اسلام آباد (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ عوام اور نہ ہی حکومت کو مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے سابقہ حکومت کی تجاویز کا کوئی علم ہے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ان مجوزہ تجاویز پر بحث نہیں ہوئی‘ دفتر خارجہ میں مشرف دور کے مسئلہ کشمیر کے حل کے بارے میں کسی فارمولے کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔ ےھ افراد کے درمےان خفےہ راز تھا
اسلام آباد (ریڈیو نیوز + ایجنسیاں) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ 10 فروری کو بین الوزارتی اجلاس بلایا گیا ہے جس میں بھارت سے جامع مذاکرات کے بارے میں حکمت عملی پر غور ہو گا۔ نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر کو بھی اجلاس میں شرکت کیلئے بلایا گیا ہے۔ شاہد ملک بھارتی سیکرٹری خارجہ سے ملاقات کے بارے میں آگاہ کرینگے۔ دریں اثناءدفتر خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری سے افغانستان کی صورتحال اور دہشت گردی کیخلاف جنگ پر مثبت اثرات پڑیں گے۔ چینی خبررساں ادارے سے انٹرویو میں ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کی بحالی اور مسئلہ کشمیر، پانی سمیت دیگر تنازعات کے حل سے افغانستان کی صورتحال اور دہشت گردی کیخلاف جنگ کے ساتھ ساتھ پورے خطے پر مثبت اثر پڑےگا۔ پاکستان بھارت مذاکرات کے حوالے سے ترجمان نے کہا ہے کہ ابھی تک مذاکرات کے پہلو واضح نہیں۔ پاکستان بھارت کی طرف سے پیشکش کی تفصیلات جاننے کی کوشش کر رہا ہے‘ اس بارے مےںکوئی حتمی بات کہنا قبل از وقت ہو گا۔ دوسری جانب بھارتی اپوزیشن جماعت بی جے پی نے بھارتی حکومت کی طرف سے پاکستان کو مذاکرات کی پیشکش شرم الشیخ اعلامیہ پر پاکستان کے موقف کی تائید قرار دیا اور واضح کیا ہے کہ علاقائی سالمیت پر سمجھوتہ نہیں کیا جائےگا۔ بھارت کی پاکستان کی مذاکرات کی پیشکش پر پارٹی کا موقف پیش کرتے ہوئے راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ارون جیٹلی اور پارٹی ترجمان پرکاش جوادیکر نے الزام عائد کیا کہ کانگریس حکومت نے ایسے وقت پاکستان کے ساتھ مذاکرات کےلئے پیشکش کی ہے۔ ملک بھارت مخالف جہادی عناصر کےخلاف صف آرا ہے انہیں سرنڈر کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ بھارت کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش شرم الشیخ اعلامیہ پر پاکستان کے موقف کا بھی اعتراف ہے۔
دفتر خارجہ
کشمیر / ریکارڈ
Post New Comment