لاہور (رپورٹ سلمان غنی) مسلح افواج کے سابق چیف جنرل مرزا اسلم بیگ نے بھارت کی جانب سے مذاکرات پر رضامندی کو دراصل امریکہ کی افغانستان میں پسپائی اور اسکی جانب سے بھارت کو دئیے جانیوالے کردار کا خواب بکھرنے کا شاخسانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ صورتحال کے باعث ہی بھارت کو نہ تو لندن کانفرنس میں مدعو کیا گیا اور نہ ہی استنبول کانفرنس میں اسکی ضرورت محسوس کی گئی لہٰذا اب پے در پے اپنی غلطیوں کے ازالہ کیلئے پاکستان کی طرف متوجہ ہوا ہے لیکن ہمیں مذاکراتی ایجنڈا کو کشمیر اور پانی سے مشروط کردینا چاہئے۔ اسکے سوا کسی بھی ایجنڈے پر ہونیوالی بات چیت نہ تو بامقصد ہوسکتی ہے اور نہ نتیجہ خیز‘ صرف اور صرف کشمیر کے ایجنڈا پر مذاکراتی عمل کی شرط ہی سے بھارت کی نیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ وہ گزشتہ روز نوائے وقت سے خصوصی بات چیت کررہے تھے۔ جنرل مرزا اسلم بیگ نے کہا کہ بھارت لاکھ اگنی میزائل کے تجربات کرے یا دوسری صلاحیتیں آزمائے‘ یہ نہ پہلے کارگر ہوسکے ہیں اور نہ اب کارگر ہوسکیں گے۔ اگر وہ پاکستان کو کچھ دکھانا یا سمجھانا چاہتا ہے تو اسے خود معلوم ہے کہ اسے جس چیز پر ناز ہے اس میں پاکستان ان سے کسی طرح پیچھے نہیں۔ میدان لگے گا تو اس پر بہت کچھ آشکار ہوجائیگا۔ اسے چاہئے کہ نئے تجربات کے بجائے کشمیر پر مذاکرات کرے۔ اسی میں اس کی بقاءکا راز مضمر ہے ورنہ بھارت کے اندر چلنے والی آزادی کی تحریکیں اسکے بھی پاﺅں نہیں ٹکنے دیں گی۔ جنرل مرزا اسلم بیگ نے بھارتی وزیر خارجہ کی جانب سے پروفیسر حافظ سعید کو بھارت کے حوالہ کے مطالبہ کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ہر دور میں کسی پاکستانی رہنماءکو ٹارگٹ کرنے کی ضرورت رہتی ہے اور لشکر طیبہ مقبوضہ کشمیر کے اندر لوہے کے وہ چنے تھے جو ان سے چبائے نہ گئے اور اب لشکر طیبہ نے اپنی سرگرمیاں جماعت الدعوة کے ساتھ صرف فلاحی سرگرمیوں تک محدود کررکھی ہیں لیکن یہ آج بھی ان سے خوفزدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہی خوف ممبئی بم دھماکوں کے بعد انہیں ان کا نام لینے پر مجبور کرتا ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ ممبئی دھماکوں کے پیچھے خود بھارت ہی کارفرما ہے۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ ہاں اس میں شک نہیں کہ امریکی پالیسیوں کے ردعمل میں جدوجہد اور جہاد نے فروغ حاصل کیا۔ عراق پر امریکی جارحیت کے بعد عراق سے جہادی افغانستان میں آئے اور افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کی شکست کے بعد انہیں کشمیر میں آنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت نے پہلے ہی چیخ و پکار شروع کردی ہے اور منموہن سنگھ نے چلانا شروع کردیا ہے لیکن بھارت کو چاہئے کہ امریکی انجام سے سبق سیکھے او اپنی جگ ہنسائی کرانے کی بجائے مسئلہ کشمیر کے حل کی طرف آئے کیونکہ علاقائی صورتحال میں امن کا راستہ سرینگر سے گزر کر آتا ہے۔ ابھی سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو بنیاد بناکر بات چلا لے تو بہتر ہوگا ورنہ وہ جس صورتحال سے بچنے کی کوشش کررہا ہے اس فطری صورتحال نے پیدا ہونا ہی ہونا ہے اور ہندوستان کو منہ کی کھانا پڑیگی۔ جنرل مرزا اسلم بیگ نے کہا کہ افغانستان سے امریکی‘ نیٹو افواج کی واپسی سے سب سے زیادہ پریشانی ہندوستان کو ہے۔ اسکے سارے خواب بکھر کر رہ گئے ہیں۔ وہ تو علاقائی صورتحال میں چودھری کا کردار ادا کرنے کا خواہاں تھا لیکن حالات و واقعات نے اسے دفاعی محاذ پر لاکھڑا کیا ہے۔ اب بات مِن مِن کرنے سے نہیں حقیقت پسندانہ طرزعمل اختیار کرنے سے چلے گی۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل ہی امن کی کنجی ہے لہٰذا امن کی آشا مہم چلانے والوں کو بھی اپنی مہم کو امن کیلئے کشمیر سے مشروط کرنا چاہئے ورنہ خواہشات کے گھوڑے دوڑا کر خود کو تو بیوقوف بنایا جاسکتا ہے‘ زمینی حقائق نہیں بدلے جاسکتے اور دنیا جانتی ہے کہ اپنے خون اور عزت و ناموس کی قربانی دیکر مسئلہ کشمیر کو زندہ کرنیوالے حق خودارادیت سے کم پر نہیں ٹلیں گے۔ کشمیریوں کو ظلم و ستم اور قتل و غارت سے ڈرایا او اپنے مشن سے ہٹایا جاسکتا تو مسئلہ کشمیر دب جاتا لیکن دنیا جان چکی ہے کہ کشمیریوں کو آزادی دئیے بغیر یہاں امن و استحکام ناممکن ہے۔
Post New Comment