اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت+ ریڈیو نیوز) سپریم کورٹ نے تعلیمی ڈگریاں جعلی ثابت ہونے پر استعفے دے کر قومی اور پنجاب اسمبلی کے ضمنی الیکشن میں حصہ لینے والے پیپلزپارٹی کے دو امیدواروں نذیر جٹ اور اللہ وسایا کی نااہلی کے خلاف اپیلیں خارج کر دیں اور الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ برقرار رکھا۔ دوران سماعت جسٹس جاوید اقبال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ جو شخص امین اور دیانتدار نہ ہو وہ رکن پارلیمنٹ بننے کا اہل نہیں۔ تفصیلات کے مطابق این اے 167وہاڑی سے مستعفی ہونے والے سابق ایم این اے نذیر جٹ کی اپیل کی سماعت جسٹس جاوید اقبال جبکہ پی پی 259مظفرگڑھ سے امیدوار اللہ وسایا کی اپیل کی سماعت چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔نذیر جٹ کی جانب سے احمد اویس ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور کہا کہ اسی طرح کے معاملے میں جمشید دستی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ میرے موکل کو نااہل قرار دیدیا گیا ہے۔ جسٹس جاوید اقبال نے کہاکہ جعلی ڈگری والوں نے عوام کے اعتماد کو دھوکہ دیا ہے۔ مخالف وکیل اکرم شیخ نے کہاکہ جو شخص جھوٹ بولتا ہے‘ ووٹرز کا مذاق بناتا ہے‘ عوام کو دھوکہ دیتا ہے وہ آرٹیکل 63کی رو سے عوامی نمائندگی کا اہل نہیں۔ جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ جو شخص امین اور دیانتدار نہ ہو رکن پارلیمنٹ بننے کا اہل نہیں۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے بھی اکرم شیخ کے دلائل کی حمایت کی جس پر عدالت نے اپیل خارج کرتے ہوئے ہائیکورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ اللہ وسایا کی جانب سے شاہ خاور پیش ہوئے دوران سماعت چیف جسٹس نے کہاکہ جو شخص عوامی نمائندگی کیلئے نااہل ہے اس کے کاغذات تو ابتدائی سطح پر ہی مسترد ہونے چاہئیں۔ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ اب تو جعلی ڈگری والوں کو مشیر بنایا جا رہا ہے‘ عدالت نے یہ اپیل بھی خارج کر دی۔
Post New Comment