زرداری‘ نوازشریف سمیت سب کے غیر ملکی اثاثے واپس آنے چاہئیں: عابدہ حسین

ـ 5 مارچ ، 2010
  • Adjust Font Size

لاہور (سلمان غنی + مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ میں پاکستان کی سابق سفیر‘ پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنما بیگم سیدہ عابدہ حسین نے کہا ہے کہ نیٹو فورسز کو باور کرانا چاہئے کہ ہندوستان سے پانی کے مسئلہ پر اپنا اثر و رسوخ بروئے کار لائیں ورنہ ہم دہشت گردی کے حوالہ سے اپنا موثر کردار ادا نہیں کر سکتے‘ پاکستان کے پانی پر مسائل جنرل مشرف کے دور میں پیدا ہوئے اور بھارت ڈیمز پر ڈیمز تعمیر کرتا رہا‘ قومی خزانہ پر جو بھی بالواسطہ یا بلاواسطہ اثرانداز ہوا اس کی جوابدہی ہونی چاہئے‘ دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے پیسے جنرل مشرف نے وصول کئے نتائج ہمیں بھگتنا پڑ رہے ہیں‘ یہ تاثر درست نہیں کہ ہم مشرف کی پالیسیوں پر گامزن ہیں البتہ کچھ معاہدے ایسے کر گئے جس کے اثرات بھگتنا پڑ رہے ہیں‘ موجودہ پارلیمنٹ بھی جنرل مشرف کے دور میں بنی‘ بےنظیر بھٹو کی شہادت کے بعد این آر او کا وجود ختم ہو گیا تھا‘ این آر او پر عدالتی فیصلہ آرٹیکل 62ڈی کی روشنی میں کیا گیا جب انتخابات ہوتے ہیں تو ریٹرننگ افسر اس پر عملدرآمد کیوں نہیں کرتے‘ سوئس عدالتوں میں بند ہونے والا مقدمہ نہیں کھل سکتا‘ غیر ملکی اثاثے صدر زرداری کے ہوں‘ یوسف رضا کے‘ نوازشریف یا شہباز شریف کے واپس آنے چاہئیں۔ وہ گذشتہ روز وقت نیوز کے پروگرام اگلا قدم میں اظہار خیال کر رہی تھیں‘ پروگرام کے پروڈیوسر میاں شاہد ندیم اور اسسٹنٹ پروڈیوسر وقار قریشی تھے۔ بےنظیر بھٹو نے جنرل مشرف کی ہر بات پر یس بولا ہوتا تو آج زندہ ہوتیں‘ بےنظیر بھٹو جنرل مشرف سے ہمکلام ہوئیں تو نوازشریف بھی واپس آئے۔ انہوں نے کہا میں آج بھی کرپشن کی مخالف ہوں مجھ پر الزام لگا ہوتا تو کابینہ کی رکن نہ رہتی‘ استعفے دے دیتی۔ بیگم عابدہ حسین نے ایک سوال پر کہا کہ اس وقت ملک میں ایک پارٹی کی نہیں بلکہ مخلوط حکومت ہے اور دیکھنے میں آیا ہے کہ مخلوط حکومتوں کو چلانے میں ابتدا میں بہت سی دقتیں پیش آئیں‘ بھارت میں بھی ایسا ہی ہوتا رہا ہے‘ وہاں یکے بعد دیگرے کئی مخلوط حکومتیں آئیں اور حکومتیں تسلسل کے ساتھ نہیں چل سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں بدقسمتی سے عوام ”کن‘ فیکون“ کے متلاشی رہتے ہیں اور جب ایسا نہیں ہوتا تو مایوسی ان میں جنم لینے لگتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) مخلوط حکومت میں شامل رہتی تو اتنی زیادہ دقتیں پیدا نہ ہوتیں۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ بی بی بےنظیر بھٹو شہید اگر زندہ ہوتیں تو حالات کچھ اور ہوتے‘ بی بی بےنظیر اپنی جان پر کھیل کر پاکستان آئیں اور اگر وہ نہ آتیں تو نوازشریف بھی واپس نہ آ سکتے‘ نوازشریف نے پہلے پاکستان آ کر دیکھ لیا تھا انہیں اسی طرح ایئرپورٹ سے واپس بھجوا دیا گیا تھا۔ بیگم عابدہ حسین نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا اپنے اداروں کے حوالے سے جو تجربہ ہے وہ تو بہت تلخ ہے کیونکہ ان کے سربراہ ذوالفقار علی بھٹو کو محض اعانت جرم کا کیس بنا کر پھانسی دے دی گئی۔ اب بےنظیر بھٹو کا خون ناحق نہیں جائے گا‘ انہوں نے کہا کہ مجھے اس بات پر حیرت ہے کہ اس بہادر خاتون کے خون کا پنجاب کے لوگوں نے صرف تین سیٹوں کے اضافہ سے جواب دیا۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ سوئٹزر لینڈ کے قانون کے مطابق اگر کوئی مقدمہ ایک مرتبہ ختم ہو جائے یا بند کرا دیا گیا وہ دوبارہ نہیں کھل سکتا۔ انہوں نے خارجہ پالیسی کے حوالے سے سوال پر کہا کہ ہمیں اس بات کو نظرانداز نہیں کرنا چاہئے کہ سعودی عرب پر امریکہ کا مکمل کنٹرول ہے وہ کبھی امریکہ کے خلاف بات نہیں کر سکتا لیکن ہم سعودی عرب کو مقدس سمجھتے ہیں اور امریکہ کے خلاف بات کرتے ہیں۔ بالواسطہ طور پر امریکہ پاکستان سے اپنی بات سعودی عرب کے حوالے سے منوانے کی پوزیشن ہے۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions