تازہ ترین:

پاکستان میں آئندہ برس پانی کی قلت 60 فیصد ہونے کا خطرہ‘ مزید لاکھوں ایکڑ اراضی بنجر ہو جائے گی

ـ 9 فروری ، 2010
  • Adjust Font Size

لاہور (ندیم بسرا سے ) پاکستان میں پانی کی کمی آئندہ برس 60 فیصد تک ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے جس کی وجہ سے لاکھوں ایکڑ مزید اراضی بنجر ہوجائےگی۔ پاکستان کو نقصانات سے بچانے کےلئے ماہرین نے قرار دیا ہے کہ کالا باغ ڈیم کے بغیر ملک چند سالوں میں غذائی اجناس کی قلت والا ملک بن جائےگا اور اربوں روپے کا زرمبادلہ آٹا، چینی‘ دالوں اور دیگر اشیائے خوردونوش کےلئے درکار ہونگے تاہم بھارت کی طرف سے ہمارے پانیوں پر ڈیم بنانے کو روکنے کی پالیسی بھی غیرموثر نظر آتی ہے اور پاکستان کی چھوٹے ڈیموں کی پالیسی سے مسائل حل نہیں ہونگے جس کی وجہ سے ملک مزید بحرانوں کا شکار ہوگا۔ حکومت پاکستان بھارت سے کمپوزٹ ڈائیلاگ شروع کرنے پر اصرار کررہی ہے لیکن ماہرین کے مطابق پانی کے مسئلے کو اس سے علیحدہ رکھ کر فوراً بات چیت شروع کی جائے کیونکہ بھارت کا مسئلہ دہشت گردی ہے کہ وہ پاکستان کو کہہ رہا کہ اس پر فوری بات چیت شروع کی جائے تو پاکستان اس مسئلے کو ساتھ رکھ سکتا ہے تاکہ بھارت کے جو ڈیم بنانے کے منصوبے ہیں ان کو روکا جائے۔ اب بھات نے سوال کوٹ ڈیم کی تعمیر بھی پاکستان کے دریائی پانیوں پر شروع کردی ہے۔ اس صورتحال پر پاکستان فاﺅنڈیشن فار انجینئرنگ ڈویلپمنٹ کے ڈاکٹر جاوید یونس اوپل، انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ پاکستان کے سینئر رکن امیر ضمیر، آئی ای پی کے سینئر رکن میاں سلطان محمود نے کہا ہے کہ پاکستان میں پانی کی فی کس دستیابی میں مزید کمی آرہی ہے۔ اس وقت پانی کی کمی 55 فیصد تک جا پہنچی ہے۔ پاکستان میں دریائی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 13 فیصد ہے جبکہ دنیا بھر میں اوسطاً 40 فیصد پانی ذخیرہ کیا جاسکتا ہے۔ تربیلا، منگلااور چشمہ کے آبی ذخائر میں پانی جمع کرنے کی مجموعی صلاحیت گار بھرنے کے قدرتی عمل کے باعث 15.74 ملین ایکڑ فٹ سے کم ہو کر 11.61ملین ایکڑ فٹ رہ گئی ہے۔ پاکستان میں پانی کی فی کس دستیابی 1038 مکعب میٹر کی تشویشناک حد پر آچکی ہے۔ نئے آبی ذخائر کی تعمیر سے پانی میسر آنے پر مزید 20.39 ملین ایکڑ قابل کاشت اراضی آبپاش کی جاسکتی ہے۔ کسان تنظیموں کے سربراہان سلطان محمود چودھری، ابراہیم مغل اور ایوب میو نے کہا ہے کہ بھارتی آبی دہشت گردی کو نہ روکا گیا تو پاکستان 2011ءمیں قحط کی لپیٹ میں آجائیگا کیونکہ چناب، جہلم اور سندھ پر بھارتی منصوبوں سے دریاو¿ں میں آنیوالے پانی میں 60 فیصد کمی ہوگی اور بھارت اب عملاً چناب سے پانی چوری کررہا ہے جس کی وجہ سے پاکستان خصوصاً پنجاب کی ایک کروڑ ایکڑ رقبہ پر کاشت فصلوںکو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ اس بارے میں پانی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ 1996ءمیں پاکستان میں پانی کی کمی 2 فیصد تھی جو 1997ءمیں 8 فیصد، 1999ءمیں 15 فیصد‘ 2000ءمیں 34 فیصد، 2001ءمیں 42 فیصد اور 2009ءمیں 51 فیصد ہوچکی ہے۔ بھارت کی مسلسل خلاف ورزی سے اور وولر بگلہیار ڈیم اور بگلیہار ڈیم آپریشنل ہونے کے بعدسے چناب اور جہلم نالے کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ بھا رت بڑے سٹوریج ڈیم اور دریاو¿ں کا رخ موڑنے کیلئے طویل المدت منصوبے پر عمل کررہا ہے۔ جہلم، چناب اور سند ھ پر 75 ڈیم تعمیر کئے جارہے ہیں جن میں سے 21 ڈیم آپریشنل ہوچکے ہیں۔ 32 چھوٹے ڈیمز کی تعمیر آخری مراحل میں ہے جو 2010ءمیں مکمل ہو ں گے۔ دیگر 22 ڈیمز 2011ءمیں تعمیر ہوجائیں گے۔ بھارت دریائے سندھ پر 12 چھوٹے ڈیم تعمیر کرچکا ہے اور دریائے سندھ پر دنیا کے دوسرے بڑے کارگل ڈیم کی تعمیر کا کام جاری ہے۔ کارگل سے اوپر ایک آبی سرنگ بھی تعمیر کی گئی ہے جس کے ذریعے دریائے سندھ کا پانی راوی اور ستلج کےساتھ ملا دیا جا ئیگا جس سے ہمالیہ گلیشیئر اور بارشوں کا پانی بھی بھارت کے قبضے میں چلا جائیگا۔ اس بارے میں چیئرمین واپڈا شکیل درانی نے کہا ہے کہ بھارت میں کشن گنگا ڈیم بننے سے نیلم جہلم ڈیم کی بجلی پیداواری صلاحیت میں 8 تا 10فیصد کمی ہوگی کیونکہ ہم نے نیلم جہلم بنانے میں 10سال کی تاخیری کی ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم پر اگلے سال جون تک تعمیراتی کام شروع کردیا جائےگا۔ 4500 میگاواٹ پن بجلی بنانےوالا دیامر بھاشا ڈیم اپنی تیاری کے بعد پانچ برسوں میں 11ارب ڈالر لاگت واپس کردےگا۔ حکومت نے چاروں صوبوں میں 12بڑے اور 5 چھوٹے ڈیمز بنانے کی ہدایت کی ہے جس سے 2.5 ملین ایکڑ فٹ پانی بچایا جاسکے گا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے 10بڑے گلشیئرز میں سے 7 ہمارے علاقے میں ہیں اور باقاعدہ منصوبہ بند ی نہ ہونے کی وجہ سے سالانہ 3.2 ملین ایکڑ فٹ پانی ضائع ہورہا ہے۔ تربیلا ڈیم ہرسال ایک دفعہ اور منگلا ڈیم تین دفعہ اپنی لاگت واپس دیتا ہے۔ نیلم جہلم ہائیڈروپاور پراجیکٹ کےلئے بجلی کے بلوں پر لی جانےوالی رقم آٹھ برسوں میں ایک ارب ڈالر ہوگی جبکہ 1.1ارب ڈالر مڈل ایسٹ اور چینی بینک سے قرضہ لےکر یہ منصوبہ مکمل کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تربیلا ڈیم میں روزانہ پانچ لاکھ ٹن ”سلٹ“ آتی ہے اور سالانہ 200 ملین ٹن جمع ہوتی ہے۔ ڈیم کے اندر 60 کلومیٹر لمبا، 70 فٹ اونچا اور 2 کلومیٹر موٹا سلٹ کا پہاڑ ختم کرنے کےلئے ورلڈبینک کی مدد لے رہے ہیں جس کے بعد تربیلا ڈیم کی عمر 35 سال مزید بڑھ جائےگی۔ تربیلا ڈیم کے چوتھے توسیعی منصوبے کو ورلڈ بنک کی طرف سے دئیے جانےوالے 80 کروڑ ڈالرسے مکمل کررہے ہیں۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions