ملک میں آئے روز پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے زراعت کی پیداواری شرح میں سالانہ گیارہ فی صد کمی ہو رہی ہے ۔

ـ 4 مئی ، 2010
  • Adjust Font Size

ایک رپورٹ کے مطابق زراعت کے شعبے میں سالانہ تین ارب لیٹر ڈیزل استعمال ہوتا ہے ، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث کسانوں کو اس مد میں اربوں  روپے اضافی خرچ کرنا پڑیں گے ۔ دوسری جانب ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے یوریا بوری کی قیمت میں سو روپے سے زائد کا اضافہ ہو گیا ہے جس کے بعد اس کی قیمت آٹھ سو پچاسی روپے تک جا پہنچی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق زراعت کی پیداواری شرح میں کمی سے مستقبل میں ملکی خوارک کی ضروریات اور زراعت کے برآمدی آرڈر بھی متاثر ہو سکتے ہیں ۔ ڈیزل مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے باعث صرف پنجاب میں زرعی شعبہ سے منسلک افراد پر پینتیس ارب روپے کا اضافی بوجھھ پڑے گا اور زرعی اجناس کی قیمتوں میں پچاس روپے سے چار سو روپے من اضافہ ہوگا ۔ ادھر گندم خریداری کی جاری مہم میں بیس لاکھ ٹن گندم سو روپے من کم قیمت پر خریدی گئی ہے جس سے  کسانوں کو آٹھ ارب روپے کا نقصان ہو چکا ہے 

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions