مسئلہ کشمیر حل کئے بغیر بھارت سے مذاکرات نتیجہ خیز نہیں ہو سکتے: مذہبی‘ سیاسی رہنما

ـ 9 فروری ، 2010
  • Adjust Font Size

لاہور (خصوصی نامہ نگار) مذہبی سیاسی رہنماﺅں نے بھارت کی جانب سے پاکستان سے باہمی مسائل کے حل کے لئے ایک طرف مذاکرات اور دوسری جانب الزامات کو بھارتی حکمرانوں کی بدنیتی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نہ تو مذاکرات میں مخلص ہے اور نہ اسے پاکستان کا وجود برداشت ہے، مسئلہ کشمیر کے حل کئے بغیر بھارت سے کوئی مذاکرات نتیجہ خیز نہیں ہو سکتے حکومت بھارت کے الزامات پر دفاعی پوزیشن اپنانے کی بجائے اس کی پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازشوں کو بے نقاب کر کے جارحانہ پالیسی اپنائے۔ امیر جماعت اسلامی سید منور حسن نے کہا کہ بھارت امریکی شہہ پر پاکستان میں عدم استحکام چاہتا ہے کراچی میں ہونے والے پانچ جنوری کی دہشت گردی کے واقعہ میں بھارت ہی ملوث ہے، وہ بدترین پڑوسی ہے اسے کسی صورت گوارا نہیں کہ اس کے ہمسایہ ممالک اس کے اثر سے آزاد ہوں۔ بھارت سے مذاکرات بے معنی ہیں، حکومت کو بھارتی الزامات اور دھمکیاں امریکی شہہ کا شاخسانہ ہیں حکومت کو چاہئے کہ اس پر خاموشی کی بجائے موثر جواب دے۔ جماعة الدعوة پاکستان کے مرکزی رہنما مولانا امیر حمزہ نے کہا ہے کہ بھارت پاکستان سے مذاکرات کی آڑ میں مقبوضہ کشمیر میں ڈیموں کی تعمیرکے ساتھ ساتھ اپنا فوجی قبضہ مزید مستحکم کرنا چاہتا ہے۔ بھارت ایک طرف پاکستان سے مذاکرات کے لئے مثبت رویہ ظاہر کرتا ہے‘ دوسری طرف سرحد پار دہشت گردی، جعلی کرنسی کی سمگلنگ کے الزامات اور حافظ محمد سعید جیسی محب وطن پاکستانی شخصیات کے خلاف زبان درازی کر رہا ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ماضی کی طرح اب بھی وہ مذاکرات میں کسی طور مخلص نہیں پاکستان میں دریاﺅں کے معائنہ کے نام پر بھیجا گیا بے بس اور اختیارات سے عاری بھارتی وفد دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش ہے حکومت کو بھارت کے دھوکہ میں نہیں آنا چاہئے دریاﺅں پر سے بھارتی قبضہ چھڑانے کے لئے عملی اقدامات کرنے چاہئیں‘ بھارت نے مذاکرات کی دعوت دینے کے بعد اگنی تھری میزائل کا تجربہ کر کے بھی پاکستان کو یہ پیغام دیا کہ بھارت اپنی جنگی اور فوجی قوت پر انحصار کرتا ہے‘ مذاکرات کی حکمت عملی محض دکھاوے اور دھوکہ دہی کے سوا کچھ نہیں۔ جے یو آئی کے رہنماﺅں ملک سکندر خان ایڈووکیٹ، مولانا یوسف خان، مولانا محمد امجد خان اور الحاج شمس الرحمن شمسی نے کہا کہ بھارت مذاکرات کی دعوت دینے کے بعد الزام تراشی کے ذریعے مذاکرات کے راستے میں خود دیواریں کھڑی کر رہا ہے اس سے بھا رت کی غیر سنجیدگی واضح ہو گئی ہے‘ بھارت اگر مذاکرات میں سنجیدہ ہے تو پھر الزام تراشی بند کرے تاکہ کشیدگی کا ماحول ختم ہو، مذاکرات کی کامیابی کے لئے اصول بڑا واضح ہے کہ مذاکرات خلوص دل سے کئے جائیں تو کوئی نہ کوئی راستہ نکل آتا ہے اگر بد نیتی مقصد ہے تو پھر مزید بگاڑہی پیدا ہو گا‘ بھارتی وزیراعظم کے بیان کا حکوت سنجیدگی سے نوٹس لے، انھوں نے کہا کہ اگر بھارت معاملات کو حل کرنا چاہتا ہے تو کھلے دل سے بھارت میز پر بیٹھے اور تمام معاملات پر کھلے دل سے بات کرے۔ انہوں نے بھارتی وزیر داخلہ کے بیان پر تعجب ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی الزام تراشی کی منطق حیران کن ہے۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث کے امیر سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے کہا ہے کہ قوم تجارت اور ثقافتی مفادات کے لئے بھارت سے دوستی قبول نہیں کرے گی‘ مجوزہ مذاکرات میں حکومت کشمیریوں کی شرکت یقینی بنائے‘ تنازعہ کشمیر کو عالمی سیاست کی نذر ہونے سے بچایا جائے۔ بھارت آبی جارحیت کے ذریعے ہمیں موت کی و اد کی طرف دھکیل رہا ہے اور حکومت اس کا توڑ کرنے کی بجائے اپنے اقتدار اور اختیار کے تحفظ میں مصروف ہے۔ تحریک المجاہدین جموں کشمیر کے وفد سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ امریکہ کی خوشنودی کے لئے ہونے والے مذاکرات نتیجہ خیز نہیں ہو سکتے۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions