لاہور (خصوصی نامہ نگار) امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منور حسن نے کہاہے کہ حکومت نے این آر او پر عدالتی فیصلہ کو ابھی تک تسلیم نہیں کیا اور عملدرآمد کی بجائے تصادم کی راہ پر گامزن ہے‘ہمیں عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کروانے کیلئے اسلام آباد کیطرف مارچ بھی کرنا پڑا تو کرینگے‘ سیاستدانوں کی ناکامی کا یہ مطلب نہیں کہ فوج آ جائے‘ مڈٹرم انتخابات کے قائل نہیں ہوئے‘ اس کے نتیجے میں تازہ دم امریکی حامی اقتدار میں آ جائیں گے‘ 23مارچ کی پریڈ کی منسوخی ہماری دفاعی کمزوری ظاہر کرتی ہے‘ آرمی چیف بتائیں کہ آپریشن سے دہشت گردی بڑھی یا ختم ہوئی ہے۔ کراچی کے موجودہ حالات کے ذمہ دار پیپلزپارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ ہیں‘ بھارت سے اس وقت تک مذاکرات نہ کئے جائیں جب تک وہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی سے دستبردار اور کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم نہیں کرتا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز منصورہ میں پریس کانفرنس سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو میں کیا۔ دریں اثناء گذشتہ روز منور حسن کی زیرصدارت جماعت اسلامی کی 90رکنی نومنتخب مجلس شوریٰ کا 2روزہ اجلاس شروع ہو گیا۔ پہلے سیشن میں سید منور نے ارکان سے حلف لیا۔ ادھر سید منور حسن نے مزید کہاکہ ملک میں ہونیوالی دہشتگردی میں امریکہ اور بھارت کی خفیہ ایجنسیاں ملوث ہیں‘ ملک میں انتشار پھیلاکر ایٹمی اثاثوں پر قبضہ امریکہ اور بھارت کی گریٹ گیم کا حصہ ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ امریکہ اور افغان حکومت خود تو طالبان سے مذاکرات کے حامی ہیں مگر پاکستانی حکومت کو محب وطن قبائلیوں کو شہید کرنے کا ٹاسک دے رکھا ہے۔ ڈاکٹر عافیہ کو مجرم قرار دینا پوری پاکستانی قوم کی توہین ہے۔ امریکی عدالت کے فیصلے سے امریکی عدل کی حقیقت کھل کر سامنے آ گئی۔ حکومت پاکستانی سفیر کو عافیہ کےس ٹھیک طریقے سے پیش کرنے کی ہدایت کرے۔
Post New Comment