ججوں کی تعیناتی آئین کے مطابق ہونی چاہئے‘ قانون پر عمل نہ ہوا تو مسائل جنم لیں گے : چیف جسٹس

ـ 8 فروری ، 2010
  • Adjust Font Size

پشاور (بیورو رپورٹ+ ریڈیو نیوز+ ایجنسیاں) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ ججز کی تعیناتی آئین کے مطابق ہونی چاہئے، آج بھی ہم پرانی ڈگر پر چلے اور ماورائے آئین اقدامات کی باتیں ہوئیں تو وکلاءکی جدوجہد رائیگاں چلی جائے گی۔ آئین کی حکمرانی سب سے اہم ہے اگر یہ نہ ہوئی تو بہت سے مسائل جنم لیں گے‘ عدلیہ سے کرپشن کا مکمل خاتمہ کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور سپریم کورٹ برانچ رجسٹری میں وکلا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ سرحد میں ججز کی کمی کا احساس ہے ججز کی کمی کو دور کرنے کے لئے اقدامات کئے جائینگے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو عدلیہ سے بہت توقعات وابستہ ہیں۔ ایسا انصاف ہو جو سب کو نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ سے کرپشن کا مکمل خاتمہ کریں گے جس کے لئے اقدامات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے تحت اعلیٰ عدالتوں میں ججز کی تعداد کو پورا کیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ بنچ اور بار کا تعاون مزید بڑھے گا۔ ریڈیو نیوز کے مطابق انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے استحکام کیلئے ہمارے بچوں نے بھی ظلم برداشت کیا‘ عدلیہ سے کرپشن کا خاتمہ کرنے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں‘ کچھ عرصہ بعد عدلیہ میں کرپشن کرنے والے ڈھونڈنے پر بھی نہیں ملیں گے‘ ججز اور وکلا کے درمیان قانون کی حکمرانی کا رشتہ ہے۔ اے پی پی کے مطابق جسٹس افتخار نے کہا کہ سپریم کورٹ کے جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے کوئی عزائم نہیں۔ انہوں نے کہا جمہوریت کیلئے قربانیاں دی ہیں اسے مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں۔ بیورو رپورٹ کے مطابق جسٹس افتخارمحمد چودھری نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی کمی کے باعث انصاف کے حصول میں مشکلات پیش آرہی ہیں سرحدحکومت مالاکنڈ میں انسداددہشت گردی عدالتوں میں اضافہ کرے۔ انہوںنے کہا کہ آئین کے مطابق اعلی عدالتوں میں ججز کی کمی پوری ہونی چاہیئے تاکہ فوری انصاف کاحصول ممکن بنایاجاسکے انہوںنے کہا کہ لوگوں کی عدلیہ سے بہت سے توقعات ہیں اس لئے انصاف ایسا ہوجوسب کوہوتا نظرآئے اس ضمن میںبنچ اوربار کومزید قریب لانا ہوگاانہوںنے کہا کہ عدلیہ سے کرپشن کامکمل خاتمہ کریں گے وکلاءکے اٹھائے گئے نکات کاجواب دیتے ہوئے چیف جسٹس نے واضح کیا کہ اگر ملک میں قانون کی عملداری اورآئین کی بالادستی پرعمل ہوتومعاملات خود بخود صحیح سمت پر گامزن ہوجائیںگے ڈاکٹرعافیہ صدیقی کے حوالے سے ان کاکہنا تھا وہ پاکستانی حدود سے باہر ہے جبکہ لاپتہ افراد کے بارے میں کیسز چل رہے ہیں اسی طرح اگر آپریشن کے دوران کسی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے تووکلاءثبوت اوراعدادوشمار کے ساتھ پٹیشن لائیں۔ انہوں نے کہا سرحد حکومت وسائل اور انفراسٹرکچر مہیا کریگی تو چیف جسٹس پشاورہائی کورٹ ملاکنڈڈویژن میں دارالقضاءکے لئے قاضےوں کی تعیناتی کردیگی۔ چیف جسٹس ایئرپورٹ سے سردارخان کی رہائش گاہ پر پہنچے۔ انہوں نے مرحوم کے صاحبزادے سے تعزیت کی اوربطور قانون دان ان کی خدمات کااعتراف کیا۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions