سوات + اسلام آباد (مانیٹرنگ نیوز + ریڈیو نیوز + ایجنسیاں) سوات میں فورسز کی کارروائیوں میں اہم کمانڈر سمیت 3 شدت پسند جاںبحق ہو گئے جبکہ 12 کو گرفتار کر لیا گیا‘ سوات اور دیر میں ایک کھیت اور مکان سے بھاری اسلحہ‘ گولہ بارود اور 2 ایف ایم ریڈیو سٹیشن برآمد کر لئے گئے‘ رحمن ملک نے طالبان کمانڈر فتح محمد کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔ دوسری جانب تحریک طالبان شمالی وزیرستان نے فوج کے پمفلٹ کے جواب میں پمفلٹ جاری کر دیا ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ طالبان کی طاقت کے سرچشمے اللہ پر ایمان‘ اللہ کی راہ میں جہاد‘ تقویٰ‘ جذبہ جہاد سے سرشار فدائی مجاہدین‘ اسلامی امارات افغانستان اور تحریک طالبان پاکستان‘ امت مسلمہ کے الفارو مہاجرین کا چندہ اور مال غنیمت ہے۔ جبکہ پاک فوج کی طاقت امریکہ‘ نیٹو اور اقوام متحدہ سے حاصل شدہ ڈالرز و اسلحہ‘ ڈرون و جاسوس طیارے‘ میڈیا پراپیگنڈہ و دیگر چیزیں ہیں۔ دریں اثناءباجوڑ ایجنسی میں سلارزئی قبائلی کے رہنما کا کہنا ہے کہ سیاسی تنظیمیں شدت پسندوں کی پشت پناہی چھوڑ دیں‘ باجوڑ ایجنسی میں سلارزئی قبائل کے مشران نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ جماعت اسلامی کے رہنما ہارون رشید سلارزئی قوم کے دشمن ہیں حکومت باجوڑ میں ان کا گھر گرائے جانے کے واقعہ کے لئے تحقیقاتی کمیٹی بناتی ہے تو سلارزئی قبائل کے 51 شہدا کے لئے بھی تحقیقاتی کمیٹی بنائی جائے۔ اس موقع پر سلارزئی قومی لشکر نے اعلان کیا کہ شدت پسندوں کو پناہ دینے والوں پر 20 لاکھ روپے کا جرمانہ کیا جائے گا اور ان کے مکانات گرائے اور جلائے جائیں گے۔ مردان کے علاقے ہوتی میں قائم پولیس سٹیشن پر نامعلوم شرپسندوں کی طرف سے راکٹ فائر کیا گیا جس سے عمارت کو جزوی نقصان پہنچا۔ اسلام آباد اور ایف سی ہیڈ کوارٹر قلعہ بالا حصار کے دورہ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے رحمن ملک نے کہا کہ پاکستان میں جہاں کہیں بھی حکومتی رٹ کو چیلنج کیا گیا وہاں بھرپور کارروائی کی جائے گی۔ مولوی فقیر محمد اور قاری ضیاءالرحمن کی ہلاکت کا بھی امکان ہے تاہم جب تک ان کی لاشیں نہیں ملتی باضابطہ طور پر ان کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کر سکتے۔ ملا برادر کو افغانستان کے حوالے کرنے کے حوالے سے افغان حکومت کی جانب سے کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے حیرت ہو گی کہ اگر مولوی فقیر محمد زندہ بچا تو۔ جنوبی وزیرستان میں لدھا کے علاقہ میں بارودی سرنگ پھٹنے سے سکیورٹی فورسز کا اہلکار جاںبحق ہو گیا جس کی نماز جنازہ سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کر دی گئی۔
Post New Comment