تازہ ترین:

پنجاب اسمبلی : شیخ رشید پر حملے کیخلاف اپوزیشن کا واک آﺅٹ

ـ 9 فروری ، 2010
  • Adjust Font Size

لاہور (نیوز رپورٹر+ سپیشل رپورٹر+ خبرنگار+ نیوز ایجنسیاں) شیخ رشید پر قاتلانہ حملے کے خلاف پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے دوران اپوزیشن نے واک آﺅٹ کیا۔ چودھری ظہیر الدین نے کہاکہ حکومت صوبے میں امن و امان قائم رکھنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید پر قاتلانہ حملے کیخلاف احتجاجاً واک آﺅٹ کرتے ہیں‘ اپوزیشن رکن سیمل کامران نے پوائنٹ آف آرڈر پر کہا کہ ہم شیخ رشید پر قاتلانہ حملے کی مذمت کرتے ہیں۔ صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ نے کہاکہ حکومت بھی اس حملے کی مذمت کرتی ہے واقعہ دہشت گردی کی ایک کڑی معلوم ہوتا ہے۔ رکن اسمبلی حسن مرتضی نے پوائنٹ آف آرڈر پر کہاکہ بسنت پنجاب کا تہوار ہے اسلئے اس کو منانے کی اجازت ملنی چاہئے جس پر صوبائی وزیر کامران مائیکل نے کہا کہ بچوں کی گردنیں کاٹنے کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے۔ رکن اسمبلی علاﺅ الدین نے کہاکہ پنجاب کا تہوار نہیں ہے کیونکہ یہ شاتم رسول کے لئے شروع کیا گیا تھا اس لئے اس کو پنجاب کا تہوار نہ کہا جائے جس پر سپیکر نے کہاکہ جس روز امن و امان پر بحث ہو گی تب اس بارے میں بات کی جائے۔ کامران مائیکل نے کہاکہ کسی ایسے ایونٹ کی اجازت نہیں دینگے جس سے عوام کی جان و مال کو خطرہ ہو‘ اجلاس کے دوران سانحہ کراچی میں جاں بحق ہونے والوں اور گجرات میں قتل ہونے والے 15افراد کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی جبکہ سپیکر رانا اقبال خان نے یقین دہانی کرائی کہ شہدائے کراچی کے لواحقین سے اظہار تعزیت اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے اہل خانہ سے اظہار یکجہتی کیلئے پنجاب اسمبلی کا پارلیمانی وفد جلد بنایا جائے گا۔ چودھری شوکت بسرا نے نکتہ اعتراض پر کہاکہ کراچی میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات قابل مذمت ہیں۔ تحریک التوائے کار پر بحث کرتے ہوئے رکن اسمبلی میاں نوید انجم نے کہا کہ ہربنس پورہ میرے حلقے میں دو سو کینال زمین پر قبضہ کیا جا رہا ہے اور اس میں علاقے کی اہم سیاسی شخصیت ملوث ہے جس کی وجہ سے علاقے کے عوام میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ سٹے آرڈر کے باوجود انتظامیہ کی طرف سے انکو چاردیواری کرنے‘ سڑکیں بنانے‘ کھمبے لگانے سے نہیں روکاجا رہا۔ اس پر وزیر قانون کی غیرموجودگی میں صوبائی وزیر کامران مائیکل نے کہاکہ اس کا مقدمہ عدالت میں چل رہا ہے جبکہ کچھ عرصہ کے دوران آپریشن کرکے 64کنال اراضی واگزار کروائی جا چکی ہے۔ اس کے علاوہ رکن اسمبلی شیخ علاﺅ الدین نے اپنی تحریک التوائے کار میں مطالبہ کیا کہ خواتین جن کی شادی 31سال کی عمر تک نہیں ہو گی ان کو نوکریوں میں سپیشل کوٹہ دیا جائے اور یہ کوٹہ 18فیصد ہونا چاہئے۔ کامران مائیکل صوبائی وزیر نے کہاکہ محکمہ سوشل ویلفیئر پہلے ہی متعدد پروگرام کر رہا ہے۔ جس پر شیخ علاﺅ الدین نے کہا کہ تمام محکموں میں کوٹہ دیا جائے۔ وزیر قانون رانا ثناءاللہ نے ایوان کو بتایا کہ ٹیکسلا سے ملنے والی اٹک کے اعجاز احمد کی مسخ شدہ نعش کے مقدمہ کی تفتیش جاری ہے۔ اعجاز کے قتل کے الزام میں اس کے ساتھی ڈرائیور خضرحیات کی تلاش جاری ہے جبکہ دو ملزمان ندیم اور راشد عزیز کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ کوٹ مومن (سرگودھا) میں تاجر شیخ حسین کی ملازم بلال کے سر پر پیالہ رکھ کر نشانہ بازی کی ”مہم بازی“ کے دوران بلال کے زخمی ہونے کا سخت نوٹس لیا گیا ہے۔ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ بھٹی کالونی کوٹ لکھپت لاہور میں 35سالہ محمد سلیم کے قتل کے بارے توجہ دلاﺅ نوٹس پر انہوں نے کہاکہ ایک ملزم حسنین احمد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ علاوہ ازیں جیسے ہی سپیکر نے علی انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن لاہور مصدرہ 2008ءبارے میں ترمیمی الفاظ کی منظوری کا بل پیش کیا تو اپوزیشن رکن اسمبلی سیمل کامران نے کورم کی نشاندہی کر دی۔ جس پر سپیکر نے ایوان کا اجلاس 5منٹ تک روک دیا۔ 5منٹ تک گھنٹیاں بجائیں گئیں۔ اس کے بعد اجلاس دوبارہ شروع کر دیا گیا۔ 15منٹ کے اندر دوبارہ کورم کی نشاندہی کی گئی مگر ارکان 93پورے نہ ہو سکے۔ چودھری ظہیر الدین نے پوائنٹ آف آرڈر پر کہاکہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت پہلے بھی ضمنی الیکشن سے فرار چاہتی تھی جس کو متعدد بار رکوانے کی کوشش کی گئی۔ امن و امان اور الےکشن کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں پر اپوزیشن علامتی طور پر واک آﺅٹ کرتی ہے جس کے بعد اپوزیشن ارکان علامتی واک آﺅٹ کر گئے۔ این این آئی کے مطابق دو مرتبہ کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے حکومت علی انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشن لاہور کا بل منظور کروانے میں کامیاب نہ ہو سکی اور اجلا س آج (بروز منگل) صبح دس بجے تک کیلئے ملتوی کر دیا گیا۔ گزشتہ روز پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں جب حکومت کی طرف سے علی انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشن 2008ءکابل جب منظوری کیلئے ایوان میں پیش کیا جا رہا تھا تو اس پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا اور ان کا کہنا تھا کہ یہ بل گورنر پنجاب کی طرف سے واپس بھجوایا گیا ہے اور ان کی ہدایت ہے کہ اس میں ضروری ترامیم کی جائے اس لئے اس بل کو منظوری سے قبل وزارت قانون اور سٹینڈرڈ کمیٹی کو بھجوایا جائے۔این این آئی کے مطابق وزیراعلیٰ شہبازشریف پنجاب اسمبلی میں واقع اپنے چیمبر میں ارکان اسمبلی کے مسائل سنتے رہے جس کے باعث پنجاب اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی میں شرکت نہ کی۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions