راولپنڈی + لاہور (اپنے نمائندے سے + خبر نگار خصوصی + مانیٹرنگ) راولپنڈی میں پاکستان عوامی مسلم لیگ کے سربراہ و سابق وفاقی وزیر شیخ رشید احمد کے انتخابی دفتر کے باہر ان پر حملہ کے نتیجے میں 3 افراد جاںبحق اور 3 افراد زخمی ہو گئے تاہم شےخ رشےد کو کوئی گولی نہےں لگی اور وہ گرنے کے باعث پاﺅں مےں چوٹ لگنے سے زخمی ہو گئے۔ حملہ آوروں نے اس قدر تیزی سے فائرنگ کی کہ کوئی سنبھل نہ سکا، بھگڈر کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حملہ آور اسلام آباد کی جانب فرار ہو گئے، فائرنگ کی آواز سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ گھروں سے باہر نکل آئے، جبکہ پاکستان عوامی مسلم لیگ کے ہزاروں کارکن سڑکوں پر آگئے اور انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نوازشریف، وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور دیگر کے خلاف شدید نعرے بازی کی، ٹائر جلائے، پتھراﺅ کیا اور شہر بھر کی ٹریفک جام کر دی۔ بتایا جاتا ہے کہ شیخ رشید احمد کارنر میٹنگ کے بعد اپنے مرکزی الیکشن آفس واقع خیابان سرسید سے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ باہر نکل رہے تھے جیسے ہی وہ اپنی گاڑی کے قریب پہنچے اچانک دو اطراف سے اندھا دھند فائرنگ شروع ہو گئی۔ فائرنگ ہوتے ہی گارڈز نے شیخ رشید کے گرد گھیرا ڈال دیا اور جوابی کارروائی کرنے کی کوشش کی تاہم حملہ آوروں کی فائرنگ سے کسی کو سنبھلنے اور جوابی کارروائی کرنے کا موقع نہ مل سکا، کئی منٹ کی فائرنگ کے بعد حملہ آور موٹر سائیکلوں پر فرار ہو گئے۔ پولیس کے مطابق فائرنگ کے نتیجہ میں شیخ رشید احمد کا ایک گارڈ انوار عرف انواری موقع پر ہی جاںبحق ہو گیا جبکہ شہزاد عرف شادہ ہسپتال لے جاتے ہوئے اور جاوید ڈی ایچ کیو ہسپتال میں پہنچ کر جاںبحق ہو گئے۔ پولیس کے مطابق محمد الیاس اور محمد حسین شدید زخمی ہو گئے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کی تعداد چار تھی اور وہ موٹر سائیکلوں پر آئے ان میں سے دو حملہ آوروں کی داڑھےاں تھیں اور دو کلین شیو تھے یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے گرد چادریں لپیٹ رکھی تھیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملہ آور اس قدر ترتیب سے فائرنگ کر رہے تھے کہ جیسے وہ ٹرینڈ ہوں۔ حملہ آور فائرنگ کے بعد باآسانی محمدی چوک اسلام آباد کی جانب فرار ہو گئے۔ بعض عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ کرنے والوں نے پینٹ شرٹ پہن رکھے تھے اور وہ چار افراد تھے جنہوں نے دو اطراف سے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی‘ واقع کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری کے علاوہ سی پی او راولپنڈی، ایس پی راول ٹاﺅن، حساس اداروں کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور انہوں نے ابتدائی شواہد اکھٹے کرتے ہوئے درجنوں گولیوں کے خالی خول برآمد کر لئے۔ حملے کے نتیجے میں شیخ رشید کے زیر استعمال اے پی وین بھی بری طرح متاثر ہوئی اور اس کے شیشے ٹوٹ گئے۔ کارکنوں نے حکومت‘ نوازشریف، شہباز شریف، این اے 55 سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار شکیل اعوان اور اسمبلی میں قائد حزب اختلا ف چودھری نثار کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے ظالمو خون کا حساب دو، ہم نہیں مانتے ظلم کے ضابطے، شہدا کا خون رائیگاں نہیں جائےگا کہ نعرے لگائے۔ ہسپتال میں بھی مظاہرین احتجاج کرتے ہوئے مشتعل ہو گئے اور انہوں نے پتھراﺅ کر کے ہسپتال کے شیشے توڑ ڈالے۔ سی پی او راولپنڈی راﺅ محمد اقبال نے کہا ہے کہ اس واقعہ مےں تےن افراد جاوےد، شہزاد عرف شادا اور انوار عرف انواری جاںبحق ہوئے جبکہ شےخ ر شےد سمےت تےن افراد جن مےں محمد الےاس اور محمد حسن بھی شامل ہےں زخمی ہےں۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کے ڈی ایم ایس ڈاکٹر خالد عباس نے بتایا کہ محمد الیاس ولد محمد اسحاق کو چار گولیاں جبکہ محمد حسن ولد محمد لطیف کو دو گولیاں لگیں۔ ڈاکٹر خالد عباس نے بتایا کہ شیخ رشید احمد کو گولی لگنے کے بظاہر کوئی شواہد نہیں ملے جبکہ ان کی ٹانگ پر زخم آئے تھے جن پر مرہم پٹی کردی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد پر قاتلانہ حملہ اور اس حملہ میں ان کے ساتھیوں کی ہلاکت کی تحقیقات کے لئے کمشنر راولپنڈی زاہد سعید اور ریجنل پولیس افسر اسلم ترین کو انکوائری افسر مقرر کیا ہے اور حکم دیا ہے کہ وہ فوری طور پر ابتدائی رپورٹ دیں جبکہ اس واقعہ کی تحقیقات کے لئے سی آئی ڈی پنجاب‘ سپیشل برانچ اور پولیس پر مشتمل تحقیقاتی ٹیم بھی مقرر کی گئی ہے۔ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف نے شیخ رشید پر قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان سے اظہار ہمدردی کیا ہے اور رپورٹ طلب کر لی ہے جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کمشنر اور آر پی او کو واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے بھی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے قومی اسمبلی میں بیان دیتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ شیخ رشید پر قاتلانہ حملہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب کو تحقیقات کے لئے بھرپور تعاون فراہم کریں گے‘ تحقیقاتی رپورٹ آنے پر ایوان کو اس سے آگاہ کیا جائے گا۔ ریڈیو مانیٹرنگ کے مطابق شیخ رشید نے ہسپتال سے لال حویلی پہنچ کر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس ملک میں بےنظیر بھٹو جیسی لیڈر شہید ہو سکتی ہیں تو میں بھی ہو سکتا ہوں‘ انہوں نے کہا کہ اگر میں مر بھی گیا تو لوگ میری قبر پر آ کر ووٹ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ قاتلانہ حملہ پہلے سے کی گئی منصوبہ بندی کے ساتھ ہوا۔ مخالفین مجھے ختم کرنا چاہتے ہیں‘ انہوں نے ایک سوال پر بتایا کہ پیرودھائی تھانے میں درج ایف آئی آر میں کسی کو ملزم نامزد نہیں کیا۔ پنجاب حکومت کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ شیخ رشید احمد پر حملے کا مقدمہ ان کی استدعا کے عین مطابق درج کر لیا گیا ہے۔ خبر نگار خصوصی کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے فوری طور پر شیخ رشید پر حملے کی تحقیقات کا اعلان کرتے ہوئے راولپنڈی انتظامیہ و اعلیٰ پولیس حکام کو ہدایات جاری کی ہیں اور کہا ہے کہ شیخ رشید پر حملے کی تحقیقات کے لئے پولیس و قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی بنائی جائے جو جلد از جلد ملزمان کی گرفتاری یقینی بنائے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے پنجاب اسمبلی میں اپنے دفتر میں شیخ رشید پر حملے کی خبر سنی تو انہوں نے سردار ذوالفقار کھوسہ اور رانا ثناءاللہ کو فوری طور پر ایوان وزیر اعلیٰ بلا لیا جہاں چیف سیکرٹری‘ ہوم سیکرٹری‘ آئی جی پنجاب پولیس و دیگر حکام سے ہنگامی اجلاس میں اس واقعہ کے تمام پہلووں پر غور و خوض کیا گیا۔ سی سی پی او راولپنڈی نے حکام کو بتایا کہ انہوں نے شیخ رشید کی سکیورٹی کے انتظامات کئے تھے اور وہ مسلسل شیخ رشید سے رابطے میں تھے۔ تھانہ پیرودھائی راولپنڈی کے ایس ایچ او نے شیخ رشید کا بیان بھی ریکارڈ کر لیا۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نوازشریف نے شیخ رشید کے دفتر پر فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے اسے پاکستان میں امن کے دشمنوں کی کارروائی قرار دیا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ انہیں اس واقعہ میں انسانی جانوں کے نقصان پر دلی صدمہ پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں شیخ رشید کی صحت اور سلامتی کے لئے دعاگو ہوں۔
Post New Comment