تازہ ترین:

پاکستان کیلئے جمہوریت‘ جہاد‘ جوہری صلاحیت ضروری ہیں ۔۔۔ حمید نظامی کی برسی پر تقریب سے مقررین کا خطاب

ـ 8 مارچ ، 2010
  • Adjust Font Size
پاکستان کیلئے جمہوریت‘ جہاد‘ جوہری صلاحیت ضروری ہیں ۔۔۔ حمید نظامی کی برسی پر تقریب سے مقررین کا خطاب

لاہور (رپورٹنگ ٹیم) صرف اسلامی انقلاب ہی پوری دنیا کے مسائل حل کر سکتا ہے، پاکستان کے لئے ”3جیم“ جمہوریت، جہاد اور جوہری صلاحیت بہت ضروری ہےں، پاکستان کے حکمرانوں کو امریکہ کے بجائے پاکستانی عوام کی تائید حاصل کرنی چاہئے، نوائے وقت اپنے آغاز سے اب تک نظریہ پاکستان اور قومی مفادات کے تحفظ کے لئے جنگ لڑ رہا ہے۔ حمید نظامی مرحوم نے جس مشن کا آغاز کیا تھا مجید نظامی نے اسے مزید آگے بڑھایا ہے۔ ان خیالات کا اظہار حمید نظامی میموریل سوسائٹی کے زیر اہتمام الحمرا ہال مےں یوم حمید نظامی کی تقریب مےں اہم قومی شخصیات نے کیا۔ تقریب کی صدارت حمید نظامی مرحوم کے خاص دوست کرنل (ر) سید امجد حسین نے کی۔ قاضی حسین احمد سابق امیر جماعت اسلامی مہمان خصوصی تھے۔ خطاب کرنے والی شخصیات مےں عمران خان، سید غوث علی شاہ، جنرل (ر) حمید گل، سرتاج عزیز، خواجہ سعد رفیق، سجادہ نشین چورہ شریف پیر سید محمد کبیر علی شاہ، خوشنود علی خان، بشریٰ رحمن شامل تھے۔ نظامت کے فرائض معروف کالم نگار ڈاکٹر محمد اجمل نیازی نے ادا کئے۔ تقریب کا باقاعدہ آغاز زینت القراءقاری غلام رسول کی تلاوت سے ہوا جبکہ ہدیہ نعت حافظ مرغوب احمد ہمدانی نے پیش کیا۔ اس کے بعد قومی ترانہ بجایا گیا جس کے احترام میں ہال کے شرکاءکھڑے ہوگئے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے کہا کہ ہمارا بنیادی مسئلہ یہاں پر امریکی غلبہ ہے اور اختیارات ان کے ایجنٹوں کے ہاتھ میں ہیں۔ وزیرستان‘ باجوڑ اور دیگر قبائلی علاقوں میں قتل و غارت گری دراصل امریکی خوشی کیلئے ہے۔ ہم امریکی اتحادی بن کر اپنے ہی گھروں کو تباہ کررہے ہیں۔ اس صورتحال سے نجات کیلئے ضروری ہے کہ ہم خود کو اپنے قومی مقاصد سے ہم آہنگ کریں اور اپنے مفادات یقینی بنائیں۔ انہوں نے حمید نظامی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اور ان کے اخبار نے ہمیشہ اپنی پالیسی کو قومی مفادات کے تحفظ سے مشروط رکھا خصوصاً مجید نظامی کا کردار آج ہمارے سامنے ہے جنہوں نے اپنی صحافت اور اپنے کردار کو مسئلہ کشمیر‘ پاکستان کی نیوکلیئر طاقت اور اقبالؒ اور قائداعظمؒ کے نظریات کے ساتھ دو قومی نظریہ کے تحفظ سے مشروط کررکھا ہے۔ نوائے وقت اور ان کی جانب سے قومی مقاصد کی پاسبانی کا سلسلہ جاری ہے۔ قاضی حسین احمد نے کہا کہ نوائے وقت کا ہمیشہ سے نکتہ نظر ہے کہ بدترین جمہوریت بہترین آمریت سے بہتر ہے۔ بدترین جمہوریت میں بھی عوام کی تمناﺅں اور آرزوﺅں کے مطابق حکومت چلا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں جب ذکر خدا یا ذکر رسول ہو تو ہر طرح کی بدنظمی اور انتشار کا خاتمہ ہوجاتا ہے لہٰذا یہ کہنا درست نہیں کہ کس کا اسلام اور کیسا اسلام‘ یہ قیام پاکستان کے بعد ہمارے مختلف مکاتب فکر کے 31 علماء22 نکات کی قرارداد مقاصد میں طے کرچکے ہیں۔ بدقسمتی سے ہماری نیت درست نہ تھی۔ اگر ہم قرارداد مقاصد پر عمل پیرا ہوتے تو ملک اپنی منزل پر پہنچ سکتا تھا۔ اگر ہم نظام مصطفی کو اپنا مرکز و محور بناتے تو یہاں آمریتیں مسلط نہ ہوتیں اور ملک نہ ٹوٹتا۔ بار بار کی مداخلتوں سے لوگ مایوس ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اسلام کے نفاذ کے ساتھ ایک فلاحی مملکت کیلئے بنایا گیا لیکن پاکستان کے عوام کو پاکستان کے ثمرات نہ ملے اور لوگ یہاں سے دولت لوٹ کر بیرون ملک لے گئے۔ یورپی ممالک جہاں چھ ماہ تک برف رہتی ہے وہاں لوگ زیادہ ترقی یافتہ ہیں۔ وہ ہم سے زیادہ زرخیز نہیں‘ ہمارے ہاں بارہ ماہ کاشت ہوتی ہے لیکن وسائل کی غلط تقسیم نے ہمیں غربت‘ جہالت اور افلاس سے ہمکنار کررکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کو واقعتاً جمہوری ملک بنایا ہوتا تو پاکستان نہ ٹوٹتا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں چھوٹے موٹے اختلافات سے بالاتر ہو کر ایک قوم کے طور پر سوچنا اور آگے بڑھنا چاہئے۔ نعرہ رسالت کے جواب میں اگر کوئی یا رسول اللہ نہیں کہتا تو محمد رسول اللہ تو کہا جاسکتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ باجوڑ پر قابو پالیا گیا ہے حقیقت یہ ہے کہ وہاں ہمارے سابق رکن قومی اسمبلی ہارون الرشید کے گھر کو ٹارگٹ کیا گیا اور ان کی والدہ کو شہید کردیا گیا‘ بھائی کو گرفتار کیا گیا۔ بدقسمتی سے شہید ہونیوالوں کو شہید کہنے سے بھی گریز کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ قتل و غارت گری کرکے یہاں امن و امان قائم کرلیا گیا ہے تو یہ درست نہیں‘ یہ سب کچھ امریکہ کی خوشی کیلئے ہے۔ قاضی حسین احمد نے مجید نظامی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ کشمیر کے مسئلے پر قومی موقف کے ترجمان ہیں اور کشمیریوں کے حق خودارادیت کیلئے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دفاعی حوالہ سے یہ ایٹمی طاقت کو ناگزیر سمجھتے ہیں۔ دو قومی نظریہ اور قائدؒ اور اقبالؒ کے خیالات سے وابستگی پر انہیں جتنا خراج تحسین پیش کیا جائے کم ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا کہ امریکی غلامی سے قوم کبھی کھڑی نہیں ہوسکتی۔ پاکستان کو دنیا میں باوقار مقام دلانے کیلئے ضروری ہے کہ قوم خودداری اور عزت نفس کی پاسداری کرتے ہوئے امریکہ کے سامنے کھڑی ہوجائے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اسلام اور جدید تعلیم کی سمجھ ہونی چاہئے۔ جو قوم اپنا نظریہ کھو دیتی ہے اپنا راستہ کھو دیتی ہے، نظرئیے کے بغیر قوم مر جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی حاصل کرنے کے بعد ہم اپنے تعلیمی نظام کے تحت پاکستانیت پیدا نہیں کرسکے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں تین نصاب لاگو کئے گئے جس نے پاکستان کو بہت نقصان پہنچایا۔ انگریزی نظام تعلیم نے لوگوں میں احساس کمتری پیدا کیا اور پاکستانیت ختم کردی۔ انگریزی تعلیم حاصل کرنیوالوں کی کثیر تعداد مغربی ذہنیت کی غلام بن جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب میں چھوٹا تھا تو اپنے گھر میں حمید نظامی مرحوم کا بہت ذکر سنا۔ میرے والد اور حمید نظامی آپس میں دوست تھے۔ میرے والد حمید نظامی کے کردار اور جدوجہد کے حوالے سے ہمیں بہت کچھ بتاتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک مجید نظامی کا تعلق ہے وہ نظرئیے کا جہاد کررہے ہیں، اس جہاد کی ملک کو ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ علامہ اقبالؒ کو میں نے بہت دیر سے سمجھا۔ میری سوچی سمجھی رائے ہے کہ ہم اپنے بچوں کو اقبالؒ ہی پڑھا دیں تو وہ پاکستان کا نظریہ سمجھ جائیں گے۔ ممتاز مسلم لیگی رہنما اور سابق وزیراعلیٰ سندھ سید غوث علی شاہ نے حمید نظامی کو ایک عظیم شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ شخص وہ تھا جس نے خود تاریخ رقم کی اور قائداعظمؒ کی ہدایت پر نئی نسل کو تحریک پاکستان میں منظم کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔ وہ قائداعظمؒ کے ہراول دستے میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ حمید نظامی اس حوالہ سے خوش قسمت تھے کہ انہیں مجید نظامی جیسا بھائی ملا جس نے ان کے مشن کی تکمیل کا بیڑہ اٹھایا اور آج تک اس پر گامزن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا قیام ”پاکستان کا مطلب کیا‘ لا الہ الا اللہ“ کے نعرے پر بنا۔ قائداعظمؒ سے پوچھا گیا کہ آئین کیسا ہوگا؟ تو قائداعظمؒ نے کہا کہ یہ فیصلہ 1400 سال پہلے ہوچکا ہے۔ ہم ایسی ریاست چاہتے ہیں جو اسلام کی تجربہ گاہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے قیام پاکستان کے بعد یہاں آمریتیں مسلط کی جاتی رہیں۔ یہ اعزاز حمید نظامی کو حاصل تھا کہ وہ ان آمریتوں کے سامنے سرنڈر کرنے کی بجائے ٹکرا گئے اور تاریخ بتاتی ہے کہ جو ٹکرا جاتے ہیں‘ تاریخ میں ان کا نام رقم کیا جاتا ہے۔ حمید نظامی کا موقف واضح تھا کہ آمریتیں ملک و قوم کیلئے اچھی نہیں اور انہوں نے تحریر و تقریر کے ذریعے ان کا مقابلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایوب دور میں بی ڈی سسٹم کے تحت اپنے سیاسی مقاصد کی تکمیل کی کوشش ہوئی اور رشوت اور کرپشن کے ذریعے ایک ڈکٹیٹر نے ملک پر مسلط ہونے کی کوشش کی تو مادر ملت میدان میں نکلیں۔ قوم مادر ملت کے ساتھ تھی لیکن 80 ہزار(بی ڈی ممبرز) ووٹرز کو لالچ اور دھونس سے خریدا گیا اور پھر اس آمر کے بعد ایک اور آمر آگیا۔ انہوں نے کہا کہ حمید نظامی کیلئے قائداعظمؒ آئیڈیل تھے۔ وہ ان کے فرمودات پر کاربند رہتے ہوئے آمروں سے ٹکراتے رہے۔ غوث علی شاہ نے کہا کہ یہ ملک پاکستان کے عوام کا ہے اور جمہوریت کیلئے بنا ہے۔ ہمارے صدر نے 30 روز کے اندر عدلیہ کی آزادی اور ججز کی بحالی کا وعدہ کیا لیکن جب 30 ماہ گزر گئے تو عوام سڑکوں پر نکلے۔ لانگ مارچ ہوا اور پھر عدلیہ بھی آزاد ہوئی اور ججز بھی بحال ہوئے۔ نوازشریف کو ڈرایا دھمکایا گیا کہ باہر نکلے تو کچھ بھی ہوسکتا ہے لیکن نوازشریف سول سوسائٹی اور عوام کی مدد سے باہر نکلے اور فتح یاب ہوئے ۔ اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ جمہوریت کیلئے آزاد عدلیہ بہت ضروری ہے۔ بدقسمتی سے ماضی میں جنرل پرویز مشرف کے دور میں اس وقت کی عدلیہ ان کی مرضی سے چلتی رہی اور انہیں آئین میں ترمیم تک کا حق دیدیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے سے پرہیز کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ میں چیلنج سے کہتا ہوں کہ اگر اب پاکستان کے اندر کسی آمر نے طاقت کے زور پر مسلط ہونے کی کوشش کی تو یہی عدلیہ اس کا راستہ روکے گی۔ اس کے راستے کی دیوار ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف قائداعظمؒ کی کرسی پر بیٹھا ہے۔ قائداعظمؒ کی جماعت کو سنبھال رہا ہے۔ اسے ٹارگٹ کرنے کا جواز نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ وہ صوبہ ہے جس کی اسمبلی نے سب سے پہلے نہ صرف پاکستان کے حق میں ووٹ دیا بلکہ پاکستان کی تعمیر و ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے یہاں عوام کی رائے کو اہمیت نہیں دی جاتی رہی جس کی وجہ سے یہاں آمر مسلط ہوتے رہے۔ اگر عوام کی تائید حاصل ہونے پر مجیب الرحمن کو وزیراعظم بنا دیا جاتا تو کیا ہوجاتا‘ لیکن آمرانہ ذہنیت نے ملک کو دو ٹکڑے کردیا۔ ہم حمید نظامی اور مجید نظامی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے دو قومی نظریہ کا تحفظ کیا اور آج اس طاقت کی بناءپر پاکستان قائم و دائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری بقاءو سلامتی اور ترقی و خوشحالی کا دارومدار ایک قوم بننے اور قوم کی حیثیت سے آگے بڑھنے میں ہے۔آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ر) حمید گل نے کہا کہ کچھ لوگ زندہ رہنے کے لئے دنیا میں آتے ہیں۔ حمید نظامی چلے گئے مگر مجید نظامی موجود ہیں۔ نوائے وقت ایک ادارہ ہے جو نظریہ پاکستان اور قائداعظم و علامہ اقبال کے افکار کو لے کر چل رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مجید نظامی ،حمید نظامی کا تسلسل ہیں۔ پاکستان کے لئے مجید نظامی کا دم غنیمت ہے۔ وہ ایک چٹان ہیں‘ میں دعا کرتا ہوں کہ وہ ملک کے لئے آخری چٹان ثابت نہ ہوں۔ حمید گل نے کہا کہ مجید نظامی اور حمید نظامی کا یہ ادارہ الیکٹرانک میڈیا میں بھی قدم رکھ چکا ہے۔ انہوں نے کہاکہ دیکھنا ہے کہ آزاد عدلیہ آگے کیا کردار ادا کرتی ہے۔ آزاد میڈیا کو بہت آزادیاں ملی ہیں مگر یہ اتنا آزاد نہ ہو کہ اپنی شناخت ہی بھول جائے۔ صحافت کی جڑیں نظریہ پاکستان میں نہیں تو ایسی صحافت غلط کردار بھی ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا نے ظلم ناانصافی کرپشن کو کھل کر دکھایا مگر اثر الٹ ہوا اور یہ عجیب وغریب بات ہے۔ انہوں نے کہاکہ آزاد میڈیا معاشرے میں بڑی تبدیلی لانے میں ناکام رہا ہے۔ تبدیلی کی خواہش ضرور پیدا کی مگر تبدیلی نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ اجارہ دار اپنی قوت کو چھوڑنا نہیں چاہتے۔ انہوں نے کہاکہ تبدیلی کی اور سٹیٹس کو کی قوتوں کے درمیان جنگ جاری ہے اور سٹیٹس کو کی قوتوں کو گلوبل قوتوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔ انہوں نے کہاکہ افغانستان کو ہم بھول نہیں سکتے۔ ان سے تاریخی ثقافتی رشتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب افغانستان میں تبدیلی آتی ہے تو یہاں بھی تبدیلی آتی ہے۔ حمید گل نے کہا کہ حضرت داتا گنج بخشؒ، حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ اور حضرت شہباز قلندرؒ بھی افغانستان سے آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جغرافیے کو جب پہیے لگتے ہیں تو وہ تاریخ بن جاتی ہے۔ حمید گل نے کہا کہ پاکستان معمولی چیز نہیں اسے اپنا تاریخی کردار ادا کرنا ہے اور یہاں نیا نظام لانا ہے اور یہ مسلمانان ہند کا خواب ہے۔ انہوں نے کہا کہ شریعت نے یہاں آ کے رہنا ہے۔ نہیں رک سکتی۔ سارے نظام غرق ہو چکے ہیں انہوں نے کہاکہ ہماری جمہوریت مغرب سے مختلف ہوگی بائبل قانون کی کتاب نہیں جبکہ قرآن کریم قانون کی کتاب ہے۔ انہوں نے کہاکہ مغربی استعمار افغانستان میں ڈوب رہا ہے بھارت طالبان سے بات کے لئے سعودی عرب پہنچ گیا مگر ہم الٹا افغانستان کے مستقبل کے حکمرانوں کو مار دھاڑ کر رہے ہیں۔بھارت نے کشمیر پر ہمارے ساتھ کیا کیا مگر ہم اس سے جھک جھک کر بات کرنے کے لئے مرے جا رہے ہیں۔ پھر طالبان سے کیوں بات نہیں کی جاتی۔ انہوں نے کہاکہ مجاہدین کو خفا کر کے پاکستانی حکومت افغانستان میں بھارت کے لئے راستہ ہموار کررہی ہے۔ حمید گل نے کہاکہ بھارت جتنی کوشش کرنا چاہتا ہے کر لے۔ انہوں نے کہا کہ ہم فرقہ واریت کو برا کہتے ہیں۔ جماعتی نظام بھی فرقہ واریت اور تقسیم کرتا ہے۔ لیڈر شپ اپنے مفاد کی خاطر اس قوت کے سامنے سجدہ ریز ہو جاتے ہیں جہاں سے اقتدار ملنے کی توقع ہو۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم ایسے حکمران لائیں جو عوام کی طرف منہ اور امریکہ کی طرف پیٹھ کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہی شکوہ مجھے موجودہ حکمرانوں سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں انتخاب نہیں انقلاب چاہئے اور کھل کر بات کریں کہ یہ اسلامی انقلاب ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سراسر جھوٹ ہے کہ اسلامی انقلاب سے مسائل آئیں گے۔