بجلی کی قیمتوں میں اضافہ مسترد، واپس لیا جائے: حکومتی اتحادی و سیاسی رہنما

ـ 8 مارچ ، 2010
  • Adjust Font Size

لاہور / کراچی ( خبر نگار خصوصی/خصوصی رپورٹر / اے پی پی) سیاسی رہنماﺅں اور حکومتی اتحادیوں نے بجلی کی قیمتوں مےں اضافے کو مسترد کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اضافہ فوری واپس لیا جائے، جمعیت علماءاسلام (ف) کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ حکومتی فیصلے سے مہنگائی کا سیلاب آئے گا، ہم بجلی کی قیمتوں مےں اضافے کی مذمت کرتے ہےں۔ مولانا امجد خان سے نے کہا کہ حکومت اپنا فیصلہ واپس لے کر عوام کو سہولتوں کی فراہمی کے لئے اقدامات کرے جبکہ جے یو آئی کے جنرل سیکرٹری مولانا عبدالغفور حیدری، مولانا یوسف، قاری شیر افضل، مولانا امجد و دیگر رہنماﺅں نے اپنے ردعمل مےں قیمتوں مےں اضافے کو عوام پر مہنگائی بم گرانے کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ حکومتی فیصلہ آئی ایم ایف کی پالیسیوں کا تسلسل ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما و قائمہ کمیٹی برائے صحت کے چیئرمین ڈاکٹر ندیم احسان نے مسلم ٹاﺅن پارٹی آفس مےں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے بجلی کی قیمتوں مےں اضافے پر ہمیں اعتماد مےں نہیں لیا۔ پی ڈی پی کے سربراہ نوابزادہ منصور نواز گوندل، پی ڈی ایف کے سیکرٹری جنرل قاضی عبدالقدیر خاموش، عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما احسان وائیں، جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ، ڈاکٹر فرید پراچہ و دیگر نے کہا کہ حکومت مستعفی ہو جائے، عوام بجلی کے بل ادا نہ کریں اور سڑکوں پر نکل آئیں۔ حالیہ اضافہ آئی ایم ایف کے دباﺅ کے تحت کیا گیا۔ الائنس آف مارکیٹ ایسوسی ایشنز کراچی کے چیئرمین عتیق میر نے کہا کہ تباہ حال صنعت و تجارت بجلی کے نرخوں مےں مزید اضافے کی متحمل نہیں ہوسکتی، مہنگائی مزید 10تا 15فیصد بڑھ جائے گی۔ علاوہ ازیں مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے امیر پروفیسر ساجد میر اور ناظم اعلیٰ حافظ عبدالکریم نے کہا ہے کہ مہنگائی کی ماری عوام پر بجلی گرا کر حکومت نے غریب دشمنی کی انتہا کر دی۔ توانائی بحران پر قابو پانے کیلئے کالاباغ ڈیم کی تعمیر کا منصوبہ بحال کیا جائے۔جب کہ نوائے وقت سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما سینیٹر راجہ ظفرالحق نے کہاکہ بجلی کی قیمت میں مزید اضافہ عام آدمی کی زندگی کو تباہ کرنے کا اقدام ہے۔ آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن حکومت اور عوام کے درمیان نفرت کی ایک دیوار کھڑی کر دیتی ہے۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions