لاہور (خبرنگار خصوصی+ نیوز رپورٹر+ وقت نیوز) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پنجاب بنک فراڈ میں ملوث مرکزی ملزم ہمیش خان کی امریکہ سے پاکستان واپسی میں رکاوٹیں ڈالنے سے باز رہے‘ مقدمے کے مرکزی اور کلیدی کردار کی واپسی کے بغیر پنجاب بنک کے لوٹے ہوئے اربوں روپے کی وصولی اور ذمہ دار افراد کو کیفرکردار تک پہنچانا ممکن نہیں ہے‘ پنجاب حکومت تمام تر رکاوٹوں کے باوجود قومی خزانے اور عوام کی دولت لوٹنے والوں کو کیفرکردار تک پہنچا کر دم لیں گے۔ پاکستان میں اس وقت دہشت گردی سے بھی بڑا مسئلہ لوڈشیڈنگ ہے‘ ملک میں بجلی کی دہشت گردی جاری ہے اس صورتحال سے نکلنے کیلئے مناسب منصوبہ بندی کرنا ہو گی۔ لوڈشیڈنگ کے حل کیلئے سیاسی اختلافات بھلاکر آگے جانا ہو گا‘ دکانیں بند کرانا ہی مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز ایک بیان اور پنجاب انویسٹمنٹ بورڈ کے زیراہتمام گول میز توانائی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا جبکہ ممتاز صنعتکاروں‘ ملٹی نیشنل کمپنیوں و مالیاتی اداروں کے چیف ایگزیکٹو آفیسرز‘ توانائی کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ملکی و غیرملکی ماہرین نے ایوان وزیراعلیٰ میں منعقدہ گول میز کانفرنس کی کامیابی پر وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف کو مبارکباد دی۔ ایک بیان میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ امریکی عدالت ہمیش خان کی پاکستان کو حوالگی کے احکامات جاری کر چکی ہے لیکن وفاقی حکومت خاص طور پر وزارت قانون پنجاب بنک کی مسلسل یاددہانیوں کے باوجود اس کی واپسی کے لئے امریکی انتظامیہ کو مطلوبہ مراسلہ نہیں بھیج رہی۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس معاملے میں مزید تاخیر کی گئی تو امریکی قانون کے تحت یہ واپسی ناممکن ہو جائے گی چنانچہ یہ معاملہ وزیراعظم کی فوری مداخلت کا متقاضی ہے جنہیں اس ضمن میں ضروری ہدایات جاری کرنے کے علاوہ اس امر کا نوٹس بھی لینا چاہئے کہ متعلقہ وزارت اس معاملے میں لیت و لعل سے کیوں کام لے رہی ہے ؟۔ انہوں نے کہاکہ 12 ارب روپے کی مالیت کے پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑے بنک فراڈ کے کلیدی ملزم کی واپسی میں تاخیری حربوں کے استعمال سے عوام کے ذہنوں میں کئی سوالات جنم لے رہے ہیں اور وہ یہ سوچ کر پریشان ہیں کہ ماضی میں ایک ڈکٹیٹر جنرل مشرف نے پنجاب میں اپنے پروردہ حکمرانوں کی سرپرستی میں ڈالی جانے والی ملکی تاریخ کی سب سے بڑی ڈکیتی کے ملزم کو بھاگنے میں مدد دی تھی اور آج موجودہ حکمران اس کی واپسی میں رکاوٹ بن کر ایک بار پھر وہی کھیل دوہرا رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہمیش خان کی واپسی کے فیصلے پر عملدرآمد سے گریز عدالت عظمیٰ کے احکامات کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے اور یہ امر افسوسناک ہے کہ وفاقی حکومت یکے بعد دیگرے ایسے اقدامات کی مرتکب ہو رہی ہے جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ عدالتی احکامات کو نظرانداز کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے اور قومی مفادات کو ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے۔ توانائی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ ملک کے اندر جاری بجلی کی لوڈشیڈنگ نے ہر طبقے کو بُری طرح متاثر کیا ہے‘ بجلی کی دہشت گردی جاری ہے‘ ملک کو بھارت کے ساتھ 3جنگوں نے اتنا نقصان نہیں پہنچایا جتنا نقصان بجلی کی لوڈشیڈنگ نے پہنچایا اس کے لئے ہم کو اقدامات کرنا ہونگے۔ دو برس آئینی ترامیم اور عدلیہ بحالی میں لگ گئے مگر بجلی کے منصوبوں پر کام نہ ہو سکا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف‘ سینئر صوبائی وزیر راجہ ریاض‘ صوبائی وزیر ملک ندیم کامران‘ پنجاب انویسٹمنٹ بورڈ کے چیئرمین سمیت انڈسٹریلیٹ کی بڑی تعداد موجود تھی۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے ہم بہت مشکل حالات سے دوچار ہیں۔ اس صورتحال سے نکلنے کیلئے مناسب منصوبہ بندی کرنا ہو گی۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ سے ہسپتالوں میں آپریشن ملتوی ہو رہے ہیں‘ سکولوں میں اندھیرا ہو گیا ہے یہ ایک چیلنج ہے جس کا پوری قوم کو مل کر حل تلاش کرنا ہو گا‘ ہم نے کوئلے سے بجلی پیدا کرنے اور شوگر انڈسٹری میں گنے کے پھوک سے بجلی پیدا کرنے کے لئے کام شروع کر دیا ہے۔ پنجاب جو ایک بہترین زرعی نظام ہے یہاں پر پانی سے 120میگاواٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے اور چولستان میں شمسی توانائی سے بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ اب ہمارے پاس وقت کم ہے اس لئے پبلک و پرائیویٹ سیکٹر کو اس سلسلے میں زیادہ سے زیادہ منصوبے متعارف کروانا ہونگے‘ بجلی کی قلت 5ہزار میگاواٹ سے تجاوز ہو چکی ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ وقت پر کام شروع کیا جائے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان کے عوام اور تمام سیاسی جماعتوں نے متحد ہوکر دہشت گردی کے عفریت کا مقابلہ کیا ہے اور افواج پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں لازوال قربانیاں دے کر پاکستان کی حفاظت کو یقینی بنایا ہے۔ توانائی کا بحران بھی اب پاکستان کے عوام کے لئے ایک ”دہشت“ کی شکل اختیار کر چکا ہے اور ہم سب کو مل کر لوڈشیڈنگ سے نجات کے لئے مﺅثر اقدامات کرنا ہوں گے۔ توانائی کا حصول ہمارے لئے موت اور زندگی کا مسئلہ بن چکا ہے اور اگر ہم نے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو اس چیلنج سے ہر قیمت پر نمٹنا ہو گا۔ چھوٹے دکاندار لوڈشیڈنگ کی وجہ سے اپنا کاروبار نہیں کر سکتے اور ایک وقت کی روٹی بھی کمانے سے قاصر ہیں‘ تعلیمی اداروں اور دفاتر میں دو چھٹیوں کی وجہ سے طلبا و طالبات اور عام سائلوں کا قیمتی وقت ضائع ہو رہا ہے جبکہ ٹیکنیکل اداروں میں مشین کا پہیہ رک جانے سے غریب کاریگروں کی معاشی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ طویل دورانیہ کی لوڈشیڈنگ ہماری زرعی پیداوار پر بھی بہت بُری طرح اثرانداز ہوئی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ اسلام آباد میں حالیہ توانائی کانفرنس کے فیصلوں پر عملدرآمد کے نتیجے میں ایک ہزار میگاواٹ بجلی کی بچت ہوئی ہے جس کی بدولت صنعتوں کا پہیہ دوبارہ چالو کرنے میں کچھ مدد ملی ہے۔ انہوں نے کہاکہ پنجاب حکومت توانائی کے حصول کے لئے وفاقی حکومت کی مشاورت سے متعدد اقدامات اٹھا رہی ہے اور صوبے میں ایک علیحدہ محکمہ برائے توانائی بھی قائم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بیرون و اندرون ملک سے گول میز توانائی کانفرنس میں ماہرین اور سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد میں شرکت اس بات کی غماز ہے کہ وہ پاکستان سے توانائی کے بحران کے خاتمے کا جذبہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ملک کو درپیش توانائی کے بحران کا ہم نے مل جل کر سامنا کرنا ہے اور میں پنجاب گورنمنٹ کی جانب سے تمام شرکا کو یقین دلاتا ہوں کہ وہ اس شعبے میں سرمایہ کاری کے لئے آگے آئیں حکومت انہیں ہرممکن سہولت فراہم کرے گی۔ علاوہ ازیں کانفرنس کے اختتام پر ممتاز صنعتکاروں‘ ملٹی نیشنل کمپنیوں و مالیاتی اداروں کے چیف ایگزیکٹو آفیسرز‘ توانائی کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے کہاکہ کانفرنس میں اندرون و بیرون ملک سے ماہرین اور سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد میں شرکت کا سہرا وزیراعلیٰ پنجاب کے سر ہے جو ملک سے توانائی کے بحران کے خاتمے کے لئے متحرک اور فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ لاہور میں اس کانفرنس کے انعقاد سے توانائی کے بحران پر قابو پانے کے حوالے سے دوررس نتائج مرتب ہوں گے۔ واضح رہے کہ چار گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی توانائی کانفرنس میں مہمانوں کو عشائیہ کے دوران وزیراعلیٰ کی ون ڈش پالیسی پر عمل کیا گیا۔
شہبازشریف
Post New Comment