پشاور (ریڈیو نیوز + آئی این پی + جی این آئی) چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ پبلک مقامات پر کاروباری سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ پشاور کے علاقے حیات آباد میں پبلک پارک سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران اپنے ریمارکس میں انہوں نے کہا کہ پارک میں قائم دکانوں کو گرایا جائے اور دکانداروں کو متبادل جگہ فراہم کی جائے۔ دریں اثنا محکمہ تعلیم سرحد کے 18 ملازمین کی ترقی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے محکمہ تعلیم کوہدایت کی کہ وہ مروجہ قواعد وضوابط کی پابندی کریں اور اپنی کمزوری کوملازمین کےخلاف استعمال نہ کیاجائے۔چیف جسٹس نے کہاکہ جنہوں نے رولزاورضابطہ تیارنہیں کیاہے ان کو اپنی جیب سے ادائیگی کرنی چاہیے۔ محکمہ تعلیم کے 18 اہلکاروں کو93ءسے ترقی نہیں دی گئی اور انہوں نے دادرسی کےلئے سپریم کورٹ میں رٹ دائرکررکھی تھی جسکی سماعت تین رکنی بنچ نے کی۔ عدالت نے 18 ملازمین کو سروسز ٹربیونل کے فیصلہ کے مطابق 4 ہفتوں کے اندر اندر 1993ء سے سنیارٹی کے تحت ترقی دینے کے احکامات جاری کر دئیے۔ ادھر پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اعجاز افضل نے کہا ہے کہ عدالتیں ان مقدمات کی فائلیں بند نہیں کر سکتیں جن میں ملزم ضمانت کے بعد ٹرائل کورٹ میں حاضر نہ ہو۔
Post New Comment