سینٹ‘ قومی اسمبلی : پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کیخلاف اپوزیشن کا احتجاج‘ واک آﺅٹ

ـ 4 مئی ، 2010
  • Adjust Font Size

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی + خبر نگار) ایوان بالا میں اپوزیشن نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے واک آوٹ کیا۔ علامتی واک آوٹ کو ختم کرانے کیلئے قائد ایوان نیئر حسین بخاری گئے اور اپوزیشن کو منا کر واپس لے آئے۔ مسلم لیگ ن کے راجہ ظفر الحق نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر احتجاج کیا اور کہا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ سے ملکی معیشت تباہ ہو گئی ہے حکومت نے اس کے اثرات کو مدنظر نہیں رکھا آئی ایم ایف کے کہنے پر قیمتیں بڑھائی جا رہی ہیں اس سے معیشت بیٹھ رہی ہے حکومت فوری طور پر پٹرولیم مصنوعات میں اضافے کو واپس لے اس پر ہم ایوان سے واک آوٹ کرتے ہیں اس کے ساتھ ہی مسلم لیگ (ق)‘ جماعت اسلامی‘ مسلم لیگ (ن) کے ارکان نے علامتی واک آوٹ کر گئے۔ ادھر قومی اسمبلی میں بھی پاکستان مسلم لیگ ن نے پٹرولیم کی مصنوعات میں اضافہ کے خلاف ایوان سے واک آوٹ کر دیا۔ مسلم لیگ (ن) کے واک آوٹ کا ساتھ مسلم لیگ (ق) کے ارکان نے بھی دیا وہ ان کے ساتھ باہر چلے گئے۔ قائد حزب اختلاف چودھری نثار نے خطاب کرتے ہوئے کہا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ سے عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے حکومت نے تیل کی قیمتیں بڑھا دی ہیں راولپنڈی اسلام آباد میں پمپوں پر پٹرول دستیاب نہیں بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کے مقابلے میں پاکستان میں کئی گنا زیادہ وصول کیاجا رہا ہے حکومت نے 130 ارب روپے لوگوں کی جیب سے زبردستی نکالنے کا تہیہ کر رکھا ہے ملک اس صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا ہم حکومت کی عیاشی میں شامل نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس انداز حکمرانی کے خلاف ایوان سے واک آوٹ کرتے ہیں اس موقع پر وزیراعظم گیلانی ایوان میں موجود تھے وفاقی وزیر محنت و افرادی قوت سید خورشید شاہ اپوزیشن اراکین کو منا کر واپس لے آئے تاہم قائد حزب اختلاف چودھری نثار نماز مغرب کی ادائیگی کے لئے اپنے چیمبر میں چلے گئے اور وزیراعظم نے قائد حزب اختلاف کی عدم موجودگی میں خطاب کیا۔ چودھری نثار نے کہا حکومت نے 2برسوں میں عوام کو مصیبتوں کے علاوہ کچھ نہیں دیا۔ اس کی شہرت گلی گلی پھیلی ہوئی ہے۔ بھاری بھرکم کتابچے چھاپنے سے حکومتی کارکردگی نہیں دکھائی جا سکتی‘ گلی کوچوں میں جاکر دیکھیں لوڈشیڈنگ‘ مہنگائی کا کیا حال ہے۔ بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے‘ پاکستانی وزیر خارجہ کیسے اسکے حق میں بیان دے سکتا ہے؟ انقلاب پاکستان کی دہلیز پر دستک دے رہا ہے ائر کنڈیشنڈ دفاتر میں بیٹھ کر فیصلے نہیں دیئے جا سکتے 18ویں آئینی ترمیم کی منظوری اور خیبر پختونخوا پر جشن منانے کی بجائے عوام کے مسائل حل کرنے کی طرف توجہ دی جائے۔ حکومت نے دوسالہ کارکردگی پر رپورٹ شائع کرائی ہے حکومت کی کارکردگی وہ ہوتی ہے جو نظر آئے آزاد میڈیا حکومت کی کارکردگی کا صحیح جائزہ پیش کر رہا ہے سرکاری میڈیا طوطا کہانی سناتا ہے۔ وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات کی کتاب میں حکومت کی کارکردگی دیکھنے کی بجائے پاکستان کے گلی کوچوں میں دیکھنی چاہئے بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ‘ مہنگائی یہ سب کچھ حکومت کی کارکردگی کے زمرے میں آتا ہے‘ پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا حکومت نے قومی اسمبلی کے اجلاس کا کوئی شیڈول نہیں بنایا پہلے بتایا گیا کہ اجلاس 26اپریل 2010 ء کو ہو گا پھر کہا گیا کہ 29اپریل کو بلایا جا رہا ہے بعد ازاں تین مئی کو اجلاس طلب کر لیا گیا اور بتایا گیا کہ یہ اجلاس پندرہ روز تک جاری رہے گا اس کے بعد کہا گیا کہ اجلاس میں بجٹ سیشن بھی شامل ہوگا۔ مادر پدر آزادی کو استعمال کیا جا رہا ہے گویا کوئی اصول و ضابطہ کی بات نہیں کی جا رہی۔ انہوں نے کہا ہم بھی اٹھارہویں ترمیم کے گن گاتے تھے لیکن اب ایک سمت کا تعین ہونا چاہئے اٹھارہویں ترمیم کی منظوری کے بعد عوام کے مسائل حل ہونے چاہئیں‘ حکومتی کارکردگی کے لئے کتابچوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا سپیکر و ڈپٹی سپیکر نے وزارتوں کے سیکرٹریوں کی موجودگی کے احکامات جاری کئے لیکن ان احکامات پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ آئین میں اٹھارہویں ترمیم کی منظوری کے بعد حکومت نے ڈیفنس ہاوسنگ اتھارٹی کا آرڈیننس ایک بار پھر جاری کیا یہ آرڈیننس دسویں بار جاری ہو چکا ہے یہ قانون آئین و قانون کے خلاف ہے جنرل پرویز مشرف کا 2005 ء میں مسلط کیا ہوا آرڈیننس ہے آرڈیننس پڑھنے کے بعد فیصلہ کریں کہ ہم حقیقی جمہوریت کی طرف جا رہے ہیں یا پھر جنرل پرویز مشرف کی پالیسی چلا رہے ہیں؟ جنرل کیانی فوج کے معاملات کو صحیح سمت میں چلانا چاہتے ہیں لیکن فوج میں ایسے لوگ موجود ہیں جو اسے جنرل مشرف کی طرح چلانا چاہتے ہیں۔ ہم فوج کا ہر لحاظ سے احترام کرتے ہیں جنرل کیانی نے جو سمت مقرر کی ہے اس سے پاکستان کی فوج کو لوگوں میں عزت و احترام ملا ہے جنرل مشرف کے دور میں تو فوج کے افسران و جوانوں کو پاکستان کے گلی کوچوں میں وردی پہن کر جانے سے منع کیا جا رہا تھا۔ ڈیفنس ہاوسنگ اتھارٹی کا قانون نافذ کرنے میں موجودہ حکومت بھی اس گناہ میں برابر شریک ہے ریاست کے اندر ریاست بنائی جا رہی ہے ڈی ایم اے کی وجہ سے لوگ قتل کئے گئے اب بھی مقدمات چل رہے ہیں انہوں نے کہاکہ ایسے شخص کو رہا کرانے کے لئے پانچ ہزار جرائم پیشہ افراد کی سزائیں معاف کردی گئیں انہوں نے کہا کہ ایوان میں لیبر پالیسی زیر بحث لائے بغیر اس کا اعلان کر دیا گیا۔ ایوان کے اندر فیصلے ہونے چاہئیں ہفتے میں دو دن تعطیلات سے ملک کو کوئی فائدہ نہیں آٹھ بجے تک دکانیں کھلے رکھنے کا حکم کس کیلئے دیا گیا ہمارے دور میں گھڑیاں ایک گھنٹہ آگے کرنے کی تجویز پیش کی گئی کہ اس سے 300 میگاواٹ بجلی کی بچت ہوگی میں نے اس کی مخالفت کی بیورو کریسی ہوائی منصوبے بنا کر دے دیتی ہے وزیراعظم کو دوبارہ گھڑیاں ایک گھنٹے آگے کرنے کی تجویز پیش کی گئی یہ ناقابل قبول ہے عوام کو روز روز کنفیوز کیا جا رہا ہے‘ حکومت عوام کے مسائل حل کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرے تو ہم حکومت کا ساتھ دیں گے لیکن موجودہ انداز سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر بجلی کے نرخوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے اگر یہی انداز حکمرانی جاری رہا تو پھر ایوان کا کوئی فائدہ نہیں اسے گھر بھجوا دیا جائے عوام کی نمائندگی کرنے والے امن چین کی بانسری نہیں بجا سکتے۔ انہوں نے کہا این آر او پر فیصلے پر عملدرآمد پر حکومت راہ فرار اختیار کر رہی ہے ایسا احتساب قانون لانے کی کوشش کی جارہی ہے جس میں نیک نیتی سے کئے جانے والے کسی شخص کی گرفت نہیں کی جا سکے گی جب محترمہ بےنظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے لئے قرارداد لائی جا رہی تھی تو میں نے سپیکر چیمبر میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا سو ملین ڈالر خرچ کر کے ہم نے یو این او کی تحقیقات سے کیا کھویا کیا پایا۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions