اسلام آباد (ثناءنیوز) پاکستان میں برطانیہ کے ہائی کمشنر ایڈم تھامسن نے اس تاثر کو غلط قرار دیا ہے کہ برطانیہ پاکستان کو دہشت گردی کا گڑھ یا مرکز سمجھتا ہے۔ کشمیر برصغیر کا ایک انتہائی اہم مسئلہ ہے۔ پاکستان اور بھارت کو کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق یہ مسئلہ حل کرنا چاہئے۔ برطانیہ اس مسئلے کو حل کرنے کےلئے اپنے طور پر کوئی کردار ادا نہیں کر سکتا کیونکہ پاکستان اور بھارت آزاد ممالک ہیں اور برطانیہ امپائر نہیں ہے۔ ایک انٹرویو میں ایڈم تھامسن نے کہا کہ پاکستان کے اندر چند گروپ دہشت گردی کر رہے ہیں۔ دہشت گردی پاکستان کے لئے ایک بڑا اور حقیقی مسئلہ ہے۔ پاکستان کے عوام اور حکومت کو یہ مسئلہ کو حل کرنا ہو گا تاہم عالمی برادری اور خود برطانیہ بھی اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے پاکستان کی مدد کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کا فرض ہے کہ اس حوالے سے پاکستان کی بھرپور حمایت کی جائے۔ ایک سوال پر انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ افغانستان اور عراق میں جنگ کی وجہ سے پاکستان کے عوام کی نظر میں برطانیہ کے تصور کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے دور میں اس امیج کو بہتر بنانے کےلئے کام کریں گے اور انہیں یقین ہے کہ یہ تصور بہتر ہوگا۔ پاکستانی طلبہ کو ویزوں کے اجرا میں تاخیر اور جن طلبہ کا مالی نقصان ہوا ہے ان کے بارے میں ایک سوال پر ایڈم تھامسن نے کہا کہ انہیں اس بات پر افسوس ہے کہ پاکستان کے طلبہ کے ویزوں کے اجرا میں تاخیر ہوئی ہے تاہم انہوں نے اس تاثر کی تردید کی کہ اس سے ہزاروں طالبعلم متاثر ہوئے ہیں۔
Post New Comment