قومی اسمبلی : امن امان کی خرابی کے ذمہ دار رحمن ملک ہیں‘ استعفی دیں ۔۔ اپوزیشن کا مطالبہ

ـ 9 فروری ، 2010
  • Adjust Font Size

اسلام آباد (خبرنگار خصوصی+نیوز ایجنسیاں) قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے ملک میں امن و امان کی خراب صورتحال کا ذمہ دار وزیر داخلہ رحمن ملک کو قرار دیتے ہوئے ان سے فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا جبکہ ق لیگ کے رکن مخدوم فیصل صالح حیات نے کہا ہے کہ بھارت پاکستان کے خلاف پانی کی دہشت گردی کر رہا ہے جبکہ پاکستان کی حکومت بھارت کے خلاف کوئی اقدام نہیں کر رہی‘ حکومت کو بھارت سے مذاکرات اور پانی کے مسئلہ پر تمام جماعتوں کو اعتماد میں لینا چاہئے جبکہ قومی اسمبلی نے بینکار کمپنیز آرڈیننس (ترمیمی) بل 2009ءمنظور کر لیا۔ قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے مطابق موجودہ اسمبلی میں پہلی بار وقفہ سوالات نہیں لیا گیا جبکہ قائم مقام سپیکر فیصل کریم کنڈی نے طویل علالت کے بعد ایوان میں آمد پر وفاقی وزیر قانون و پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان ایڈووکیٹ کا خیرمقدم کیا اور انہیں صحت یابی پر مبارکباد پیش کی۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں کراچی میں جاں بحق ہونیوالوں کے لئے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔ اجلاس 20منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا۔ اس کے بعد مانسہرہ سے نومنتخب رکن قومی اسمبلی لائق محمد خان سے ڈپٹی سپیکر نے حلف لیا۔ قومی کمیشن برائے انسانی ترقی (ترمیمی) بل 2007ءسمیت قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کی چار رپورٹس قومی اسمبلی میں پیش کر دی گئیں اور وزیراعظم گیلانی حسب روایت پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں موجود رہے۔ آن لائن کے مطابق قومی اسمبلی میں حکومت و اپوزیشن جماعتوں نے کراچی میں امن و امان کی صورتحال پر اظہار تشویش کیا اور ذمہ داروں کیخلاف کارروائی اور اصل حقائق پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ارکان نے کہا کہ کراچی سے سرمایہ نکل رہا ہے‘ حالات خراب ہوئے تو بیروزگاری پھیل جائے گی۔ کراچی کی موجودہ امن و امان کی صورتحال پر تحریک التوا پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے متحدہ کے اقبال قادری نے کہاکہ یہ واقعات انتظامیہ کی ناکامی کا ثبوت ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کی رکن بشریٰ گوہر نے کہاکہ کراچی پختونوں کی قتل گاہ بن گیا ہے‘ لاشوں پر مفاہمت کی سیاست ہو رہی ہے‘ 12مئی کا حساب ہونا ابھی باقی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے برجیس طاہر نے کہاکہ حکومت نام کی چیز کہاں ہے۔ مسلم لیگ ق کی ماروی میمن نے کہاکہ وزیراعظم بتائیں کراچی کے حالات کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے اور کس کا احتساب کیا جائے گا اگر حکومت جواب نہیں دے گی تو ہم ایوان کو نہیں چلنے دینگے۔ مسلم لیگ (ن) کے ممبر برجیس طاہر نے کہا کہ وزیر داخلہ 40-40گاڑیوں کی سکیورٹی کے ساتھ کراچی میں پھرتے ہیں اور عوام کی حفاظت نہیں کی جاتی۔ فیصل صالح حیات نے کہاکہ حکومت سیکرٹری خارجہ کے بھارت سے مذاکرات اور پانی کے مسئلہ کے حوالے سے ملک کی تمام جماتوں کو اعتماد میں لے‘ حکومت وضاحت کرے کہ مسئلہ کشمیر پہلے ہے یا پانی کا مسئلہ۔ انہوں نے کہاکہ بھارت چناب کے اوپر سوانپور ڈیم بنا رہا ہے اس سے پانی مزید کم ہو گا۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions