لاہور(وقائع نگار خصوصی) اعلی عدلیہ میں جج صاحبان کی کمی کو کئی ماہ گزرنے کے باوجود پورا نہ کیا جا سکا ۔نئے جج صاحبان کی تقرریاں ”نامعلوم وجوہات “ کے باعث مسلسل تاخیر کا شکار ہیں جس کے باعث اعلی عدلیہ پر کام روزانہ کی بنیاد پر بڑھنے لگا ہے۔ جس کا اظہار چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ خواجہ محمد شریف کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان نے بھی اپنے خطاب میں کیا ہے۔ آئین کے مطابق لاہورہائیکورٹ میں جج صاحبان کی تعداد 60ہونی چاہیے لیکن اس وقت یہاں صرف24 جج ہیں۔ نئے ججوں کی تقرری کے لئے سفارشات گورنر اور صدر کو بھجوائی جا چکی ہیں لیکن بعض ناگزیر اور نامعلوم وجوہات کے باعث ان پر عمل درآمد نہیں ہو سکا اور نئے ججوں کی تقرری کی فہرست سرخ فیتے کا شکار ہے۔ قومی جوڈیشل پالیسی پر موثر طریقے سے عملدرآمد نہ ہونے کے باعث سائلین شدید مشکلات کا شکارہیں۔ لاہور ہائیکورٹ میں 2009 ءمیں 57 ہزار سے زائد مقدمات دائر ہوئے جبکہ سال 2008ءاور سال 2009ءکے دوران دائر ہونے والے 85 ہزار مقدمات جون 09ءتک ہائیکورٹ میں زیر التواء تھے اور ہائیکورٹ میں زیر سماعت مقدمات کی تعداد میں کمی واقع نہیںہو رہی اور ہائیکورٹ میں زیر التواءمقدمات میں روزانہ کی بنیاد پر سینکٹروں مقدمات کا بوجھ بڑھ رہا ہے ۔ اگر بفرض آج بھی جج صاحبان کی تعداد کو پورا کر لیا جاتا ہے تو بھی ہائیکورٹ میں مقدمات کا بوجھ کم کرنے کے لئے ایک طویل عرصہ درکار ہوگا۔
Post New Comment