پنجاب اسمبلی ....اپوزیشن نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں‘ رانا ثناءنے رابرٹ فارم کی رجسٹری پیش کر دی‘ پرویز الہی اور مونس الہی سے استعفی کا مطالبہ

حوالہ : لاہور (رپورٹنگ ٹیم) ـ 7 نومبر ، 2009
  • Adjust Font Size

لاہور (رپورٹنگ ٹیم) پنجاب اسمبلی میں مسلسل دوسرے روز بھی بدترین ہنگامہ آرائی جاری رہی‘ ارکان سپیکر کے احکامات نظر انداز کرکے ایک دوسرے کی قیادت کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے‘ اپوزیشن کی خواتین نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر ایوان میں پھینک دیں‘ اپوزیشن ”گو منسٹر گو“ ۔ ”این آر او ٹھا“ جبکہ حکومتی ارکان ”مشرف کا جو یار ہے غدار ہے“ اور مٹی پاﺅ کے نعرے لگاتے رہے‘ ایوان حقیقی معنوں میں مچھلی منڈی کا منظر پیش کرتا رہا‘ متعدد ارکان بنچوں پر چڑھ کر ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے۔ اپوزیشن نے وزیر قانون کی رکنیت معطل کرنے کا مطالبہ کیا۔ تفصیلات کے مطابق اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو مولانا الیاس چنیوٹی سرکاری اسمبلی اور اپوزیشن کے کرنل (ر) عباس چودھری نے کھڑے ہو کر پوائنٹ آف آرڈر پر بولنا چاہا۔ مگر سپیکر نے الیاس چنیوٹی اور سرکاری ارکان کو بیٹھنے کی ہدایت کی اور کہا کہ گذشتہ روز کے تجربے کے بعد وہ بولنے کا موقع نہیں دیں گے۔ اس موقع پر ثمینہ خاور حیات، سیمل کامران، خدیجہ فاروقی، ماجدہ زیدی، آمنہ الفت نے کھڑے ہو کر بولنا شروع کردیا۔ ظہیر الدین نے کہا کہ کل بھی آپ نے وقت نہیں دیا تھا اگر کارروائی میں حصہ نہیں لے سکتے تو ہم پھر یہاں کیوں بیٹھے ہیں۔ ثمینہ خاور‘سیمل کامران‘ ماجدہ زیدی پھر کھڑی ہوگئیں اور بیک وقت بولنا شروع کر دیا۔ مسلم لیگ (ن) کی عارفہ خالد، رفعت سلطانہ ڈار، پیپلزپارٹی کی ساجدہ میر بھی کھڑی ہوگئیں اور مقابلہ شروع کردیا۔ اس مرحلے پر شور اس قدر مچا کہ مچھلی منڈی کا سماں بنا دیا گیا۔ رانا ثناءاللہ ایوان میں داخل ہوئے تو مسلم لیگ ق کی خواتین نے لا منسٹر نو، لا منسٹر نو کے نعرے لگائے اور سرکاری ارکان نے ڈیسک بجا کر ان کا استقبال کیا۔ کرنل (ر) عباس نے کہاکہ غیرپارلیمانی الفاظ استعمال کرنے والے کی ممبر شپ معطل کی جائے۔ خدیجہ فاروقی نے کہا کہ وزیر قانون کو کم از کم دو دن کے لئے ایوان سے نکالا جائے۔ اپوزیشن نے نکتہ اعتراض پر ٹائم نہ ملنے پر احتجاجاً ایوان سے واک آﺅٹ کیا اور جاتے ہوئے کورم کی نشاندہی کر دی جس پر سپیکر نے 5منٹ تک گھنٹیاں بجانے کا حکم دیا۔ بعدازاں کورم مکمل نہ ہونے پر اجلاس کی کارروائی آدھا گھنٹے کیلئے معطل کر دی گئی۔ رانا ثناءجب بھی تقریر کرتے تو اپوزیشن شور اور نعرے بازی شروع کر دیتی۔ چودھری ظہیر الدین کو امن و امان پر تقریر کرنے کے لئے سپیکر نے فلور دیا تو حکومتی ارکان اسمبلی نے شور مچانا شروع کر دیا۔ شور اس قدر زیادہ تھا کہ قائد حزب اختلاف تقریر نہیں کر سکے اور ایوان سے باہر چلے گئے۔ سپیکر بار بار آرڈر آرڈر کہتے رہے۔ ایک مرتبہ سپیکر نے یہ بھی کہہ دیا کہ میرے پاس آپ لوگوں کا علاج تو ہے لیکن میں وہ کرنا نہیں چاہتا۔ نکتہ اعتراض پر ایک رکن نے کہاکہ نادرا فارم ب کی آڑ میں بہاولپور‘ رحیم یار خان اضلاع میں 8سو روپے تک سٹوڈنٹس سے وصول کر رہا ہے اور اگلے ماہ کی تاریخ دی جارہی ہے‘ داخلوں کی تاریخ 10 نومبر مقرر کی ہے۔سینئر وزیر راجہ ریاض نے کہا کہ وہ اس بارے میں نادرا کے ڈی جی سے بات کر کے اس مسئلے کو وقت پر حل کروائیں گے۔ رانا ثناءاللہ نے اجلاس میں رابرٹ فارم کی اراضی کی چودھری مونس الٰہی کے نام رجسٹری کی کاپی دکھاتے ہوئے کہا کہ یہ گجراتی ڈاکو کی رجسٹری ہے۔ ہم ان ڈاکوﺅں اور چوروں کو غریبوں کی اراضی لوٹنے نہیں دیں گے۔میں نے کل اجلاس میں چیلنج بھی کیا تھا کہ میں ایوان میں رجسٹری نہ پیش کر سکا تو استعفیٰ دے دوں گا اور اگر پیش کروں تو مونس الٰہی اور چودھری پرویز الہٰی استعفیٰ دے دیں۔ علی حیدر نیازی نے امن و امان پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہاکہ امن و امان کی صورتحال اگر بہتر نہیں تو حالات اتنے بُرے بھی نہیں۔ اپوزیشن والے جنرل (ر) مشرف کے چمچے کا کردار کر رہے ہیں۔ سپیکر نے اجلاس 9نومبر بروز پیر سہ پہر 3بجے تک ملتوی کر دیا۔ مسلم لیگ (ن) کی معطل رکن سکینہ شاہین کی رکنیت دوبارہ بحال ہو گئی جس کے بعد انہوں نے کارروائی میں حصہ لیا۔ بعد ازاں رانا ثناءاللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رابرٹ فارم کی رجسٹری کا ثبوت پیش کر دیا۔ اب چودھری ظہیر الدین‘ پرویزالٰہی اور مونس الٰہی کے پاس جائیں اور انہیں کہیں کہ استعفیٰ دیں اور اگر یہ رجسٹری جعلی ہے تو میں استعفیٰ دے دوں گا۔ گجرات کے ڈاکوﺅں اور چوروں کو اپوزیشن کی خواتین یا کوئی اور احتجاج کرکے بچا نہیں سکتا۔ مونس الٰہی نے سید محمد اکرم ولد سید ممتاز حسین کے ذریعے رابرٹ زرعی فارم سے زمین خریدی جس کی مالیت 3کروڑ 88لاکھ 70ہزار ہے میں نے رجسٹری پیش کر دی ہے۔ ظہیر الدین نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ شریف برادران کان کھینچتے ہیں تو رانا ثنا اپوزیشن پر چڑھائی کر دیتے ہیں۔ وزیر قانون جعلی کاغذات بنانے کے ماسٹر ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مونس الٰہی کا موقف ان سے ہی پوچھا جائے‘ جب تک پنجاب اسمبلی میں ہماری قیادت کے خلاف باتیں ہونگی اور صوبائی وزیر قانون اور دیگر ارکان اپنے روئیے پر معذرت نہیں کرتے ہم اجلاس کی کارروائی نہیں چلنے دینگے ۔ دریں اثناءوزیر قانون نے کہا ہے کہ ملک میں جمہوریت کو ”جاتی بہار“ قرار دینے والے قاف لیگ کی نام نہاد لیڈر شپ خود آمریت کے گملے میں پروان چڑھی ہے۔
پنجاب اسمبلی

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions