رحمن ملک تارکول ریفرنس سے بری‘ مزید فیصلے بھی حق میں ہوں گے: وزیر داخلہ

ـ 5 مارچ ، 2010
  • Adjust Font Size

کراچی (آئی این پی + اے این این) احتساب عدالت نے ناکافی شواہد کی بنا پر وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک کو بدعنوانی کے ریفرنس میں بری کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز کراچی کی احتساب عدالت میں تارکول کیس کی سماعت کے دوران رحمن ملک کے وکیل خواجہ نوید احمد نے موقف اختیار کیا کہ رحمن ملک پر بدعنوانی کا مقدمہ سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا تھا۔ وہ شہید بےنظیر بھٹو کے قریبی ساتھی تھے اور انہوں نے ان کا ساتھ چھوڑنے سے انکار کیا تو ان پریہ مقدمہ بنا دیا گیا لہٰذا یہ مقدمہ جھوٹ اور بدنیتی پر مبنی ہے انہیں رہا کیا جائے۔ جس پر عدالت نے ناکافی شہادتوں کی بنا پر رحمن ملک کو بری کر دیا۔ احتساب عدالت کے باہر صحافیوں سے گفتگو میں رحمن ملک نے بریت پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج تک ان پر جتنے مقدمات بنائے گئے ان میں سے بدعنوانی کا کوئی نہیں اور سب کا تعلق اختیارات سے تجاوز کرنے سے ہے۔ رحمن ملک نے کہا کہ ان کے خلاف سیاسی بنیادوں پر مقدمات بنائے گئے اور باقی مقدمات میں بھی فیصلہ ان کے حق میں ہی آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کے چیئرمین نیب سیف الرحمن نے انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا۔ رحمن ملک نے کہا کہ ان کے خلاف سیف الرحمن کو جب مقدمات بنانے کا کوئی جواز نہیں ملا تو انہوں نے فون کا ایکسٹنشن لگانے اور گاڑی کا پٹرول زیادہ استعمال کرنے جیسے مقدمات بنا دئیے۔ رحمن ملک نے کہا کہ کوئی بھی صوبہ رینجرز کی خدمات حاصل کرنے کےلئے وفاق سے رابطہ کر سکتا ہے۔ سندھ حکومت کو ضرورت پڑی تو قیام امن کےلئے رینجرز طلب کریں گے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ایران سے گرفتار ہونے والے عبدالمالک ریگی کو قومی شناختی کارڈ کے جاری ہونے سے متعلق تمام خبریں بے بنیاد ہیں۔ رحمن ملک نے کہا ہے کہ بلدیاتی الیکشن شفاف ہوں گے۔ ایم کیو ایم، اے این پی اور پاکستان پیپلز پارٹی متحد ہیں۔ رحمن ملک نے کہا کہ حکومت پرویز مشرف کے دور میں ملنے والے مسائل کا ملبہ سلجھا رہی ہے‘ حکومتی اتحاد میں جھگڑے کے حوالے سے بدخواہوں کو مایوسی ہو گی‘ فرقہ واریت پھیلانے کی سازش ناکام بنا دیں گے۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions