فیصل آباد (نمائندہ خصوصی) سنٹرل جیل فیصل آباد میں ہونیوالی ہنگامہ آرائی میں ملوث تین سو سے زائد قیدیوں کو دوسرے شہروں کی جیلوں میں منتقل کر دیا گیا گزشتہ صبح تین بجے کے قریب شروع کیے جانے والے آپریشن میں ڈیڑھ ہزار کے قریب ایلیٹ فورس پولیس اور جیل انتظامیہ نے حصہ لیا۔ سرچ آپریشن کے دوران قیدیوں سے موبائل فون سمیت دیگر ممنوعہ اشیاءبرآمد کی گئی جن کو پولیس نے قبضہ میں لیا ہے۔ ڈی آئی جی ملک مبشر‘ ملتان کے رانا رﺅف اور ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹر سالک جلال کی سربراہی میں یہ آپریشن شروع کیا گیا قیدیوں کی طرف سے کسی بھی ممکنہ مزاحمت سے بچنے کی خاطر سخت ترین حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے اس سرچ آپریشن اور قیدیوں کو منتقل کرنے کے عمل کے دوران جھنگ ٹوبہ ملتان فیصل آباد کی ڈسٹرکٹ و برسٹل جیل کے ملازمین نے حصہ لیا اس آپریشن کے دوران سنٹرل جیل کے عملے کو شامل نہیں کیا گیا۔ علاوہ ازیں سنٹرل جیل سے قیدیوں کی منتقلی کے دوران ایک ذرائع کے مطابق مبینہ طور پر ایک لاکھ روپے سے زائد مختلف قیدیوں کی رقم کو جیل کے عملے کی طرف سے اٹھانے پر قیدیوں نے سخت احتجاج کیا جس پر جیل کے عملے نے قیدیوں پر ڈنڈے برسائے جس کے نتیجے میں دو درجن کے لگ بھگ قیدیوں کو ضربےں آئیں۔
Post New Comment