نئی دہلی (ایجنسیاں + وقت نیوز + ریڈیو نیوز) بھارت نے ایک بار پھر الزام عائد کیا ہے کہ ممبئی حملوں میں پاکستانی ریاستی عناصر ملوث ہیں، سرحد پار سے نہ صرف بھارت میں دہشت گردی کی جارہی ہے بلکہ جعلی کرنسی نوٹ بھی چھاپ کر بھارت سمگل کئے جا رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق بھارت ایک طرف پاکستان کو مذاکرات کی پیش کر رہا ہے اور دوسری طرف اسے دباﺅ میں رکھنے کے لئے الزام تراشی کا سلسلہ بھی جاری ہے یہ الزام تراشی کوئی اور نہیں خود وزیراعظم منموہن سنگھ کررہے ہیں۔ منموہن سنگھ نے کہا کہ ماﺅ نواز تحریک اور جموں و کشمیر کی آزادی کی تحریک بھارت کی سلامتی کے لئے بڑے خطرات ہیں۔ نئی دہلی میں داخلی سلامتی سے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ 2008ءاور2009 ءمیں جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے واقعات کم ہوئے لیکن دراندازی میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سرحد پار سرگرم بھارت مخالف عناصر مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردی کر رہے ہیں۔ اس پر قابو پانے کے لئے ریاستوں اور مرکز کے درمیان مربوط کوششوں کی ضرورت ہے۔ بائیں بازو کی انتہا پسند جماعتیں ملک کی داخلی سلامتی کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہیں، مرکز اور ریاستوں کو داخلی سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لئے مشترکہ کوششیں اپنانے کی ضرورت ہے‘ بائیں بازو کے انتہا پسندوں، سرحد پار دہشت گردوں و شدت پسندوں کی شناخت کے علاوہ فرقہ واریت کو فروغ دینے کی کوششوں کو روکنا داخلی سلامتی کے لئے بڑاچیلنج ہے۔ دریں اثناءکانفرنس سے خطاب اور ایک بھارتی ٹی وی سے انٹرویو میں بھارتی وزیر داخلہ پی چدم برم نے کہا کہ پاکستان کے ریاستی وغیر ریاستی عناصر میں رابطہ قائم ہے‘ پاکستان ممبئی حملوں میں ملوث اصل عناصر کو چھپا رہا ہے۔ پاکستان ممبئی حملوں میں ملوث جن غیر ریاستی عناصر کے ملوث ہونے کی بات کرتا ہے وہ در حقیقت اتنے بھی غیر ریاستی عناصر نہیں‘ ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کا آپس میں نہ صرف رابطہ ہے بلکہ ان غیر ریاستی عناصر کے ریاست سے بھی قریبی روابط ہیں۔ بھارت کی جانب سے فراہم کئے جانے والے ثبوت اور پاکستان میں کی جانے والی تحقیقات کی روشنی میں ممبئی حملوں میں ملوث افراد کے خلاف مقدمہ چلایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے ممبئی حملوں کو ہینڈل کرنے والوں کی آواز کی ریکارڈ نگ پاکستان سے مانگی تھی لیکن پاکستان نے یہ ریکارڈنگ فراہم نہیں کی۔ ممبئی حملوں کے حوالے سے پاکستان کا موقف غلط ہے کہ اس میں ریاستی عناصر ملوث نہیں۔ پاکستان ذکی الرحمن لکھوی ،حافظ سعید اور ضرار شاہ کو بھارت کے حوالے کرے تو ان کے خلاف کارروائی کریں گے۔ ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی میں دس افراد ملوث تھے جن میں سے کم از کم ایک ریاستی عنصر ہے اور پاکستان دیگر ریاستی عناصر کو چھپا رہا ہے۔ اجمل قصاب نے ممبئی حملوں میں ملوث افراد کے نام بتائے ہیں یہ پاکستان اور امریکہ کو دیئے جا چکے ہیں تاہم پاکستان ان افراد کی نشاندہی کرنے کو تیار نہیں‘ پاکستان میں دہشت گرد گروپ ”کالی قوتیں“ ہیں جو ملک کے مخالف ہیں جہاں بھی ان کا سامنا ہو گا انہیں شکست دی جائے گی۔ گذشتہ 14 ماہ میں فرقہ واریت یا دہشت گردوں کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا جو تسلی بخش ہے تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ ملک دہشت گردی کے حملوں کے خطرات سے باہر آ گیا ہے ہمیں ہو شیار رہنا ہو گا‘ ممبئی حملوں میں دو بھارتی شہری بھی ملوث ہیں۔ منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ اےک ابو جندل ہے تاہم دوسرے کی نشاندہی ابھی تک نہیں ہو سکی اور ابو جندل کی گرفتاری کے لئے بھارتی حکومت کے پاس ثبوت موجود ہیں۔ ملک میں ایسے عناصر بھی موجود ہیں جو ہمارے معاشرے کے گروہوں اور علاقائی خطوط پر تقسیم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ممبئی حملوں کے بعد ہم اپنے ساحلی علاقوں میں سکیورٹی بڑھانے کی جانب توجہ دے رہے ہیں۔ ساحلی علاقوں میں بائیو میٹرک شناختی کارڈ کا عمل ستمبر 2010ءتک مکمل ہو جائے گا۔ چدمبرم نے الزام عائد کیا کہ چار فروری کو مظفر آباد میں جہادی تنظیموں کا ایک اہم اجلاس ہوا جس میں ریاست جموں و کشمیر کو بھارت سے آزادی دلانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ جموں و کشمیر میں سرحد پار سے مداخلت پھر بڑھ رہی ہے۔ جموں و کشمیر میں حریت پسند تحریکوں کو شکست دینگے۔ انہوں نے کہاکہ اجمل قصاب کے خلاف مقدمہ کسی کینگرو کورٹ نہیں بلکہ کھلی عدالت میں چل رہا ہے۔ صدر زرداری کی جانب سے بھارت کے ساتھ 1000سال تک جنگ کے بارے میں بیان نہیں پڑھا۔چدم برم نے کہا کہ پنجاب اور راجستھان میں سکھ خالصہ تحریک کو سرحد پار سے ہوا دینے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن یہ سنگین مسئلہ نہیں۔ پاکستان سے مذاکرات کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ حافظ سعید کے بارے میں بات کر رہے تھے۔ جب ان سے صدر زرداری کے اس بیان کے بارے میں سوال کیا کہ کشمیر کی آزادی کےلئے سول سال تک لڑیں گے تو وہ حیرت زدہ رہ گئے۔ انہوں نے کہا کہ گجرات میں ایسے حالات نہیں کہ وہاں مہاراشٹر کی طرز پر منظم جرائم کی روک تھام کا قانون نافذ کیا جائے اس لئے وزیراعلیٰ مودی کی درخواست مسترد کر دی گئی۔
Post New Comment