28 کمپنیوں کا پانی آلودہ‘ باقی کا غیر معیاری ہے‘ سب پر پابندی لگائی جائے

ـ 6 مارچ ، 2010
  • Adjust Font Size

لاہور (وقائع نگارخصوصی) لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس شیخ عظمت سعید نے قرار دیا ہے کہ مضر صحت پانی پینے سے ہلاکتوں کا ذمہ دار کون ہے اور بغیر لائسنس کام کرنے والی کمپنیوں کے خلاف مقدمات کیوں درج نہیں کیے گئے؟ عوام کے ذہن میں پہلے کوئی وہم ڈالا جاتا ہے اور پھر ملٹی نیشنل کمپنیاں اس کی آڑ لے کر یہاں پنجے گاڑ لیتی ہیں، عدالت لوگوں اور بچوں کو بچانے کے لیے قانون کو مکمل طور پر نافذ کرائے گی۔ فاضل عدالت نے یہ ریمارکس پیور اور منرل واٹر کمپنیوں کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران دئیے۔ گذشتہ روز عدالت مےں پاکستان کونسل آف واٹر ریسورسز نے انکشاف کیا کہ پائپوں کے ذریعے پانی جب گھروں تک پہنچتا ہے تو 80فیصد مضر صحت ہوچکا ہوتا ہے۔ اس پر فاضل جج نے کہا کہ یہ پانی ڈائریکٹر جنرل واسا کو پلانا چاہیے۔ عدالت نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ صاف پانی کی فراہمی وفاق کی ذمہ داری ہے یا صوبے کی؟ سماعت کے دوران پاکستان سٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ملک میں 28 کمپنیاں آلودہ پانی فراہم کررہی ہیں جبکہ باقی 33 کمپنیاں بھی بین الاقوامی معیار کا پانی فراہم نہیں کررہیں اس لئے ان پر بھی پابندی عائد کی جائے۔ عدالت نے کہا کہ پیسے لے کر عوام کی جانوں سے کھیلا جا رہا ہے۔ عدالت نے ایم ڈی واسا، ڈی جی پاکستان سٹینڈرڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور محکمہ تحفظ ماحولیات سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت 22مارچ تک ملتوی کر دی ہے۔ درخواست گزار بیرسٹر ظفر اللہ کا موقف ہے کہ امریکی و آسٹریلوی تحقیق کے مطابق پاکستان جیسے موسم مےں بوتل بند پانی مےں جراثیم پیدا ہونا فطری امر ہے جس سے ہیضہ، ٹائیفائیڈ اور پیٹ کی خطرناک بیماریاں پیدا ہوتی ہےں۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions