اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت + مانیٹرنگ نیوز) سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ اب کرپشن چھپانا ممکن نہیں‘ موجودہ جمہوریت چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری کی مرہون منت ہے‘ میں نے 3 نومبر کو چیف جسٹس آف پاکستان بننے کی پیشکش قومی مفاد میں ٹھکرا دی‘ اداروں اور اعلیٰ افسران کا رویہ تبدیل ہونے تک ازخود نوٹس لینے کا اقدام جاری رہے گا یہ کسی کے اختیارات میں مداخلت نہیں‘ سپریم کورٹ قانون ساز ادارہ نہیں یہ کام پارلیمنٹ کا ہے‘ ججوں کی تقرری کا معاملہ پارلیمنٹ کو حل کرنا ہو گا۔ ذاتی اور قومی مفاد میں لکیر کھینچنا ہو گی‘ پارلیمنٹ قوانین آسان بنائے تو زیر التوا مقدمات میں کمی ہو سکتی ہے‘ کرپشن بڑھ رہی ہے‘ غریبوں کا گھر نیلام جبکہ امرا کے اربوں کے قرضے معاف کر دئیے جاتے ہیں‘ آئی ایس آئی سے فنڈز لینے سے متعلق پٹیشن صرف ایک ادبی مباحثہ ہی ہو گی۔ ٹی وی پر پولیس کی چھترول دیکھی تو پولیس میں جانے کا شوق ختم ہو گیا اگر چھترول پر ایکشن لیا تو ارباب اختیار کہیں گے کہ عدالت عظمیٰ مداخلت کر رہی ہے۔ احتساب کا عمل م¶ثر نہیں رہا‘ پٹواریوں اور تحصیل داروں کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے اور اصل شخصیات کو سامنے نہیں لایا جاتا۔ یہاں نیشنل مینجمنٹ کورس کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئین اور قانون کے مطابق اختیارات کا استعمال نہیں ہو گا تو پھر عدلیہ کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ وہ ازخود نوٹس لے۔ جب تک عوام کو ان کے حقوق ملنا شروع نہیں ہو جاتے ان کے مفاد میں یہ سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نہ صرف غریب عوام اپنے حقوق کے لئے پریشان ہیں بلکہ اعلیٰ بیوروکریٹس نے بھی اب سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے جن کے مقدمہ کا فیصلہ محفوظ ہے‘ جب معاشرے میں اعلیٰ افسران اپنے حق کے حصول کے لئے عدالت آنے پر مجبور ہوں گے تو عوام کا کیا حال ہو گا۔ انہوں نے کہا عدالت عظمیٰ کسی فرد کو نہیں بلکہ اپنے سامنے 4 بنیادی اصولوں کو مدنظر رکھ کر اقدامات کر رہی ہے‘ ان رہنما اصولوں میں آئین کی بالادستی‘ قانون کی حکمرانی‘ جمہوری نظام کی حفاظت اور اداروں کو مضبوط بنانا ہے‘ یہ بات پوری وضاحت سے ذہن نشین کر لی جائے کہ کوئی ایسا اقدام نہیں کیا جارہا جو کسی ایک شخصیت سے متعلق ہو‘ تمام اقدامات سسٹم کو بچانے کے لئے کر رہے ہیں جو ریاستی اداروں کے عوام کی دادرسی اور ان کی تکالیف و مسائل کے ازالے اور حل میں ناکامی کے باعث تباہی کے دھانے پر پہنچ چکا ہے‘ ہمیں اداروں کو مضبوط بنانا ہے اور مسائل کے حل کے لئے من حیث القوم اللہ کے خوف کے ساتھ دیانتداری‘ خلوص نیت اور لگن سے اپنے اپنے حصے کا کام کرنا پڑے گا تب ہی ایک بڑی تبدیلی آسکتی ہے۔ ازخود نوٹس کے عدالتی اختیار کے استعمال کے اچھے نتائج آئے ہیں‘ یہ اختیار استعمال کرتے رہیں گے‘ جب دیگر ادارے اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام ہو جائیں تو پھر ازخود نوٹس کے تحت عدالتی اقدام پر یہ اعتراض کرنا درست نہیں کہ عدالت مداخلت کر رہی ہے۔ انہوں نے شرکا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ قوم بیوروکریسی‘ پولیس اور محکمہ مال کے اعلیٰ افسران سے بڑی امیدیں وابستہ کئے ہوئے ہے‘ آپ کو غیر قانونی اقدامات میں حکومتوں کا آلہ کار بننے کی بجائے اپنی ذمہ داریاں آئین اور قانون کے مطابق انجام دینا چاہئیں۔ انہوں نے بلوچستان حکومت کے خلاف ایک مقدمہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے گوادر میں ہسپتال بنانے کا اعلان کیا لیکن بعد میں معلوم ہوا وہاں تو زمین ہی نہیں ہے‘ ہزاروں ایکڑ اراضی کی موجودگی میں یہ بات معلوم کی گئی تو عدالت کے علم میں لایا گیا کہ ساری اراضی سیاستدانوں‘ جرنیلوں اور لینڈ مافیا میں تقسیم کر دی گئی‘ قومی اراضی کی اس بے دریغ لوٹ مار پر جب عدالت نے ازخود نوٹس لیا تو اس وقت کے وزیر اعلیٰ نے مجھے ایک خط لکھا جو آج بھی ریکارڈ پر ہے کہ اعلیٰ ججوں کے لئے 50 پلاٹ الاٹ کر دئیے ہیں آپ لے لیں‘ میں نے انکار کیا اور کہا یہ ریاست کی زمین ہے اس پر پاکستان کے غریب عوام کا حق ہے‘ یہ صرف گوادر کا مسئلہ نہیں ملک میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں۔ انہوں نے افسران سے کہا بورڈ آف ریونیو کے افسران وزیر اعلیٰ پر واضح کر سکتے تھے کہ وہ زمین کی اس طرح بے دریغ الاٹمنٹ میں ان کے احکاما ت پر عمل درآمد نہیں کر سکتے بلکہ انہوں نے ایسا نہ کیا کیونکہ اُن کا بھی اس میں حصہ تھا‘ کیا ایسی سماجی اقدار میں ہم ترقی کی منازل طے کر سکتے ہیں‘ کرپشن‘ اختیارات کا ناجائز استعمال پسند اور نہ پسند کی بنیادوں پر لوگوں کے حقوق غصب کئے جائیں گے تو سپریم کورٹ کے پاس اختیار ہے کہ وہ نوٹس لے۔ ایک ادارہ شفاف طریقہ سے کرپشن کی روک تھام کے لئے سارے اقدامات کو دیکھ رہا ہے تو اُسے دائرہ اختیار میں مداخلت نہ سمجھا جائے۔ انہوں نے کہا غریب آدمی مکان کی تعمیر کے لئے ہا¶س بلڈنگ سے 50 ہزار کا قرضہ لیتا ہے تو عدم ادائیگی کی صورت میں اُس کا مکان نیلام کر دیا جاتا ہے لیکن اربوں روپے کے قرضے معاف کئے گئے۔ ان حالات میں سپریم کورٹ کے پاس کیا جواز رہ جاتا ہے کہ وہ نوٹس نہ لے۔ ہمارے ملک میں کرپشن بہت بڑا مسئلہ ہے اور یہ دن بدن بڑھتی جا رہی ہے‘ اس مسئلے کو حل کرنے کی اشد ضرورت ہے‘ ان حالات میں کرپشن کے خاتمہ کے لئے احتساب کے حوالے سے قائم فورم بھی کوئی متاثر کن کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر رہے‘ صاحب اختیار جو کرپشن کے خاتمہ کے لئے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں وہ بھی نظر نہیں آتے‘ میڈیا اپنی ذمہ داری احسن طریقہ سے انجام دے رہا ہے لیکن کرپشن اور بدعنوانی کو میڈیا تنہا کنٹرول نہیں کر سکتا‘ قوم کو مجموعی طور پر کردار ادا کرنا چاہئے‘ ہمارے وسائل موجود ہیں لیکن ان کو استعمال نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے افسران سے کہا رزق حلال میں جو اطمینان ہے وہ کسی اور شے میں نہیں‘ ذاتی مفاد کو ملکی مفاد پر ترجیح نہ دیں گذشتہ روز پنجاب پولیس کے اہلکاروں کی جانب سے گرفتار ملزموں پر چھترول کے واقعہ پر انہوں نے کہا مجھے یہ دیکھ کر پہلی مرتبہ اپنی خواہش پر اطمینان ہوا کہ میں پولیس میں نہ جا سکا‘ چھترول کے طریقہ پر انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا اب نئے طریقے بھی آ چکے ہیں‘ پولیس کے اس اختیار پر سپریم کورٹ نے کارروائی شروع کی تو ارباب اختیار کہنا شروع کر دیں گے کہ سپریم کورٹ نے اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کیا ہے۔ ججز کی تقری کے مسئلے پر شرکا کی جانب سے سوال پر انہوں نے کہا یہ مسئلہ پارلیمنٹ کو طے کرنا چاہئے کہ کس کو جج بنانا ہے‘ اس وقت جج کے معیار کے لئے جو طریقہ کار رائج ہے اس کے مطابق ایک مناسب وکیل کو ہائیکورٹ کا جج لگایا جاتا ہے۔ قومی عدالتی پالیسی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہرممکن کوشش کی جا رہی ہے کہ مقدمات جلد نمٹائے جائیں‘ یہ کام مخلصانہ کوششوں کے ذریعے پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ مقدمات کی جلد سماعت عدالت ہی کی ذمہ داری نہیں بلکہ ا س میں دیگر فریقین پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہہے۔ عدلیہ بحالی تحریک کے بعد وکلا کی جانب سے عدالتوں کی حدود میں پولیس اور میڈیا پر تشدد کے واقعات کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ جہاں تک وکلا تحریک کی بات ہے تو دنیا میں اس کی مثال نہیں‘ وکلا کی اکثریت قوانین کا احترام کرتی ہے مگر چند وکلا شر انگیزی میں ملوث ہو سکتے ہیں اور ان کے احتساب کا اختیار بار کونسل کے پاس ہے تاہم ایسے اقدام کی روک تھام کے لئے سپریم کورٹ سوچ بچار کر رہی ہے۔
Post New Comment