کراچی دھماکوں کیخلاف مختلف شہروں میں سوگ‘ احتجاج جاری‘ جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 34 ہو گئی

ـ 8 فروری ، 2010
  • Adjust Font Size

کراچی (ثنا نیوز/ آن لائن) کراچی بم دھماکوں کیخلاف کراچی‘ سکھر‘ حیدر آباد‘ ملتان سمیت متعدد شہروں میں سوگ‘ احتجاج اور ہڑتال کا سلسلہ تیسرے روز بھی جاری رہا۔ مختلف تنظیموں نے احتجاجی ریلیاں نکالیں اور مظاہرے کئے۔ شیعہ ایکشن کمیٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بم دھماکوں کی عدالتی تحقیقات کرائی جائیں۔ دریں اثناءکراچی دھماکوں میں جاں بحق ہونیوالوں کی تعداد34 ہو گئی ہے جبکہ16 مریضوں کی حالت بہتر ہونے پر انہیں گھر بھیج دیا گیا ہے۔ سیکرٹری صحت سندھ فصیح الدین خان نے میڈیا کو بتایا کہ مزید ایک نعش کی شناخت ہوئی ہے جس کے بعد جاں بحق ہونیوالوں کی مجموعی تعداد34 ہو گئی ہے۔ دریں اثناءتحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن غلام قادر تھیبو نے کہا ہے کہ بم دھماکوں کے اہم شواہد ملے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نرسری بم دھماکہ میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل کے چیسز نمبر پڑھنے کے قابل ہیں جس کی بنیاد پر تحقیقات اہم رخ اختیار کریں گی۔جناح ہسپتال میں ہونے والے بم دھماکے کے مقام کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے غلام قادر تھیبو نے کہا کہ اس بات کے امکانات ہیں کہ بم دھماکے ریموٹ کنٹرول، موبائل فون یا وائرلیس سیٹ سے کئے گئے ہیں کیونکہ پولیس کو جائے حادثہ سے وائرلیس سیٹ کا انٹینا ملاہے۔اس موقع پر تحقیقاتی ٹیم کو بتایا گیا کہ پولیس کانسےٹبل حنیف نے موٹر سائیکل پر نصب مانیٹر بم کو وہاں موجود کسی شخص کی نشاندہی پر اتار کر کچھ دیر پہلے رکھا تھا کہ بم دھماکہ ہوگیا۔ کانسٹیبل محمد حنیف کو ترقی اور نقد انعام دینے کی سفارش کی جائے گی جبکہ جناح ہسپتال میں ایمرجنسی گیٹ کے سامنے ہونے والے دھماکے کی جگہ سے ایک ناکارہ موبائل فون ملا تھا اس جگہ سے تحقیقاتی ٹیموں کو اس جگہ سے ایک سم بھی ملی ہے اب اس سم کے ذریعے موبائل فون اور سم کے مالک کو ٹریس کیا جا سکے گا۔ دریں اثناءمہاجر قومی موومنٹ پاکستان کے سیکرٹری جنرل ندیم الاسلام نے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی دھماکوں اور شہر میں سیاسی کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ سمیت مشرف دور میں رونما ہونے والے تمام سانحات کی تحقیقات کے لئے اعلیٰ عدالتی کمشن تشکیل دیا جائے۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions