لاہور (رپورٹ سلمان غنی) پنجاب حکومت نے ملازمتوں میں پیپلز پارٹی کیلئے کسی کوٹہ کو بوجوہ مسترد کیا ہے اور اسے پارلیمانی پارٹی اور اپنے دیگر اتحادیوں کے اس فیصلے کو بنیاد بنایا ہے جس میں سب نے ملکر وزیراعلیٰ کو باور کرایا تھا کہ اگر وفاقی حکومت ہمیں ملازمتوں میں اکاموڈیٹ نہیں کریگی تو پھر پنجاب کی سطح پر بھی پیپلز پارٹی کے اراکین کو اکاموڈیٹ کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ پنجاب حکومت کے ذمہ دار ترین ذرائع کے مطابق چھ ماہ قبل وزراءکی کوآرڈینیشن کمیٹی میں جب پیپلز پارٹی نے ملازمتوں میں کوٹہ کا مطالبہ کیا تو انہیں کہا گیا کہ وفاق میں خصوصاً واپڈا اور ریلوے میں نوکریوں کی تعداد پنجاب کے تمام شعبہ جات سے زائد ہے۔ لہٰذا یہاں پر مسلم لیگ (ن) کے اراکین کو بھی اکاموڈیٹ کیا جائے جس پر کمیٹی کے وزراءنے مسلم لیگ (ن) کو یقین دہانی کرائی تھی کہ اس پر وفاقی حکومت سے بات کرینگے۔ بعدازاں بار بار یاددہانی پر اس جانب سے کوئی مثبت جواب نہ آیا۔ حالیہ پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر مسلم لیگ (ن) اور اسکی اتحادی جماعتوں کے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں تمام اراکین نے وزیراعلیٰ شہبازشریف کے سامنے ہاتھ کھڑے کرکے یہ اعلان کیا تھا کہ اگر وفاقی حکومت ہمیں اکاموڈیٹ کرنے کو تیار نہیں تو پھر پنجاب حکومت کو بھی پیپلز پارٹی کو اکاموڈیٹ کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ لہٰذا اب سینئر وزیر راجہ ریاض کی جانب سے نوکریاں نہ ملنے پر حکومت چھوڑنے کی دھمکی پر وزیر قانون رانا ثناءاللہ کا کہنا تھا کہ یہ درست ہے کہ ہماری پارلیمانی پارٹی نے پیپلز پارٹی کو نوکریوں کا کوٹہ دینے کا اقدام یکستر مسترد کیا ہے لیکن پھر بھی وزیراعلیٰ شہبازشریف مخلوط حکومت میں پیپلز پارٹی کی موجودگی کا احترام کرتے ہوئے انہیں کسی حد تک اکاموڈیٹ کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کی جانب سے کوٹہ کی بات کا کوئی لاجک نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ کوآرڈینیشن کمیٹی میں پیپلز پارٹی کے وزراءنے ہمیں یقین دہانی کرائی تھی کہ وفاقی حکومت ہمارے اراکین کو بھی نوکریوں میں اکاموڈیٹ کریگی اور ہم نے اپنے اراکین کو اس حوالے سے اعتماد میں لیا تھا لیکن مہینوں گزر جانے کے بعد جب اس جانب سے کوئی مثبت جواب نہ آیا تو پھر ہمارے اراکین نے بھی حکومت پر دباﺅ ڈالا کہ انہیں بھی یہاں اکاموڈیٹ نہ کیا جائے۔ رانا ثناءاللہ نے واضح کیا کہ یہ نوکریاں صرف گریڈ 4 تک ہیں‘ اس سے اوپر کی تمام تقرریاں میرٹ پر ہوں گی۔ دوسری جانب پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے ایک اور ذمہ دار نے نوائے وقت سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ گورنر راج کے خاتمہ کے بعد پیپلز پارٹی کو باور کرا دیا گیا تھا کہ گورنر راج کے نفاذ کے بعد مخلوط حکومت کی ذمہ داری سے ہم آزاد ہوچکے ہیں لہٰذا اب پیپلز پارٹی کی دوبارہ پنجاب حکومت میں شمولیت مشروط نہیں‘ غیرمشروط ہوگی اور کسی کوٹہ کی بنیاد پر نہیں بلکہ میرٹ پر فیصلے کرینگے لہٰذا سینئر وزیر دھمکی دینے کی بجائے اپنے اس فیصلہ اور عمل پر غور کریں جس کی بنیاد پر وہ گورنر راج کے بعد پنجاب حکومت میں شامل ہوئے تھے۔ مذکورہ ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت کا اصولی فیصلہ ہے کہ گورننس اور میرٹ کے حوالے سے کوئی دباﺅ برداشت نہیں کرینگے۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی کے ذمہ دار ذرائع کا کہنا ہے کہ سینئر وزیر راجہ ریاض نوکریوں کے کوٹہ کے ذریعے اپنے اراکین میں اپنی پوزیشن کی بحالی چاہتے ہیں جبکہ حقیقت یہی ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے نوکریوں کے معاملہ میں ان کا مطالبہ پورا نہیں کرنا۔ پارٹی کے تنظیمی ذمہ دار کے مطابق ہمیں نوکریوں میں الجھنے کی بجائے اپنی سیاست کو مضبوط بنانے کی فکر کرنی چاہئے۔ مذکورہ ذرائع کا کہنا ہے کہ تعلق بوجھ بن جائے تو اسکا توڑنا اچھا۔ نہ جانے ہماری قیادت کو کیوں سمجھ نہیں آرہی۔
Post New Comment