اسلام آباد + دیربالا + سوات (سٹاف رپورٹر + مانیٹرنگ نیوز + ایجنسیاں) دیر بالا میں مقامی لشکر اور عسکریت پسندوں کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ تیسرے روز بھی جاری رہا۔ قبائلی لشکر نے 300 شدت پسندوں کے گرد گھیرا مزید تنگ کرتے ہوئے شاٹ کس کے کئی علاقوں پر کنٹرول حاصل کر لیا جبکہ لشکر نے سوات اور دیربالا کو ملانے والے راستے سیل کر دئیے اور دیگر علاقوں ک طرف پیش قدمی جاری ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق 24 گھنٹوں میں ایک کمانڈر سمیت 21 عسکریت پسند جاںبحق ہوئے۔ کبل کے علاقے مالم جبہ میں سکول پر بمباری سے ایک درجن عسکریت پسند مارے گئے جبکہ دیربالا کے علاقے ڈوگ درہ میں گن شپ ہیلی کاٹروں کی بمباری سے 13 شدت پسند لیڈروں کے جاںبحق ہونے کی اطلاع ہے۔ علاقے میں لشکر کی کارروائی سے مرنے والوں کی تعداد 29 ہو گئی ہے۔ ادھر جنرل کیانی ایئر چیف کے ساتھ سوات پہنچ گئے۔ انہوں نے جوانوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شدت پسندوں کا مکمل صفایا کیا جائے گا۔ آپریشن کے بعد بھی فوج علاقے میں رہے گی۔ انہوں نے جنرل آفیسر کمانڈنگ کو ہدایت کی کہ وہ متاثرین کی پرامن ماحول میں گھروں کی واپسی کے معاملے پر توجہ مرکوز کریں۔ آئی ایس پی آر کا مزید کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے کانجو سے مٹہ تک روڈ کلیئر کر کے چیک پوسٹیں قائم کر دیں جبکہ کبل کے بالائی علاقوں کی جانب پیش قدمی جاری ہے۔ چکدرہ آپریشن کے انچارج کرنل ظل نے بتایا کہ چکدرہ سے گھوڑا گٹ تک کا علاقہ کلیئر کر دیا گیا ہے اور یہاں کے لوگ اب گھروں کو واپس جا سکتے ہیں۔ ہنگو کے شاہو بازار میں ایک مزدا کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کر دیا گیا ہے۔ بونیر میں نامعلوم افراد نے 2 پل دھماکہ خیز مواد سے اڑا دئیے جس سے ٹریفک عارضی طور پر معطل ہو گئی ہے۔ باجوڑ ایجنسی کے ہیڈ کوارٹر خار میں اچانک کرفیو نافذ کر دیا گیا جبکہ مہمند ایجنسی سے 10 مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ سٹاف رپورٹر کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور پاک فضائیہ کے سربراہ ائر چیف مارشل راؤ قمر سلیمان نے پیر کے روز سوات کا دورہ کیا۔ آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ مینگورہ میں انہوں نے فیلڈ کمانڈروں کے ساتھ ملاقات کی اور آپریشن کے معاملات پر ان سے غیر رسمی تبادلہ خیال کیا۔ علاقے کے جنرل آفیسر کمنڈنگ نے آپریشن کی موجودہ صورتحال اور آئندہ پوزیشن کو مستحکم بنانے کے بارے میں منصوبوں سے متعلق انہیں بریفنگ دی۔ کمشنر مالاکنڈ نے انہیں انتظامی منصوبوں کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کیا۔ آرمی چیف نے جنرل آفیسر کمانڈنگ کو ہدایت کی کہ وہ متاثرین کی حفاظت کے ساتھ اور پرامن ماحول میں گھروں کی واپسی کے معاملے پر توجہ مرکوز کریں۔ آپریشن کے بعد کے اس اہم مرحلے کیلئے فوری منصوبہ تیار کیا جائے۔ آرمی اور ائر چیف نے بعدازاں فوجیوں سے ملاقاتیں کیں اور ان کے ساتھ بے تکلف گفتگو کی۔ آرمی چیف نے آپریشن کے تمام مراحل میں مؤثر مدد فراہم کرنے پر پاک فضائیہ کے سربراہ کا شکریہ بھی ادا کیا۔ اس موقع پر فضائیہ کے سربراہ نے مینگورہ میں صاف پانی کا پلانٹ لگانے کا اعلان کیا۔ آئی ایس پی آر سے جاری بیان کے مطابق سوات میں مقامی لوگوں کی اطلاع پر تلاشی آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے چار باغ کے علاقے میں تین شدت پسند مار دیئے۔ فورسز نے باڑہ بانڈہ، شاہ ڈنڈ بانڈہ میں بھی تلاشی آپریشن کیا اور ڈمبرسر کے علاقے میں کامیابی کے ساتھ رابطہ قائم کر دیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں شدت پسند مارا گیا۔ سکیورٹی فورسز نے شکردرہ میں بھی رابطہ قائم کر دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ دیر میں مقامی لشکر نے شدت پسندوں کے 13 مکانات نذر آتش کر دیئے جبکہ گذشتہ جمعہ کو مسجد میں خود کش حملے کے جواب میں گائوں ڈھوک دارا میں تین عسکریت پسندوں کو مار دیا۔ مقامی لشکر میں اپر دیر کے شتکاس اور مینا قصبوں میں دہشت گردوں کا گھیرائو کر لیا‘ سکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان بونیر کے علاقے امبیلا میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں شدت پسند کمانڈر غلام خالق اور شیرزادہ مارے گئے۔ پارا چنار سے نمائندہ خصوصی کے مطابق کرم ایجنسی کے علاقہ علی زئی میں شدت پسندوں کے ایک حملے میں کھیتوں میں کام کرنے والا مقامی شخص اسمٰعیل مارا گیا۔ ایف آر بنوں کی پولیٹیکل انتظامیہ اور کمشنر بنوں نے بکا خیل اور جانی خیل قبائل سے کہا ہے کہ وہ 36 گھنٹوں کے اندر غیر ملکیوں کو اپنے علاقوں سے نکال دیں اگر ایسا نہ کیا گیا تو شدت پسندوں کو پناہ دینے والوں کے گھر مسمار کر دئیے جائیں گے۔ دیر بالا کے علاقوں میانہ اور غازی گئی میں مقامی لشکر نے شدت پسندوں کے تمام گھروں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ شارٹ کس اور غازی گئی میں مقامی لشکر نے شدت پسندوں کا صفایا کر دیا‘ جبکہ ملوکھڑا وغیرہ میں شدت پسندوں اور مقامی لشکر کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے۔
Post New Comment