لاہور (کامرس رپورٹر) پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ سے افراط زر کی شرح ساڑھے 22 فیصد سے بڑھ کر 24 فیصد تک جا پہنچے گی۔ سال کے آخر یا جنوری 2010ء تک افراط زرد کی شرح سنگل ڈیجٹ پر لانے کا حکومتی خواب پورا نہیں ہو سکے گا۔ ان خیالات کا اظہار پیاف کے چیئرمین عرفان قیصر شیخ نے اپنے بیان میں کیا ہے۔ پیاف کے چیئرمین نے کہا ہے کہ سبسڈیز زیرو کرنے کی وجہ سڈے ڈیزل کی قیمت میں 12 فیصد اضافہ ہو گیا ہے۔ حکومت کو اس مد میں ساڑھے 17 ارب روپے ماہانہ زائد انکم ہو گی۔ حکومت نے منافع خوری کی ظالمانہ روش کو فوری طو رپر نہ بدلا تو کاروباری سرگرمیوں اور مینوفیکچرنگ شعبے پر شدید منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ حکومت پٹرولیم مصنوعات کو بے تحاشا مہنگا کرنے کی بجائے کاروباری سرگرمیاں جاری رکھنے اور افراط زر اور مہنگائی پر قابو پانے کیلئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافوں کو فوری طور پر ختم کر دیں۔
Post New Comment