواروں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ کئی گھروں میں دراڑیں پڑ گئیں۔ گیراجوں میں کھڑی گاڑیاں تباہ ہو گئیں ۔ دھماکے کی جگہ پر سڑک کے درمیان 18 فٹ چوڑا اور 6 فٹ گہرا گڑھا پڑ گیا جبکہ دھماکے سے پڑنے والے گڑھے سے دو پانی کے پائپ ٹوٹنے سے گڑھا پانی سے بھر گیاجس گاڑی مےں دھماکہ خےز مواد لاےا گےا اس گاڑی کے پرخچے اڑ گئے اور گاڑی کے حصے اڑ کر دور دور جا گرے جس کو تفتیشی ٹےمےں اکٹھا کرتی رہےں۔ ابتدائی شواہد کے مطابق دہشت گرد گرے رنگ کے سنگل کےبن ڈالے مےں دھماکہ خےز مواد لے کر آےا تھا۔ گاڑی کے کچھ حصے دھماکے کے باعث پڑ جانے والے گڑھے سے ملے۔ پولےس نے گاڑی کے مختلف حصے اکٹھے کر کے ان کو لےبارٹری مےں بھجوا دےا ہے ایجنسی کے دفتر میں ہر طرف چیخ و پکار تھی۔ حملے کے بعد ہر طرف دھوئیں اور گردوغبار کے کالے اور گہرے بادل چھا گئے جبکہ بارود کی بدبو سے سانس لینے مےں بھی دشواری کا سامنا کرنا پڑا اور یہ سلسلہ کافی دیر تک جاری رہا۔ دھماکے کے بعد وہاں سے گزرنے والی متعدد گاڑےاں آپس میں ٹکرا گئیں۔ جاںبحق ہونے والے اہلکاروں کے لوتھڑے درختوں اور دیواروں کے علاوہ ملحقہ گھروں کے دروازوں اور دیواروں پر چمٹ گئے۔ ایجنسی کی منہدم عمارت کے اندر اہلکاروں کی وردیاں‘ بوٹ‘ ملبہ‘ تباہ حال موٹر سائیکلیں اور خون ہی خون تھا۔ امدادی ٹیموں نے آکر ملبہ ہٹانا شروع کیا تو اس میں سے انسانی اعضا اور خون کے لوتھڑے برآمد ہوتے رہے۔ امدادی ٹیمیں چادریں بچھا کر اس میں انسانی گوشت کے لوتھڑے جمع کرتی رہیں۔ عمارت کے باہر سے گزرنے والے درجنوں راہگیر زخمی حالت میں خوف سے بھاگتے اور جانیں بچاتے نظر آئے۔ امدادی ٹیموں نے نعشوں اور زخمیوں کو ہسپتالوں مےں پہنچایا جہاں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ۔ درجنوں افراد کو امدادی ٹیموں نے موقع پر طبی امداد دی جبکہ 93 شدید زخمیوں کو طبی امداد کیلئے ہسپتال لے جایا گیا۔ گھروں میں بھی شیشے لگنے سے درجنوں افراد زخمی ہوئے۔ دھماکے کی وجہ سے بجلی کی تاریں ٹوٹنے اور عمارت کے سامنے کھمبا گرنے سے علاقہ کی بجلی منقطع ہو گئی جبکہ قرےبی واپڈا کے گرڈ سٹےشن کو بھی نقصان پہنچا۔ متعدد درخت بھی جڑوں سے اکھڑ گئے۔ پولیس‘ ریسکیو 1122‘ ایدھی ایمبولینس‘ سول ڈیفنس‘ بم ڈسپوزل سکواڈ کے علاوہ ضلعی انتظامیہ کا عملہ بھی موقع پر پہنچ گیا اور امدادی سرگرمیوں میں مصروف رہے۔ واسا کی ٹیم نے دھماکے کی جگہ پر پڑنے والے گڑھے میں پھٹنے والے دونوں پائپوں کو جوڑا جبکہ ضلعی انتظامیہ کے درجنوں اہلکار ملبہ ہٹاتے رہے۔ دھماکے کے بعد بم ڈسپوزل سکواڈ اور دےگر امدادی ٹےموں نے قرےبی علاقے کی بھی مکمل چےکنگ کی۔ اس کے علاوہ علاقہ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے متعدد تحقیقاتی افسران نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور وہاں سے مختلف شواہد و ثبوت اکٹھے کرتے رہے اور اعلیٰ حکام کو رپورٹ دیتے نظر آئے۔ حملے کے مےں 600 کلو سے زائد دھماکہ خےز مواد استعمال کےا گےا تھا۔ اس حوالے سے کمشنر لاہور خسرو پرویز‘ بم ڈسپوزل سکواڈ اور ڈی سی او سجاد بھٹہ کے بیانات میں تضاد پایا گیا۔ سجاد بھٹہ کے مطابق 600 کلو دھماکہ خیز مواد جبکہ کمشنر لاہور اور بم ڈسپوزل سکواڈ کا کہنا ہے کہ 800 کلو مواد استعمال کیا گیا۔ سپیشل انٹیلی جنس صوبائی محکمہ داخلہ کے تحت کام کرتی ہے۔ شہریوں کی بڑی تعداد موقع پر جمع ہو گئی جن کو کنٹرول کرنا پولیس کے لئے مشکل ہو گیا۔ پولیس اہلکار شہریوں کو وہاں سے ہٹانے کے لئے ڈراتے‘ دھمکاتے ر ہے مگر ناکام رہے۔ گذشتہ رات ماڈل ٹا¶ن دھماکے میں جاںبحق ہونے والے 9 پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ پولیس لائن قلعہ گجر سنگھ میں ادا کی گئی۔ ان اہلکاروں میں عارف حسین ہیڈ کانسٹیبل‘ محمد عارف کانسٹیبل‘ غلام عباس کانسٹیبل‘ عزیز کانسٹیبل‘ منور عالم کانسٹیبل ڈرائیور‘ اسلم کانسٹیبل‘ گلزار الیکٹریشن‘ افضل دھوبی اور حبیب کانسٹیبل شامل ہیں۔ ہیڈ کانسٹیبل محمد عارف کی نعش ورثا پہلے ہی لے گئے تھے‘ اس لئے اس کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی‘ نماز جنازہ میں آئی جی پنجاب طارق سلیم ڈوگر ،کمشنر لاہور خسرو پرویز‘ سی سی پی او پرویز راٹھور‘ ممبر قومی اسمبلی میاں مرغوب اور عمر سہیل ضیا بٹ نے شرکت کی۔
خودکش حملہ

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions