واشنگٹن/ لندن (اے ایف پی+ ثنا نیوز+ ریڈیو نیوز) امریکہ کے ایک اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کی حفاظت اور افزودہ شدہ یورینیم کو ضائع کرنے کے لئے امریکہ اور پاکستان کے درمیان مذاکرات شروع ہو گئے ہیں جبکہ امریکہ نے پاکستان کو افزودہ کی گئی یورینیم کو جہاز کے ذریعے امریکہ لے جاکر تباہ کرنے کی تجویز دی ہے یہ دعویٰ امریکہ کے معروف اخبار ’’دی بوسٹن گلوب‘‘ نے اپنی منگل کی اشاعت میں صفحہ اول پر شائع شدہ خبر میں کیا ہے۔ اخبار نے اپنی اشاعت میں دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان اور امریکہ نے ایٹمی اثاثوں کی حفاظت میں اہم کردار ادا کرنے کے لئے پاکستانی حکام سے مذاکرات کا آغاز کر دیا ہے۔ اس کے لئے امریکہ نے پاکستان کو تجویز دی ہے کہ وہ ایٹمی مواد جس میں افزودہ شدہ یورینیم بھی شامل ہے کو ایک جہاز کے ذریعے امریکہ بھیجے جہاں اسے ضائع کر دیا جائے گا۔ اخبار نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اسے یہ بات دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے درمیان شروع ہونے والے مذاکرات کی ٹیم میں شامل دو اعلیٰ امریکی حکام نے نام نہ لینے کی شرط پر بتائی ہے۔ اخبار کے مطابق امریکی حکام کے اس انکشاف پر ردعمل کے لئے متعدد بار پاکستانی ایمبیسی سے درخواست کی گئی لیکن وہاں سے کوئی جواب نہیں مل سکا۔ امریکہ کی قومی سلامتی کے مشیر جنرل جیمز جونز نے کہا ہے کہ اسلام آباد سے اس بات کی ضمانت درکار ہے کہ پاکستان کے نیوکلیئر ہتھیار شدت پسندوں سے محفوظ ہیں۔ بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج نے انہیں متعدد بار یہ بتایا ہے کہ پاکستان کے جوہری ہتھیار اس کے کنٹرول میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں حالات اب نسبتاً مثبت سمت کی طرف بڑھ رہے ہیں لیکن نیوکلیئر ہتھیاروں کی حفاظت کے بارے میں مزید یقین دہانیوں کی ضرورت ہے۔ امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان رابرٹ ووڈ نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ہم نے پاکستان کی حکومت اور فوج کو واضح پیغام دیا ہے کہ انہیں دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہئے۔ رابرٹ ووڈ نے بتایا کہ ہمیں پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے حوالے سے کوئی تشویش نہیں۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیار بکھرے ہوئے ہیں تاہم ان پر کنٹرول کا مضبوط نظام قائم ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ امریکہ کہتا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیار بکھرے ہوئے ہیں تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مختلف مقامات پر موجود ہیں اس پر ترجمان نے کہا کہ یہ الفاظ وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن نے استعمال کئے تھے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکہ کو معلوم ہے کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیار کہاں رکھے ہوئے ہیں تو رابرٹ ووڈ نے کہا کہ میں صرف ان کی حیثیت کے بارے میں بات کررہا ہوں۔ اس ضمن میں مزید انٹیلی جنس معلومات کے حوالے سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔ دریں اثناء امریکہ میں ہونیوالے راسموسین رپورٹ سروے کے مطابق امریکی ووٹروں میں سے 87فیصد کو پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کی حفاظت کے حوالے سے تشویش ہے۔
Post New Comment