لاہور (خبرنگار خصوصی) وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور وزیراعلیٰ شہباز شریف کے درمیان ہونے والی ٹیلی فونک کال میں آئینی پیکج کو حتمی شکل دینے سمیت بعض اہم حکومتی اور سیاسی ایشوز پر تبادلہ خیال ہوا اور اس امر پر اتفاق ہوا کہ آئینی پیکج پر عملدرآمد کے ذریعے 1973ءکا آئین بحال ہوگا اور ملک میں سیاسی و جمہوری استحکام کے قیام میں مدد ملے گی۔ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے درمیان ہونے والی بات چیت میں کہا گیا کہ حکومتوں کو عوام کے مینڈیٹ کے مطابق نتائج فراہم کرنا ہوں گے۔ متعدد حکومتی اقدامات پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ معلوم ہوا ہے کہ وزیراعلیٰ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ جب تک ہم حکومتوں کو عوام کی زندگیوں میں اطمینان کا ذریعہ نہیں بنائیں گے ملک میں استحکام قائم نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے پنجاب میں عوام کو ریلیف دینے کےلئے متعدد اقدامات اور اصلاحات سے وزیراعظم کو آگاہ کیا اور کہا کہ میں یہ نہیں کہتا کہ ہم نے عوام تک جمہوریت کے تمام تر ثمرات پہنچا دیئے ہیں لیکن میں یہ بات پورے اعتماد اور فخر سے کرتا اور کہتا ہوں کہ حکومت پنجاب کی پالیسیوں اور اقدامات کا محور عام آدمی کی بہتری عدل و انصاف کی فراہمی اور صوبہ میں امن کا قیام ہے تاکہ عوام کو تبدیلی کا واضح احساس ہو جس پر وزیراعظم نے پنجاب حکومت کی کارکردگی اور وزیراعلیٰ کے اقدامات کو سراہتے ہوئے انہیں وفاقی حکومت کی جانب سے مفادعامہ کے منصوبوں سے آگاہ کیا۔ حکومتی ذمہ دار ذرائع نے اس امر کی تردید کی کہ وزیراعظم نے پنجاب پیپلزپارٹی کے عہدیداران کے تحفظات سے وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جانے کیوں ایسی باتیں کر کے کچھ عناصر غلط فہمیاں پیدا کر رہے ہیں۔ ذرائع نے اس امر کی بھی تردید کی کہ وزیراعظم نے پنجاب میں پیپلزپارٹی کےلئے کسی نوکریوں کے کوٹہ کی بات کی۔ دوسری جانب پنجاب حکومت کے ذمہ دار ذرائع کا کہنا ہے کہ نوکریوں کے حوالے سے ہماری پالیسی طے ہے اور اس حوالے سے میرٹ اور اہلیت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ وزیراعلیٰ شہباز شریف سے مذکورہ بات چیت کے حوالے سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور ہمارے درمیان رابطہ ہمیشہ سسٹم کے استحکام جمہوریت کی مضبوطی اور اچھی ورکنگ ریلیشن شپ کےلئے ہوتا ہے۔ شکوہ شکایات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ےہ کسی کی ذہنی اختراع ہوگی۔
Post New Comment