اسلام آباد (ریڈیو نیوز + نیوز ایجنسیاں) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری داخلہ قمر الزمان نے کہا کہ پاکستان میں بلیک واٹر کا کوئی وجود ہے نہ ہی اس نام کی کوئی سکیورٹی ایجنسی رجسٹرڈ ہے۔ سکیورٹی ایجنسیوں کے ملازمین کے نام پر اسلحہ لائسنس جاری نہیں کئے جا سکتے۔ قائمہ کمیٹی کے چیئرمین عبدالقادر پٹیل کی زیر صدارت اجلاس میں کمیٹی کے تمام ارکان نے بلیک واٹر کے حوالے سے وزارت داخلہ کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بلیک واٹر موجود نہیں تو وہ غیر ملکی کون ہیں جو اسلحہ سے لیس دندناتے پھر رہے ہیں۔ اس حوالے سے قوم کو بیوقوف نہیں بنایا جا سکتا۔ وزارت داخلہ خفیہ ایجنسیوں اور امریکی سفارتخانہ سے رپورٹ لے کر ایک بار واضح بیان دے۔ کراچی میں بنگالیوں اور بہاریوں کی ابتر حالت پر قائمہ کمیٹی نے اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھ زیادتی بند کی جائے اور ان کی رجسٹریشن کی جائے۔ انہیں پاکستانی شہری تسلیم کیا جائے یا ملک بدر کر دیا جائے۔ کمیٹی نے سیالکوٹ میں ایک ٹرانسپورٹ کمپنی کی روڈ ہوسٹس سے زیادتی کے واقعہ کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے حکام کو ملزمان کیخلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی۔ سیکرٹری داخلہ کو مخاطب کرتے ہوئے عبدالقادر پٹیل نے اجلاس میں کہا کہ امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس کہتے ہیں کہ پاکستان میں بلیک واٹر موجود ہے آپ کہتے ہیں کہ نہیں ہے تو درست کسے تسلیم کیا جائے۔ امریکی سفارتخانہ کے سکیورٹی اہلکاروں کو سفارت خانہ کی چار دیواری تک محدود رکھا جائے۔ رکن بشریٰ گوہر نے کہا کہ میرا ان لوگوں سے خود پشاور میں واسطہ پڑا ہے اعجاز ورک نے کہا کہ کیا اب ہم عوام کو اجازت دیدیں کہ ان لوگوں کو پکڑ لیں‘ اس سے بلوا ہو گا۔
Post New Comment