اسلامی انقلاب ہی دنےا کے مسائل حل کر سکتا ہے۔ اب تبدیلی ہاتھوں کی بجائے پاﺅں سے لانا ہوگی۔ 15مارچ کے لانگ مارچ کو گوجرانوالہ مےں روک دیا گیا، یہ بہت بڑی سازش تھی جس کا بہت نقصان ہوا۔ مےں اس روز اسلام آباد مےں تھا وہاں یہی تبصرے ہو رہے تھے کہ اب انقلاب آنے والا ہے، تب اسلام آباد مےں گھنٹیاں بجنے لگیں کہ اسے روک دیا جائے، گوجرانوالہ مےں رکنے کا بہت نقصان ہوا، اب اسلامی انقلاب لانا ہوگا۔ خون خرابے والا انقلاب نہیں، ہم نے ایک دوسرے کا خون نہیں بہانا ہے۔ نرم (SOFT) انقلاب لانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کا دور تین نظریات کا ہے مذہب‘ قومیت اور جمہوریت‘ ہم نے ان نظریات کو نہیں چھوڑنا۔ پاکستان کے لئے تین جیم ضروری ہےں جہاد جمہوریت اور جوہری صلاحیت۔ امریکہ کا دور گذر گیا۔ اس کے سائے گر رہے ہیں۔ سابق وفاقی وزیر اور مسلم لیگی رہنما سرتاج عزیز نے کہاکہ آج اس شخصیت کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے اکٹھے ہوئے ہیں جس کو طالب علمی کے زمانہ میں قائداعظم کا قرب حاصل ہوا۔ جنہوں نے طالب علموں کو منظم کرنے کی ذمہ داری انہیں سونپی اور پھر طالب علموں نے پاکستان کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہاکہ حمید نظامی ؒ نے قوم کو غفلت سے جگانے کے لئے نوائے وقت کا اجراءکیا اور پاکستان بن جانے کے بعد حمید نظامی کی دوسری منزل آزادی¿ صحافت تھی۔ پہلے خضر حیات نے نوائے وقت کے اشتہار 32 ماہ بند رکھے مگر حمید نظامی جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق بلند کرتے رہے۔ پھر پاکستان کے قیام کے بعد ممتاز دولتانہ اور لیاقت علی خان بھی حمید نظامی کی حق گوئی پر ان سے ناراض رہے جس پر حمید نظامیؒ نے اس وقت کے وزیر اطلاعات خواجہ شہاب الدین کو خط لکھا کہ ’ سر تو کٹا سکتے ہیں مگر سر جھکانے پر تیار نہیں ہیں۔ اس کے بعد نوائے وقت کے اشتہارات بند کردئیے گئے۔ 1951ءمیں نوائے وقت بند کر دیاگیا جس پر حمید نظامی نے روزنامہ جہاد نکالا جو چند دن بعد بند کر دیا گیا جس کے بعد نوائے پاکستان نکالا گیا۔ وزیراعظم خواجہ ناظم الدین نے ایڈیٹروں کو بلایا تو خواجہ ناظم الدین کے سامنے اپنا تعارف کراتے ہوئے حمید نظامی نے کہا میرا نام حمید نظامی ہے، اس وقت میرے اخبار کا نام نوائے پاکستان ہے، اگلے ہفتے کیا ہوگا مےں نہیں جانتا۔ انہوں نے کہا کہ آج حمید نظامیؒ کی روح یہاں موجود ہوگی اور اسے یقیناً خوشی ہوگی کہ آزادی صحافت کے لئے جو جہاد شروع کیا تھا وہ اتنا آگے بڑھ چکا ہے کہ کوئی بھی حکمران اب اخبارات، ٹی وی کو بند نہیں کر سکتا اور دوسری خوشی حمید نظامیؒ کو یہ ہوگی کہ انہوں نے اس ملک کی اسلامی و نظریاتی سرحدوں کے لئے جو جہاد شروع کیا تھا ان کے چھوٹے بھائی نے اسے مزید آگے بڑھایا ہے۔کرنل (ر) امجد حسین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علامہ اقبالؒ جب لندن میں مقیم تھے وہاں انہیں اپنے فرزند ڈاکٹر جاوید اقبال کا خط ملا جس پر انہوں نے نظم لکھی۔ وہ نظم ایک نصیحت نامہ تھا جو امت مسلمہ کے تمام نوجوانوں کیلئے تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ
دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کر
نیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کر
مےرا طریق امیری نہیں فقیری ہے
خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر
انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے دور نوجوانی میں صرف ایک نوجوان کو علامہ صاحب کی نصیحت کو پورا کرتے دیکھا ہے اور وہ میرا جگری دوست اور مخلص رفیق حمید نظامی تھا جس کی یاد میں یہ خصوصی تقریب منعقد کی جا رہی ہے۔ انہوں نے 48 برس کی عمر میں جہاد پاکستان میں اپنا نام پیدا کیا۔ اس نے اپنی خودی کا سودا نہیں کیا بلکہ غریبی میں نام پیدا کیا۔ انہوں نے کہا کہ میری حمید نظامی سے پہلی ملاقات ستمبر 1934ءمیں ہوئی اور انہوں نے 1962ءمیں داغ مفارقت دیا۔ وہ دنیا سے چلے گئے مگر ہم سے جدا نہیں ہوئے۔ بقول حکیم الامت مرنیوالے مرتے ہیں لیکن درحقیقت وہ ہم سے جدا ہوتے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ اس ہال میں بھی حمید نظامی مرحوم کی روح ہمارا مشاہدہ کررہی ہے۔ کرنل (ر) امجد حسین نے کہا کہ پنجاب میں اس وقت پولیٹیکل لوڈشیڈنگ تھی اور ہمارے لئے روشنی کے دو مینار تھے ایک علامہ اقبالؒ اور دوسرے مولانا ظفر علی خانؒ۔ انہوں نے کہا کہ مولانا ظفر علی خانؒ اور علامہ اقبالؒ نے اپنی شاعری کے ذریعے مسلمانان ہند میں شعور پیدا کیا۔ انہوں نے کہا کہ حمید نظامی اور میں علامہ اقبالؒ کو اپنا مرشد سمجھتے تھے۔ ہم علامہ اقبالؒ کے پاس گئے اور کہا کہ ہم مایوس ہیں‘ آپ اس کا ”دارُو“ بتائیں‘ ہر طرف گاندھی‘ نہرو کے چرچے ہیں۔ جس پر علامہ اقبالؒ نے فرمایا کہ میں صرف ”دارو“ دے سکتا ہوں‘ اور باہر بیٹھ کر داو¿ بتا سکتا ہوں۔ کھاڑے کا اصلی پہلوان محمد علی جناح ہیں لہٰذا ان کی پیروی کرو۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اور حمید نظامی کو قائداعظمؒ کو کالج میں بلانے کی استدعا کرنے پر انتظامیہ کی طرف سے دہشت گرد قرار دیدیا گیا تھا اور نام کالج سے خارج کر دیا گیا۔ کرنل (ر) امجد حسین نے کہا کہ ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ مجید نظامی نے اس عہد کو پورا کیا اور نوائے وقت اب دشمن کیلئے ایٹم بم ہے۔ اس نے کلمہ حق بلند کیا ہے۔ مجید نظامی ایک نڈر آدمی اور قائد و اقبال کا صحیح جانشین ہے۔ دعا ہے اللہ تعالیٰ مجید نظامی کو صحت کاملہ دے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے مجید نظامی کو خاص مشن دیا ہے جس کی تکمیل کیلئے وہ دن رات ایک کئے ہوئے ہیں اور ابھی تک مجید نظامی کے علاوہ کسی نے نظریہ پاکستان کا عَلم بلند نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ نئے لیڈر آتے جاتے ہیں ابدی چیز شخصیت ہے اور وہ قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ ہیں۔ یہ دو ملک ولی اللہ نے بنایا ہے اور بقول مولانا ظفر علی خانؒ....ع
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائیگا
مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ مسلم لیگ کی قیادت نے فرینڈلی اپوزیشن کے طعنے بھی بہت سن لئے ہیں اور بڑے صبر سے دو سال صدر مملکت آصف علی زرداری کے خطاب بھی سنے ہیں مگر اس مرتبہ اگر انہوں نے پارلیمنٹ سے خطاب کرنا ہے تو پہلے آئینی اصلاحات کے پیکج کا اعلان کریں بصورت دیگر اگر پارلیمنٹ کو بالادست کئے بغیر خطاب کیا تو بدمزگی ہو گی اور ایوان صدر بھی اب اس میں رکاوٹیں نہ ڈالے کیونکہ ہم بڑی سنجیدگی سے کہہ رہے ہیں ہم 80ءکی دہائی میں نہیں جانا چاہتے کہ دوبارہ دو بڑی پارٹیوں میں ٹکراﺅ ہو۔ دوسری طرف میں دوبارہ برملا اظہار کرنا چاہتا ہوں کہ ہم جمہوریت کو پٹڑی سے اتارنے کی کسی مہم جوئی کا حصہ نہیں بنیں گے۔ اگر دیکھا جائے تو مڈٹرم الیکشن سے مسلم لیگ ن کو بہت جلد اقتدار مل سکتا ہے مگر اس کے ساتھ بہت سے سوالیہ نشان ہیں۔ صرف اقتدار ہماری منزل نہیں کیونکہ اب وقت آ گیا ہے کہ پرو اسٹیبلشمنٹ سیاست کا خاتمہ ہونا چاہئے۔ اب بھی بعض قوتیں جمہوریت پر فوجی ایڈونچر یا صدارتی اےڈونچرز کے ذریعے نقب لگانا چاہتی ہیں مگر ہم آلہ کار نہیں بنیں گے۔ جمہوریت کو مضبوط کریں گے کیونکہ کسی کو لانے یا بھیجنے کا اختیار صرف عوام کو ہی حاصل ہونا چاہئے۔ آصف علی زرداری اور ایوان صدر بحران پیدا کرتے ہیں اور وزیراعظم پاکستان جو شریف انسان ہیں، وہ بحرانوں کو حل کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ یہ کھیل اب بند ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ میں حمید نظامی کی یاد میں تقریب میں بلوائے جانے پر نوائے وقت گروپ کا شکرگزار ہوں۔ حمید نظامی مرحوم اقبال کے وہ شاہین تھے جنہوں نے پہاڑوں کی چٹانوں پر اپنا بسیرا کیا۔ پنجاب میں جب قائداعظمؒ کی قیادت میں ایم ایس ایف کی بنیاد رکھی گئی تو پاکستان کی تحریک سرگرم ہو گئی۔ نوائے وقت بلاشبہ ایک اخبار نہیں بلکہ ایک سوچ اور ایک تحریک کا نام ہے اور میں اس بڑے مینار کی روشنی سے اپنے لئے اصلاح بھی تلاش کرتا رہتا ہوں۔ مسلم لیگ جو کہ اب بہت سے گروپس میں تقسیم ہو چکی ہے مگر نوائے وقت کو جب بھی موقع ملتا ہے اور وہ یہ دیکھتا ہے کہ ہم پٹڑی سے اتر رہے ہیں تو ہماری اصلاح کرتا ہے اور ایسے ادارہ کا وجود ہمارے لئے غنیمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کو کوئی ایک سیاسی پارٹی نہیں بحران سے نکال سکتی، مختلف بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان جو خلیج ہے اسے ختم کرنا چاہئے۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ الیکٹرانک میڈیا کو پرنٹ میڈیا سے بعض معاملات پر اپنی اصلاح کرنا چاہئے۔روز نامہ جناح کے ایڈیٹر انچیف اور سی پی این ای کے صدر خوشنود علی خان نے کہا سب سے پہلے تو میں سب کیلئے دعاگو ہوں کہ ہر کسی کو حمید نظامی جیسا بھائی ملے۔ میں خوش نصیب ہوں کہ مجھے صحافتی زندگی میں مجید نظامی کی قربت ملی۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں بھی بدقسمتی سے اڑھائی فیصد برہمن ہیں اور باقی سب شودر ہیں۔ تھانوں میں جو توہین آمیز سلوک ہو رہا ہے یہ بھی اسی علاقے کے ایک ایم پی اے کا کیا دھرا ہے۔ ہم نے کیوں ایسے لوگوں کو اقتدار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں سو فیصد مجید نظامی کی سوچ سے متفق ہوں کہ بھارت نے پاکستان کے حصہ کا پانی روک کر جو ڈیم بنائے ہیں انہیں اڑا دینا چاہئے مگر ہم نے اپنے ہیرو ڈاکٹر عبدالقدیر کو ملک میں ہی تماشہ بنا دیا ہے۔ انہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ نقل و حرکت کرنے پر بھی پابندی ہے۔ دوسری طرف امریکہ طالبان سے بات کرے تو وہ جائز ہے مگر پاکستان اگر طالبان سے ملک میں امن و امان کے لئے بات کرے تو شور مچ جاتا ہے حالانکہ فاٹا والے ہمارے سے زیادہ اسلام پسند اور غیرت والے ہیں۔ انہوں نے امریکہ میں سکریننگ سے انکار کر دیا اور وطن واپس آ گئے۔ بشریٰ رحمن نے کہا کہ پاکستان کی ترقی کے لئے ہر اخبار کے ایڈیٹر‘ اخبار والوں کو اسی طرح اپنا حصہ ڈالنا چاہئے جس طرح حمید نظامی اور مجید نظامی نے پاکستان کے قیام اور پاکستان کی ترقی‘ استحکام کے لئے اپنا اپنا حصہ ڈالا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں جب راتوں رات قوم کی تقدیر بدلتی ہے تو ٹیلی ویژن پر رات گئے تصویر اور صبح اخبار میں تحریر بدل جاتی ہے۔ انہوں نے کہا ”نظامی“ اسے کہتے ہیں جو نظام بدلنے پر قدرت رکھتا ہو۔ انہوں نے کہا اس ملک میں آسان ترین کام تنقید ہے تنقید ضرور ہو مگر کچھ تائید بھی کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے جو قرضے حاصل کئے ہیں وہ باعث ذلت اور ملک کی ترقی کی راہ میں حائل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے اکابرین نے ہماری آزادی کو زنجیریں پہنا دی ہیں۔ ہم زرعی اصلاحات کریں گے تو ہماری معیشت آزاد ہو گی۔ ہمیں اقبالؒ کے اشعار، قائدؒ کے افکار اور حمید نظامیؒ کے کلام کے مطابق خود کفیل پاکستان بنانا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ آج صبح کا آغاز حمید نظامی کے نام نامی سے ہوا ہے۔ ہم سب حمید نظامی اور مجید نظامی کے پیروکار اور ان سے راہنمائی حاصل کرنیوالے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس دنیا میں اکثریت ان لوگوں کی ہوتی ہے جو زندگی صرف کھانے پینے عیش کرنے میں گزر کرتے ہیں لیکن انہی افراد میں کچھ افراد ہمیشہ زندہ رہنے کے لئے دنیا میں آتے ہیں۔ علامہ اقبالؒ، قائداعظمؒ ، حمید نظامی وہ لوگ ہیں جو اس دنیا میں ہمیشہ زندہ رہنے کے لئے آئے ۔ یہ مر نہیں سکتے کہ ان کے کام ہمیشہ زندہ رہیں گے اور یہ ہمیشہ ہمارے درمیان زندہ رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان شخصیات کا شمار اولیاءاور صوفیاءمیں ہوتا ہے کہ انہوں نے ہمارے دل اور ضمیر کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حمید نظامی اور ان کے ساتھی طلبہ قائداعظم کے ساتھ نہ ہوتے تو آج یہ پاکستان نہ ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ قلم ‘ لکھے ہوئے الفاظ‘ بولے ہوئے الفاظ سب کی عصمت ہوتی ہے۔ بشریٰ رحمن نے کہا کہ جب ہلیری کلنٹن نے کہا کہ پاکستان میں سب ٹیکس دیں تو قرضہ لینے کی ضرورت نہ رہے تو بے حد شرم آئی۔ انہوں نے کہا کہ ہم صرف ٹیکس ادا کر کے اس ملک کو خود کفیل بنا سکتے اور قرضوں سے نجات دلا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک کے قیام کے بعد ملک چلانے کے لئے ماﺅں‘ بہنوں بچوں نے اپنے زیورات‘ جمع پونجی قائداعظم کے حوالے کر دی تھی۔ اگر آج بھی کوئی باکردار شخص سامنے کھڑا ہو تو لوگ اپنے گھر کے تمام اثاثے لا کر اسے دے سکتے ہیں مگر یہاں تو 16 کروڑ عوام 70 روپے کلو چینی کی خریداری کیلئے قطاروں میں لگے اور 2 روپے کی روٹی کے حصول کیلئے مار کھا رہے ہیں۔ سجادہ نشین چورہ شریف پیر سید محمد کبیر علی شاہ نے کہا کہ حمید نظامی مرحوم اقبالؒ کے مرد مومن ہیں جنہوں نے پاکستان بنانے کی تحریک میں بھرپور حصہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ حمید نظامی پاکستان کی صحافت کے سپہ سالار ہیں جبکہ ان کے بھائی مجید نظامی نے ان کے لگائے ہوئے باغ نوائے وقت کی آبیاری کی۔ حمید نظامی جو راہ بنا گئے، مجید نظامی اس راہ پر چلتے ہوئے آگے بڑھتے گئے اور آج نوائے وقت اور مجید نظامی پاکستان میں دو قومی نظرئیے کے محافظ ہیں۔ مجید نظامی قوم کو تیار کر رہے ہیں کہ اپنی سیاست کا قبلہ مدینہ کی طرف کر لیں۔ ہم مدینے والے کا نظام نافذ کر دیں تو پاکستان کے تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حمید نظامی اور مجید نظامی نے حضرت مجدد الف ثانی کی راہ اپنائی ہے۔ انہوں نے کبھی قلم کی آبرو کو نہیں بیچا بلکہ قلم کی آبرو سنبھال رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست دانوں کو چاہئے کہ باہر رکھی اپنی اپنی دولت پاکستان لے آئیں اس سے زکوٰة دے دیں تو اگلے دو سال تک یہاں کوئی زکوٰة لینے والا نہیں ملے گا۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions