تازہ ترین:

نئی دہلی کی 18 یا 25 فروری کو بات چیت کی دعوت ۔۔۔ پاکستان‘ بھارت جامع مذاکرات کے طریقہ کار پر متفق ہو گئے : شاہ محمود قریشی

ـ 8 فروری ، 2010
  • Adjust Font Size
نئی دہلی کی 18 یا 25 فروری کو بات چیت کی دعوت ۔۔۔ پاکستان‘ بھارت جامع مذاکرات کے طریقہ کار پر متفق ہو گئے : شاہ محمود قریشی

اسلام آباد + نئی دہلی + ملتان (سٹاف رپورٹر + وقائع نگار + ایجنسیاں + ریڈیو نیوز + نیٹ نیوز) بھارت نے پاکستان کو 18 یا 25 فروری کو مذاکرات کی دعوت دے دی ہے۔ بھارتی میڈیا نے حکومتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ مذاکرات خارجہ سیکرٹریوں کی سطح پر ہونگے۔ بھارت بلوچستان سمیت تمام معاملات پر پاکستان کے ساتھ بات کرنا چاہتا ہے۔ مذاکرات میں انسداد دہشت گردی اور دراندازی کو مرکزی حیثیت حاصل ہو گی۔ تاہم انسانی حقوق‘ قونصلر ایشوز‘ تجارت اور دیگر توجہ طلب امور بھی زیر غور آئینگے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت جامع مذاکرات کے طریق کار پر متفق ہوگئے ہیں۔ ٹائمز آف انڈیا سے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ کشمیر پر پیشرفت ہوئی تو اس معاملے میں کشمیریوں کی خواہش کو نظر انداز نہیں کرسکتے۔ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر ہے اس لئے بھارت اور پاکستان کو سازگار ماحول بنانے کےلئے کشمیریوں سے مشاورت کے ساتھ باہمی اعتماد سازی میں اضافہ کرنا ہوگا۔ مذاکرات کی بھارتی پیشکش پاکستانی موقف کی تائید ہے۔ پاکستان نے ممبئی حملوں کے الزام میں 7 ملزموں کو گرفتار کیا جو اس معاملے پر اسلام آباد کی سنجیدگی کو ظاہرکرتا ہے۔ بھارت عالمی دباﺅ کی وجہ سے مذاکرات پر آمادہ ہوا۔ دنیا پاکستانی موقف اور قربانیوں کا اعتراف کررہی ہے۔ صرف بیان بازی اور میڈیا کے ذریعے مسائل حل نہیں ہوسکتے۔ بھارت میں ایک طبقہ منفی بیان بازی کرتا رہتا ہے۔ بھارتی تجاویز کا جائزہ لینے کیلئے ہائی کمشنر شاہد ملک کو بلایا ‘ اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود نے مشرف حکومت کی جانب سے بھارت کے ساتھ خفیہ سفارتکاری کے ذریعے مسئلہ کشمیر پر پیشرفت کے دعوﺅں کو مسترد کرتے ہوئے مذاکرات جولائی 2008ء کی سطح سے دوبارہ شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ مشرف دور میں بھارت سے مسئلہ کشمیر پر ہونے والی بات چیت اور اس حوالے سے پیشرفت کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔ خفیہ یا خاموش سفارتکاری کے کسی طریقے کے ذریعے کوئی پیشرفت ہوتی تو اس کا ریکارڈ دفتر خارجہ کے پاس ضرور ہونا چاہے۔ اس صورت میں بھارت سے مذاکرات وہیں سے شروع کئے جائیں جہاں سے وہ ٹوٹے تھے۔ مشرف دور میں کشمیر پر کسی تجاویز پر بات ہوئی ہے تو یہ بعض افراد کا ذاتی فعل ہو سکتا ہے۔ خاموش سفارتکاری سے انکار نہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ مسائل صرف باضابطہ مذاکرات سے ہی حل ہو سکتے ہیں۔ اب بھارتی حکومت پر مقامی طور پر اتنا دباﺅ بڑھا ہے کہ اسے بھی پاکستان کے ساتھ بات نہ کرنے کی روش تبدیل کرنا پڑ رہی ہے۔ نجی ٹی وی چینل سے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل میں پیشرفت ہو سکتی ہے تاہم یہ کہنا کہ حل ہماری جیب میں ہے یہ حقائق کے برعکس ہے۔ موجودہ حالات میں ہمیں بھارت سے زیادہ مغربی سرحد پر خطرہ ہے‘ بھارت اپنے کئے کا شکار ہے ہمیں پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ ڈرون ٹیکنالوجی کے معاملے پر ہم نے امریکہ کو سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کیا۔ ہم نے مسئلہ کشمیر کو ہر فورم پر مہذب انداز میں اٹھایا بھارت کے کئی لوگ ابھی تک یہ سمجھتے ہیں کہ جامع مذاکرات کے سوا ان کے پاس کوئی حل اور کوئی راستہ نہیں‘ ہم یہ نہیں کہتے کہ ہمیں بھارت سے خطرہ نہیں‘ بھارت کے ساتھ ہمارے کئی تنازعات ہیں ہم بھارت کے عزائم سے غافل نہیں لیکن اس وقت ہمیں زیادہ خطرہ مغربی سرحد پر ہے۔ مشرف حکومت کے دعوے غلط ہیں کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے قریب پہنچ چکی تھی۔ یہ عجیب بات ہے کہ مسئلہ حل ہو گیا اور مسئلہ جوں کا توں بھی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھی مسئلہ کشمیر کے ایشو پر ایک رائے نہیں ہے بلکہ حریت کانفرنس میں بھی اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ ملتان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے وعدہ کیا کہ بھارت اور دہشت گردوں کے سامنے نہیں جھکیں گے۔ دباﺅ میں آئے بغیر پاکستان کا مقدمہ لڑ کر جیتیں گے۔ ممبئی حملوں کے بعد بھارت نے پاکستان کو تنہا کرنے کی ناکام کوشش کی بھارت کا پاکستان کو مذاکرات کی دعوت دینا ہماری سفارتی فتح ہے۔ بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کے بیان کو مسترد کرتے ہیں اب ہر بات مذاکرات سے طے ہو گی۔ پاکستان کسی ملک میں دراندازی کر رہا ہے نہ ہی دراندازی کو برداشت کریں گے۔ پاکستان نے دوررس مفادات کوسامنے رکھتے ہوئے کڑوے فیصلے کئے ہیں۔ افواج پاکستان نے دہشت گردی کا جوانمردی سے مقابلہ کیا۔ جانیں قربان کرکے دہشت گردوں کو شکست دی۔ اب جمہوریت پر کوئی آنچ نہیں آئے گی۔ این ایف سی ایوارڈ سے صوبوںکو بے انتہا فائدہ ہو گا۔ بھارت مذاکرات کو دہشتگردی کے مسئلہ سے منسلک نہ کرے۔ این اے 148 میں جلسہ عام سے خطاب کے بعد صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ مذاکرات میں تمام ایشوز پربات چیت ہو گی وہ تمام معاملات جن کے بارے میں پاکستان یا بھارت کو تحفظات ہیں میز پر لے کر آئیں گے۔ اب مذاکرات میڈیا کے ذریعے نہیں بلکہ میز پر ہونگے۔ بھارت جس نے تعلقات توڑے اور مذاکرات نہ کرنے کی بات کی تھی اب دو روز قبل بھارت نے تعلقات بحال کرنے اور مذاکرات پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ انہوںنے کہا کہ ہم ہمیشہ اپنے موقف پر قائم رہے کہ مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔ ہم نے گھٹنے نہیں ٹیکے اور اپنے موقف پر قائم رہے ہیں کیونکہ ہمارا موقف کمزور نہیں۔ کشمیر اور پانی کے مسئلے پر ہمارے مقدمے میں سچائی ہے۔ انشاءاللہ ہم بھارت کے سامنے نہ جھکیں گے اور نہ ہی انکے دباو میں آئیں گے بلکہ اپنا مقدمہ بھرپور انداز میں لڑیں گے۔ حال ہی میں لندن میں منعقد ہونے والے اجلاس میں 80 ممالک کے وزرائے خارجہ جمع تھے۔ ہمارا سر فخر سے اس وقت بلند ہو گیا جب ان تمام وزرائے خارجہ نے پاکستان کی جرات اور مسلح افواج کو قربانی اور بہادری کا ذکر کیا۔ اب پوری دنیا کا فیصلہ ہے کہ پاکستان کا ساتھ دینا ہے کیونکہ پاکستان دہشت گری کے خلاف پوری قوت سے ڈٹا ہوا ہے۔ افغانستان کے صدر حامد کرزئی جو دو سال قبل پاکستان پر تنقید کیا کرتے تھے اب وہ پاکستان کو مدد کرنے کا کہہ رہے ہیں اور پاکستان ان کا ساتھ دے گا۔ ہمیں احساس ہے کہ مہنگائی و بیروزگاری ہے کثیر طبقہ غربت کی لکیر کے نیچے زندگی بسر کر رہا ہے۔ معاشی مشکلات بھی موجود ہیں۔ پٹرول‘ ڈیزل‘ گیس اور اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافے کے کڑوے فیصلے کرنے پڑے ہیں لیکن یہ فیصلے پاکستان کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کئے گئے ہیں۔آئندہ دو تین سال میں ان فیصلوں کے مفید اثرات سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔ جب ہماری حکومت اقتدار میں آئی تو دہشت گردی کی فضا تھی۔ شہریوں کو ہلاک کیا جا رہا تھا۔ پیپلز پارٹی نے اٹل فیصلہ کیا کہ ہم دہشت گردوں کے آگے نہیں جھکیں گے بلکہ ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ آج وہ پورے اعتماد کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان میں جمہوریت کو کوئی آنچ نہیں آئے گی۔ ہماری حکومت اپنی مدت پوری کرے گی اور مقررہ وقت پر انتخابات کرائے گی۔ پھر عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔ اللہ کرے کہ ہمارے ملک میں پرامن انتقال اقتدار کی روایت پڑ جائے۔ ایسا ہوا تو جمہوریت مضبوط ہو گی اور عوام کی رائے کا احترام کیا جائے گا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ قوم سے وعدہ ہے کہ بھارت کے سامنے نہیں جھکیں گے‘ دباﺅ میں آئے بغیر عالمی سطح پر پاکستان کا مقدمہ لڑینگے۔ اے این این کے مطابق انہوں نے کہاکہ یہ کہنا حقائق کے برعکس ہو گا کہ پاکستان کو بھارت سے کوئی چینلجز درپیش نہیں مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ دونوں ممالک مذکرات نہیں کر سکتے۔ مغربی سرحد میں ہمارے لئے کبھی مشکل کا باعث نہیں بنی تھیں مگر اب وہاں بھی خطرہ ہے۔ ایک اور انٹرویو میں انہوں نے کہاکہ بھارت کے ساتھ حالیہ ملاقات کے موقع پر عالمی برادری نے پاکستان کے مﺅقف کی تائید کی ہے ہم نے ہمیشہ مذاکرات کی بات کی مگر ہر بار کسی نہ کسی سپیڈ بریکر کی وجہ سے رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔ امریکہ ہماری مضبوط خارجہ پالیسی کے تحت ہی ڈرون ٹیکنالوجی پاکستان کو دینے کا رضا مند ہو گیا ہے‘ دہشت گردی کے خاتمہ کے بعد ہی دنیا میں امن قائم ہو سکتا ہے۔ دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ وہ بھارت کی جانب سے مذاکرات کی بحالی کی پیشکش پر جواب تیار کر رہا ہے تاہم اشارہ کیا ہے کہ پاکستان ممبئی حملوں 2008ءسے قبل جامع مذاکرات کی وہاں سے ہی شروعات کے مﺅقف پر قائم رہے گا‘ بھارتی خبررساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے عبدالباسط نے کہا کہ ہم بھارت کی پیشکش کا جواب تیار کر رہے ہیں تاہم مذاکرات کے آغاز سے قبل اس کے ایجنڈا کا علم ہونا ہمارے لئے انتہائی ضروری ہے۔ ہمارے پاس پہلے سے مذاکرات کا فریم ورک موجود ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ مذاکرات کے خلاف نہیں تاہم بغیر نتائج کے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں‘ مذاکرات کا نتیجہ خیز اور تعمیری ہونا لازمی ہے۔ بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت نے پاکستان کو سیکرٹری خارجہ سطح پر مذاکرات کے علاوہ مسائل حل کرنے کیلئے علیحدہ بات چیت کی پاکستان کو دعوت دی ہے۔میڈیا کے مطابق بھارت نے اضافی مذاکرات کیلئے پاکستان کو 18یا 25فروری کو مذاکرات کی دعوت دی ہے۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions