وانا/ میر علی (ریڈیو نیوز+ اے این این+ جی این آئی) جنوبی وزیرستان میں جیٹ طیاروں کی مشتبہ ٹھکانوں پر بمباری سے 10 شدت پسند جاں بحق ہو گئے، شمالی وزیرستان میں نامعلوم افراد نے حملہ کرکے مقامی طالبان کمانڈر مولوی نور محمد کو قتل کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق سکیورٹی فورسز کے جیٹ طیاروں نے جنوبی وزیرستان کے علاوں ستھانہ، شکاری سر اور بٹ نمر میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، شدت پسندوں کے کئی ٹھکانے تباہ ہو گئے۔ تحصیل لدھا کے علاقے برغہ میں سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر نامعلوم شرپسندوں نے دو راکٹ فائر کےے جس سے دو سکیورٹی اہلکار زخمی ہو گئے۔ فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے نے انٹیلی جنس اہلکاروں اور طالبان ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ مولوی نور محمد کو ایجنسی ہیڈکوارٹر میران شاہ کے قریب گھات لگا کر حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں مولوی نور محمد کے ہاتھوں حال ہی میں تشدد کے بعد قتل ہونے والے ایک شخص کے رشتے دار ملوث ہیں۔ مولوی نور محمد کا تعلق تحریک طالبان حافظ گل بہادر گروپ سے تھا اور ان کی قیادت میں 400 جنگجو افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج پر حملوں میں ملوث تھے۔ ہنگو میں جمعے کو ہونے والے خودکش حملے کے بعد مشتبہ افراد کے خلاف کریک ڈاﺅن جاری ہے۔ سرچ آپریشن کے دوران 20 مشتبہ افراد کو گرفتار کرکے بھاری اسلحہ برآمد کرلیا گیا۔ مہمند ایجنسی کی تحصیل لکڑو میں شدت پسندوں کے مشتبہ ٹھکانوں پر گن شپ ہیلی کاپٹروں سے شیلنگ کی گئی، کارروائی میں ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔ مہمند ایجنسی کی تحصیل صافی میں مختلف گھروں پر گولے گرنے سے دو خواتین سمیت پانچ افراد زخمی ہوگئے۔ زیارت میں مبینہ طور پر سکیورٹی فورسز کی گولی لگنے سے زخمی لڑکا جاں بحق ہوگیا۔ باڑہ میں سکیورٹی فورسز نے دو طاقتور ریمورٹ کنٹرول بموں کو ناکارہ بنا دیا۔ پریشر ککر میں نصب بم نالہ کھجوری جبکہ سی این جی سلنڈر میں نصب بارود ڈوگرہ کے قریب رکھے گئے تھے۔ جی این آئی کے مطابق مولوی نور محمد کو اس کے قریبی رشتہ دار نے انتقام لینے کے لئے خفیہ اداروں کے ذریعے قتل کرایا۔
Post New Comment